تازہ تر ین

آٹے کا بحران بے قابو ،چینی کی قیمت میں بھی 5روپے کلو اضافہ

لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ (نمائندگان خبریں) صوبائی دارالحکومت لاہورسمیت پنجاب کے ختلف اضلاع کی کئی اوپن مارکیٹوںمیں 10 اور 20 کلو کے آٹے کا تھیلا تاحال دستیاب نہیں جس کی وجہ سے عوام کی پریشانی تشویش میں بدلنے لگی ہے جبکہ عوام کا کہنا ہے کہ چکی کا آٹاانتہائی مہنگا ہونے کی وجہ ان کی پہنچ سے دور ہے ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی بھرپورکوششوںکے باوجودپنجاب میںجاری آٹے کے بحران کے اثرات زائل نہیں ہوسکے۔ لاہور سمیت دیگر اضلاع کی بعض اوپن مارکیٹوںمیں 10اور20کلو کے آٹے کا تھیلا دستیاب نہیں جس کی وجہ سے عوا م کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ دوسری جانب عوام کا کہنا ہے کہ کئی دکاندر ایک مقررہ حد سے زیادہ آٹا فروخت نہیں کررہے جس کی وجہ سے ان کی پریشانی تشویش میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ چکی کا آٹا 70روپے فی کلو ہونے کی وجہ سے ان کی پہنچ سے دور ہے ۔ دکانداروںکا کہناہے کہ ہمیں گزشتہ دوہفتوں سے آٹے کی سپلائی نہیں مل رہی اور ایک چھوٹے دکاندار کے پاس 20سے زیادہ تھیلے خریدنے کی استطاعت نہیںہوتی۔چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے انتظامی افسران کو چوبیس گھنٹوں میں آٹے کابحران ختم کرنے کا وقت دیدیا ،ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے بعض اداروں سے بھی مدد حاصل کر لی گئی ۔ ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب نے مسلسل تیسرے روز بھی اعلی انتظامی افسران کے اجلاس کی صدارت کی اور انہیں آٹے کا بحران ختم کرنے کے لئے 24 گھنٹے کا وقت دیدیا۔چیف سیکرٹری نے کی کہ افسران دفتر وں سے نکل کرفیلڈ میں جائیں ،ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لیں،صوبے میں سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز محکمہ خوراک اور صنعت کے ساتھ مل کر مصنوعی قلت کو ختم کریں ۔ ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری نے ہدایت کی ہے کہ لور ملوں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے،آٹے کی سپلائی بڑھانے کیلئے ملوں کوپوراکوٹہ استعمال کرنے کا پابند کیا جائے،محکمہ خوراک کے تمام گوداموں میں سٹاک کو چیک کیا جائے۔صوبہ خیبر پختونخوا میں آٹے کا کوئی بحران نہیں اور بعض ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اپنے مفاد کیلئے مصنوعی بحران پیدا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جا نب سے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری کاروائیاں عمل میں لائی جائیں۔ ان خیالات کا اظہارصوبائی حکومت کے ترجمان اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس ٹاک کے دوران کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کی منظوری ہو چکی ہے جو کہ جنوبی اضلاع کے لیے موجودہ حکومت کا ایک تحفہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لفٹ کینال کے دیرینہ مطالبے کو سی پیک کا حصہ بنا دیا گیا ہے جس کی تکمیل سے خطے میں خوشحالی آئیگی ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30سال کے دوران غریب عوام کا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا گیا یہاں تک کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو ملک معیشت کے لحاظ سے دیوالیہ کے دہانے پر تھا مگر وزیر اعظم عمران خان کے وژن اور شبانہ روز کاوشوں کے نتیجے میں آج ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور ملک کی عزت اور وقار میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اس بات کی بین الاقوامی سطح پر تائید کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشاءاﷲ جلد ہی ملک میں روزگار آسانی سے میسر ہو گا اور ملک میں خوشحالی آئے گی۔سندھ میں تیار ہونے والے آٹے کی بلوچستان کے راستے مبینہ طورپر افغانستان اسمگلنگ نے صوبے میں گندم اورآٹے کابحران کھڑا کردیاہے۔ اوپن مارکیٹ میں فی100کلوگرام گندم کی قیمت مزید8تا10روپے کے اضافے سے 6200تا 6500 روپے کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے، ذخیرہ اندوزوں نے گندم کے ذخائرچھپادیے ہیں اور تھوک بیوپاریوں نے گندم کی فروخت نئے خریداروں کے بجائے صرف اپنے پرانے اور جان پہچان کے حامل مستقل خریداروں تک محدود کردی، اس طرح گذشتہ ایک ہفتے میں اوپن مارکیٹ میں 100کلوگرام گندم کی قیمت میں مجموعی طورپر 1500 تا 1700 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ جوڑیا بازار میں آٹے کے ایک بڑے ڈیلرایچ ایم ندیم اسلام نے بتایاکہ کراچی سے یومیہ 100تا 150آٹے کے ٹرک بلوچستان کے راستے افغانستان اسمگل ہورہے ہیں جس پر آٹے کے تیارکنندگان کو فی بوری200روپے زائد منافع ہوتا ہے لیکن اس اسمگلنگ کی وجہ سے سندھ میں آٹے کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔انھوں نے بتایاکہ ذخیرہ اندوزوں نے کراچی اور اندرون سندھ کے خفیہ گوداموں میں گندم کے وسیع ذخائر چھپائے ہوئے ہیں جس کی نشاندہی کے لیے حکومت کی جانب سے انعام کے ساتھ اسکیم کا اعلان کیاجائے تویہ خفیہ ذخائر منظر عام پر آسکتے ہیں۔خیبرپختونخوا میں نانبائیوں کی ہڑتال کردی اور تندور بند کر دیئے ، ہڑتال کے باعث طلبہ اور ملازمین ناشتے کے بغیر سکولوں اوردفاتر میں جانے پر مجبور ہیں، حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیدیا ۔تفصیلات کے مطابق پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں نان بائیوں نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کرتے ہوئے تندور بند کردیے جس کے نتیجے میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔نان بائیوں نے آٹا مہنگا ہونے کے باعث روٹی کی سرکاری قیمت10 سے بڑھاکر 15روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن صوبائی حکومت نے روٹی اور نان کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نان بائیوں نے مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کردی اور پہلے مرحلے میں پشاور اور ہزارہ ڈویژن میں تندور بند کردیے ہیں۔ ہڑتال کے باعث طلبہ و طالبات اور سرکاری و نجی ملازمین کو روٹی سے ناشتہ کئے بغیر اسکول اور دفاتر جانا پڑا۔ادھر حکومت نے آٹا بحران پر قابو پانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ملک بھر میں آٹے کا بحران پیدا ہوگیا ہے جس کے باعث 45 روپے کلو والا آٹا 70 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved