تازہ تر ین

100چھوٹے کاروباروں پر ٹیکس ختم ،دکانداروں کو تنگ کرنیکی اجازت نہیں دینگے ،عمران خان

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی حکومت نے ملک میں 100مختلف طرح کے چھوٹے کاروباروں کیلئے لائسنس حاصل کرنے کی شرط ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں انہیں بریفنگ دی گئی کہ موجودہ لائسنس نظام میں کرپشن، شوت ستانی اورکاروباری افراد کو ہراساں کرنے کی شکایت عام ہے، چھوٹے درجے کے ڈیڑھ سو مختلف کاروباروں کے لیے میونسپل کارپوریشنز اور دیگر اداروں سے لائسنس درکار ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم نے پیچیدہ لائسنس نظام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کریانہ، کپڑا، کلچہ شاپ اور دیگر کےلئے لائسنس کی شرط مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے، ایسے غیر ضروری لائسنس کی شرط کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے عام آدمی کوریلیف دینے اور چھوٹے کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کاروباری اصلاحات کے تحت لائسنس نظام ختم کرکے خود کار نظام متعارف کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم نے مختلف ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کپاس کی اوسط پیداوار کی شرح میں واضح فرق پراظہارتشویش کرتے ہوئے سیڈ ایکٹ میں ترمیم اور کاٹن کمیٹی کی از سر نو تشکیل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے صوبائی وزرائے اعلی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ سے بھی مشاورت کے بعدانسپیکشن اور غیر ضروری سرٹیفکیٹس کے نام پر لیے جانے والے ٹیکسز کا نوٹس لیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کمیشن کو آبزرویشن بھیج دی ہیں۔عمران خان نے ہدایت کی کہ 15 چھوٹے کاروبار پر ٹیکس ختم کیا جائے اور صوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹ کمیشن کو ہدایات جاری کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ غریب کاروباری افراد کو بے جا تنگ نہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری سرٹیفکیٹس کے نام پر ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، چھوٹے دکانداروں کو پرسکون ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔وزیراعظم کی ہدایت کے بعد صوبائی حکومتیں متحرک ہو گئی ہیں جس کے بعد 15 قسم کے کاروبار کرنے والے چھوٹے دکانداروں پر غیر ضروری ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے اور 74 مختلف کاروبار پر انسپیکشن کی شرط بھی ختم کر دی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان تاریخ کی سب سے مشکل معاشی صورت حال سے نکل آیا ہے،1960ءکے بعد پہلی مرتبہ ہماری حکومت نے صنعتوں کی بحالی کو ترجیح دی، اس حکمت عملی سے روز گار کے مواقع میسر آئیں گے اور معیشت ترقی کرے گی، نوجوان طبقے کو اس کامیابی کو اجاگر کرنا چاہیے،کرپشن اور مافیا کو ختم کرنے کےلئے آ خری حد تک لڑائی جاری رکھوں گا، فاشسٹ مودی سرکار ہندوراشٹرا کے خواب پورا کرنے کے لیے امن اور خطے کی سلامتی کو داﺅ پر لگا رہی ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان سے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے وفد سے ملاقات کی ، اس دوران ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک نوجوان بھی موجود تھے۔معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری اور وزیراعظم عمرا خان کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد بھی موجود تھے ، ملاقات میں ملک کو درپیش چیلنجز، مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات، جدید دور میں میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا کا کردار و دیگر امور پر تبادلہ خیال جبکہ ڈیجیٹل میڈیا سیکٹر میں نوجوان نسل کےلیے موجود مواقع ، درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کپاس کی فصل ملکی معیشت اور مجموعی پیدوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے ، بدقسمتی سے ماضی میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور اس کے فروغ کے حوالے سے مختلف درپیش مسائل دور کرنے نئے بیجوں کی کاشت، ٹیکنالوجی کے فروغ، کاشت کے جدید طریقوں کو اپنانے اور کسانوں کی مالی معاونت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا، اس ٹیکسٹائل کی صنعت اور ملکی برآمدات متاثر ہوئیں۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں کپاس کی فصل کی پیداوار، کاٹن پالیسی اور کپاس کی فصل سے متعلق معاملات پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داو¿د، جہانگیر خان ترین، ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے کاٹن کے کاشت کار، ایکسپورٹرز، کاٹن کمیٹی ممبران شریک تھے ۔ اجلاس میں ملکی معیشت اور مجموعی پیداوار میں کپاس کی فصل کا شیئر، کاٹن کی پیداوار، کاٹن کی برآمدات و درآمدات کی صورتحال، ملک میں کپاس کی فصل میں پیداواری اضافے اور اس سے منسلک مختلف چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی فصل ملکی معیشت اور ملکی مجموعی پیدوار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے مختلف ملکوں میں کپاس کی پیداوار کی شرح اور ملک کی اوسط پیداوار میں واضح فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور اس فصل کے فروغ کے حوالے سے مختلف درپیش مسائل دور کرنے خصوصاً نئے بیجوں کی کاشت، ٹیکنالوجی کے فروغ، کاشت کے جدید طریقوں کو اپنانے اور کسانوں کی مالی معاونت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔ جس کا نتیجہ نہ صرف کسانوں کی بددلی اور پیداوار میں مسلسل کمی کی صورت میں برآمد ہوا بلکہ ٹیکسٹائل کی صنعت اور ملکی برآمدات متاثر ہوئیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کاشت کاروں، ایپٹما و دیگر متعلقین کے اشتراک اور مشاورت سے کاٹن کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کپاس کی فصل کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کو برو¿ے کار لانے کے حوالے سے چین کی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ کپاس کی فصل کے فروغ کے حوالے سے چین کے اشتراک سے ملتان میں سنٹر آف ایکسی لینس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، کپاس کی فصل کو پنک بال ورم سے بچانے کے لئے حکومت پرائم منسٹر ایمرجنسی پروگرام کے تحت پنک بال روپ ٹیکنالوجی درآمد کر رہی ہے۔یہ ٹیکنالوجی کسانوں کو نہایت سستی میسر آئے گی، چین کی معروف کمپنی سی ایم ای سی کی جانب سے بلوچستان میں کاٹن فارمنگ منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ اورصوبہ سندھ میں بھی کاٹن کی فصل کے فروغ کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کاشتکاروں کے مطالبے پر سیڈ ایکٹ میں ترمیم، سنٹرل کاٹن کمیٹی کی از سر نو تشکیل عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ سنٹرل کاٹن کمیٹی اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کر سکے اور شعبے میں جدید ریسرچ کو فروغ دیا جائے ، وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سیڈ ایکٹ میں ترمیم اور کاٹن کمیٹی کی از سر نو تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے۔ کاٹن کی سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ، وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور کامرس ڈویڑن کو ہدایت کی کہ سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کا جائزہ لیا جائے اور سفارشات پیش کی جائیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved