تازہ تر ین

بھارتی یوم جمہوریہ کشمیریوں کا یوم سیاہ ،بھارتی فائرنگ سے 3کشمیری شہید ،آسام میں 4دھماکے ،دنیا بھر میں مظاہرے ریلیاں

اسلام آباد/مظفرآباد/سری نگر/لندن (نمائندگان خبریں)حریت رہنماﺅں کی اپیل پر اتوار کو بھارتی نام نہاد یومِ جمہوریہ کو کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یومِ سیاہ کے طور پرمنا یا۔ دنیا بھر میں بھارت مخالف مظاہرےاور ریلیاں نکالی گئیں۔ ادھرمقبوضہ کشمیرکے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں مزید 3کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔قابض بھارتی فوجیوں نے ضلع کے ترال علاقے میں ہری پیریگام پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران نوجوانوں کو شہید کیا۔یوم سیاہ منانے کی کال حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے دی تھی جس کی تمام ازادی حامی جماعتوں نے حمایت کی تھی ،یوم سیاہ منانے کا مقصد دنیا کی توجہ کشمیر پر بھارت کے مسلسل قبضے اور کشمیریوں کوگزشتہ 73سال سے حق خودارادیت سے محروم رکھے جانے کی طرف مبذول کرانا تھا۔ اس موقع پرمقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی ۔بھارتی یومِ جمہوریہ پر قابض افواج نے مقبوضہ کشمیرکو فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا تھا، کشمیریوں کے احتجاج کے پیش نظر جگہ جگہ بھارتی فوجی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔سری نگرسمیت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کے پیش نظرسیکوٹی کے سخت کئے گئے تھے کرکٹ سٹیڈیم سونہ واری جہاں نام نہاد یوم جمہوریہ کی تقریب ہوئی جس کو چاورں طرف سے سیل کردیاگیا تھا جبکہ جگہ جگہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی میں اضافہ کیا گیا تھا ۔ کئی علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں اس دوران جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں سکیورٹی فورسز نے تین مجاہدین کو شہید کرنے کادعوی کیا جن میں جیش محمد کاقاری یاسر شامل بتایاجاتاہے جو گزشتہ سال کے پلوامہ حملے میں ملوث تھا۔ پولیس آرمی کے حکام نے بتایا کہ پلوامہ حملہ میں 40 سی آر پی ایف جوان ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم ضلع پلوامہ کے علاقے اوانتی پورہ میں بھارتی فوج نے داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے نام نہاد سرچ آپریشن کیا جس کے دوران قابض فوج نے فائرنگ کے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ واضح رہے کہ محض ایک ہفتے کے دوران قابض بھارتی کی فائرنگ سے شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے ا±دھر مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو مسلسل 175 ویں روز بھی سخت فوجی محاصرہ جاری رہا ۔ جبکہ عوام کی نقل وحرکت پرنظررکھنے کیلئے بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ،سخت سیکورٹی کے باوجود لوگوں نے یوم سیاہ منایا اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے ،یوم سیاہ کے موقع پر آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، دوسری جانب حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پرمسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے گذشتہ روز سے ریلیوں، سیمیناروں اورنمائشوں کے ذریعے ایک جامع مہم شروع ہوگئی ۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی ایک مہم شروع کی جائیگی جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بے نقاب کرنا ہے،دنیا بھرمیں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا اور مظاہرے کئے ،اس سال کشمیریوں نے ایک ایسے موقع پر یوم سیاہ منایا جب بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی اور بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کردیا اور اپنی فوج کی بھاری نفری کی تعیناتی اور کرفیو اور مواصلاتی بندش کو طول دیتے ہوئے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرلئے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے محاصرے کو 175دن ہو گئے، سرد موسم میں کشمیری مشکلات کا شکار ہیں، خوراک اور ادویات کی کمی نے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا۔وادی میں مکمل مواصلاتی بلیک آﺅٹ سے دنیا سب سے بڑے المیے سے بے خبر ہے۔ادھر برطانیہ میں بھارت کے متنازع شہریت بل اور مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاﺅن کے خلاف لندن میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ بزرگ حریت رہنما سیدعلی گیلانی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے قتل عام نے بھارتی جمہوریت کے حقیقی چہرے کوبے نقاب کر دیا۔ سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے دار ملک نے جمہوری آواز کا گلا دبا رکھا ہے۔ دیگرکشمیری رہنماو¿ں نے بھی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایک طرف تو بھارت اپنا یوم جمہوریہ مناتا ہے اور دوسری طرف کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر امریکا نے بھی شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے، معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ بغیر کسی الزام میں قید کشمیری قیادت کو جلد از جلد رہا کرے۔ ایلس ویلز نے امریکی سفارت کاروں کو مقبوضہ کشمیر میں باقاعدہ طور پر رسائی دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر احتجاجاً سیاہ غبارے بھی فضا میں چھوڑے گئے۔ اتوار کو بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طورپر منایا ۔ حریت کانفرنس کے زیراہتمام اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں حریت رہنماﺅں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر بھارتی مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنماﺅں نے کہا کہ مقبوضہ کمشیر میں بھارتی فوج کے لاک ڈاﺅن کو 175 دن سے زائد ہو چکے ہیں۔ بھارت کو یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق نہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ احتجاجی مظاہرے سے محمد فاروق رحمانی اور دیگر نے خطاب کیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved