تازہ تر ین

متنازعہ شہریت قانون کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں 10ہزار درخواستیں دائر

نئی دہلی‘ممبئی‘ بنگلور‘ اترپردیش‘ بہار(نیٹ نیوز) بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے اور بھارتی سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف درخواستوں کے ڈھیر لگ گئے، لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کو شہریت قانون کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر اوسط 200 درخواستیں بذریعہ ڈاک موصول ہو رہی ہیں۔شہریت قانون، این آر سی کے خلاف تقریبا 10 ہزار درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، ہزاروں درخواستیں پراسس کرنے سے سپریم کورٹ کا عملہ دباﺅکا شکار ہے اور اضافی وقت دینا پڑ رہا ہے۔درخواستوں میں شہریت قانون کو غیر قانونی، بنیادی کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے کالے قانون کے خلاف احتجاج نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، شاہین باغ میں جہاں خواتین کے احتجاج کو ایک ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے، وہیں ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں ایک لاکھ کے قریب افراد کشتیوں کے ذریعے مظاہرے میں شریک ہوئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف جگہ جگہ احتجاج، وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مقامات پر مظاہرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے لگا، دلی کے علاقے شاہین باغ میں مسلم خواتین کا احتجاج مزاحمت کی مثال بن چکا ہے جہاں مظاہرین ایک ماہ سے زائد عرصے سے سراپا احتجاج ہیں، ان خواتین کا جذبہ دیکھ کر ریاست اتر پردیش اور بہار میں بھی خواتین کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے نکل پڑیں۔شاہین باغ میں مسلم خواتین سے اظہار یکجہتی کے لئے بھارتی پنجاب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ سیکڑوں سکھ اظہاریکجہتی کیلئے پہنچے جہاں انہوں نے مظاہرین کیلئےلنگر کا اہتمام کیا۔ ادھربھارتی ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں ایک لاکھ کے قریب افراد نے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا جس میں دور دراز علاقوں سے لوگ کشتیوں پر سفر کر کے پہنچے۔دوسری جانب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبا پر تشدد کے خلاف احتجاج ہوا جس میں سیکڑوں افراد کے ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کی صدر عاشی گھوش نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے دو یونین علاقوں میں تقسیم کرنے کے مودی حکومت کے اقدام کی شدیدمذمت کی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خطاب کے دوران عاشی گھوش نے جامعہ ملیہ میں جاری احتجاج میں شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب کیا۔ انہوںنے اس موقع پر کہاکہ ہمیں اپنی جدوجہد میں کشمیر کو نہیں بھولنا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ہم سے آئین کے تحت حاصل آزادیوں کو چھیننے کی حکومت کی سازش کا حصہ ہے ۔ بھارتی معروف سوشلسٹ لیڈر شرد یادو نے متنازع شہریت ترمیمی قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جنگل راج سے بھی براحال ہے اور غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور پولیس کا اتنا ظلم تو ایمرجنسی میں بھی نہیں ہواتھا۔نشریاتی ادارے کے مطابق سوشلسٹ لیڈر شردیادو نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز لکھنو¿میں گزشتہ دنوں متنازع شہریت ترمیمی قانون کےخلاف پرامن تحریک کے دوران گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس )کے سابق افسر ایس آر داراپوری ،سنسکرت کارکن دیپک کبیر ،صدف ناز اور ریاضی کے ٹیچر رہے پون امبیدکر کی حمایت میں پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔انھوں نے 19دسمبر کے واقعہ کی تفصیل بتائی اور جیل میں اپنے ساتھ غیر انسانی سلوک اوربدترین تشدد کی دردناک داستان سنائی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved