تازہ تر ین

پاکستان اور بھارت میں دوبارہ قائد اعظم کے دو قومی نظرئیے کی گونج،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں فتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ آٹے کا بحران بدانتظامی ہے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی ہے اور جب سے زراعت وفاقی حکومت سے چھینی ہے اور صوبوں کے پاس منتقل ہوئی ہے اس وقت سے خوراک صرف ان کے پاس رہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود حالات بہت خراب ہیں حتیٰ کہ عالم یہ ہے کہ پنجاب میں جو مختلف جگہوں پر غیر محفوظ گندم کی بوریاں پڑی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف 3 لاکھ ٹن گندم اور زیادہ منگوا لی گئی ہے اس کو آتے آتے 2 مہینے لگ جائیں گے اس وقت تک نئی گندم آنے والی ہو گی۔ آنے والی گندم بھی سہارا نہیں دے سکے گی ان کا بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم غیر سرکاری طور پر افغانستان کو بھیج رہے ہیں لاہور میں بیٹھ کر ہم اس کو سمگلنگ کہتے ہیں وہاں اسے تجارت کہتے ہیں وہاں چینی سائیکل اوررشین سامان بھی گزرتا ہوا نظر آتا ہے اور لوگ اسے تجارت کہتے ہیں۔ تجارت کے بہانے ہمارا غلہ مڈل ایسٹ تک جاتا ہے وسطی ترکستان تک جاتا ہے۔ افغانستان تک جاتا ہے اس کو بڑے بڑے سیاست میں جن کا بڑا بڑا نام ہے لہٰذا ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ فوج بتر فیصد کر سکتی ہے کہ پاکستان کو غذائی طور پر جوبدحالی سے بچانے کے لئے کتنا ضروری ہے کہ پاکستان کے بارڈرز کو سیل کرنا پڑے گا ہمارا ایک گندم کا ایک دانہ بھی باہر نہیں جانا چاہئے۔ بحران مصنوعی ہے یا غیر مصنوعی طور پر ہے بحران تو ہے۔ پچھلی حکومتوں کے سرکردہ لوگ جو تھے اور موجودہ حکومت میں شامل تھے اور بہت ساری جماعتیں اس بات پر خوش ہو رہی تھیں اس بات پر کہ غذائی قحط کی وجہ سے اور لوگ تنگ ہوں گے چنانچہ جتنے لوگ تالیاں بجا کر کہہ رہے ہیں پچاس سے 70 روپے تک چلا گیا ہے اور یہ 80 تک جائے گا اور آج ہی چینی 5 روپے کلو مہنگی ہو گئی ہے حالانکہ چینی اور آٹے کے جو کاروباری لوگ ہیں ان سب کی لسٹ بنا لیں۔ ایک طرف ارکان اسمبلی، سنیٹر اور صوبائی اسمبلی اور ان کے بھائی رشتہ دار ان کی طرف لسٹ بنا لیں۔ دوسری طرف لسٹ بنا لیں کہ چینی اور گندم کے جو کاروباری لوگ ہیں ان کے پیچھے کون سا مافیا ہے وہ سیاسی مافیا ہے اور یہ خود چاہتا ہے کہ اس قسم کے مصنوعی بحران پہلے پیدا کئے جاتے ہیں اب شور مچے گا اور اب 3 لاکھ ٹن گندم جو ہے وہ امپورٹ کرنے کی بات کی گئی ہے جبکہ ہم نے 33,32 روپے من گندم بیچی ہے اب وہ وہاں 70,60 روپے من باہر سے منگوائیں گے۔ کیا پاکستان کے چاروں صوبے اور وفاقی حکومت ہے جو سیکرٹری لوگ تھے افسر تھے جو اعداد و شمار جاننے والے لوگ کیا اندھے تھے، گونگے بہرے تھے کیا ان کو پتہ نہیں تھا کہ ہماری ضرورتیں کتنی ہیں اور کتنی دیر تک ہمیں گندم کی ضرورت ہو گی انہوں نے کیوں سستی گندم باہر بھیجی اب وہ مہنگی گندم کیوں باہر سے منگوا رہے ہیں۔ پاکستان میں دو چیزوں میں پیسہ ہے ایک پیسہ ہے چیزیں منگوانے میں اور ایک پیسہ ہے وہ چیزیں باہر بھیجنے میں۔ جو گندم باہر بھیجی گئی اس میں بھی پیسہ کھایا گیا۔ جب اس حکومت کو معلوم تھا کہ چاروں صوبوں اور وفاق کو معلومتھا کہ کتنی گندم درکارہے عمران کو کس نے مشورہ دیا تھا کہ یہ گندم کو سستے داموں باہر بھیج دیں۔ چینی کا تو گندم سے کوئی تعلق نہیں۔ چینی کے کارخانے والے ہوں یا گندم کا کاروبار کرنے والے ہوں سب کے پیچھے سیاسی لوگ ہیں۔ پچھلی حکومتوں نے سارا سال گندم کی قیمت کو کنٹرول کئے رکھا تھا لیکن اب اس کو خراب کر دیا ہے۔ اس بحران کی وجہ انڈیا، افغانستان میں اور وسط ایشیاءکی ریاستوں میں جو خوراک کی کمی ہے پاکستانی گندم وہاں جا کر مہنگے داموں بکنا ہے۔ اور اس کے ذریعے لوگوں نے پیسہ کمانا ہے لہٰذا یہ بات ذہن میں رکھ لیں کہ اس میں بنیادی بات سامنے آنی چاہئے کہ اس حال ہی میں ایک طرف تو یہ جوڑ توڑ شروع ہے کہ مختلف چھوٹے چھوٹے گروپ ہیں وہ اپنی قیمت بڑھا رہے ہیں حکومت کے ساتھ رہنے کے لئے کیونکہ لوگوں کو پتہ ہے کہ عمران خان کی حکومت بہت زیادہ واضح اکثریت کے ساتھ نہیں ہے لہٰذا اب ہر شخص زیادہ سے زیادہ مانگنے کی فکر میں ہے حتیٰ کہ خالد مقبول صدیقی صاحب نے جو استعفیٰ دیا تھا انہوں نے جو چاار مطالبات کئے تھے ان چار مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی رکھ دیا گیا ہے کہ جس طریقے سے کراچی میں رینجرز نے یہ ایم کیو ایم کے دفاتر ختم کروائے تھے جو ہسپتالوں، پارکوں میں، پبلک مقاما پر اور سکولوں کے درمیان میں موجود تھے وہ سارے کے سارے ختم کروائے گئے تھے میں نے خود پونے 3 سو دفاتر کی فہرستیں چھاپی تھیں کہ کس طریقے سے انہوں نے ان جگہوں پر قبضہ کیا ہوا تھا جناب خالد مقبول صدیقی نے صرف اس لئے مطالبہ کر دیا ہے کہ ہمیں ایم کیو ایم کے وہ دفاتر بھی واپس دیئے جائیں چنانچہ دوبارہ زبردستی انہوں نے رینجرز نے ان سے جگہیں واپس چھین کر حکومت کو دی تھیں وہ واپس لینے کے لئے مطالبہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مولانا فصل الرحمن کی طرف سے ایک واضح اعلان آ گیا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں یعنی پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے انہیں مایوسی ہوئی ہے لہٰذا اب چھوٹے گروپوں کو ساتھ ملائیں گے گویا دوسرے لفظوں میں وہ اے این پی کے جو لوگ تھے خیبر پی کے اور بلوچستان میں حاصل بزنجو اور اچکزئی کے گروپس کو ساتھ ملایا جائے گا اس طریقے سے قائداعظم کے دو قومی نظریے کے مخالف اکٹھے ہوتے جا رہے ہیں۔ جو خود انڈیا کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہنے کے خواہش مند لوگ تھے۔ اس وقت پاکستان کے حق میں انڈیا کے مختلف شہروں میں نعرے لگے ہیں محتلف علاقوں میں نعرے لگے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا مسلمان، یہاں کا عیسائی وہاں کا اچھوت اٹھ کھڑا ہو گیا ہے ہمیں دوبارہ لڑائی لڑنا پڑے گی۔ نعیم الححق کی قومی ڈائیلاگ کی بات پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ قومی ڈائیلاگ کلیئر کر دے گا کہ کون کون ہمارے ساتھ ہے اور کون کون کس نے کسی بہانے ہمارے خلاف ہے۔ کیا وہ لوگ جو لندن بیٹھ کر بھارتی شہریت مانگ رہے ہیں اور کراچی میں بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں دفاتر واپس جائیں۔کیا جو صفائی ہوئی تھی وہ واپس آ جائے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved