تازہ تر ین

عمران خان کے ایک ہی وار سے 3صوبوں میں عدم اعتماد کی افواہیں دم توڑ گئیں،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ کسی ایک صوبہ کی ات نہیں ہے۔ پاکستان میں شور مچا ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کی بجائے صوبوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ سب سے پہلے کافی دیر سے عثمان بزدار کیخلاف ایک تحریک چل رہی ہے مسلم لیگ ق بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کے اتحادی ہیں۔ بار بار کہا جا رہا ہے کہ پرویز الٰہی صاحب اگلے وزیراعلیٰ ہیںاور ان کو یہ تقریباً طے ہو چکا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیں اسی طرح جام کمال کے بارے میں جو بلوچستان کے وزیراعلیٰ ہیں کہ سپیکر صاحب نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد شروعکر دی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بلوچستان کی حکومت بھی جا رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے 3 وزیر تبدیل کئے گئے۔ پتہ چلا کہ وہ وزیراعلیٰ کے خلاف سازش کر رہے تھے۔ ہمارے ہاں جب ایک طرف سے سکیم ناکام ہو جاتی ہے تو پھر دوسری طرف سے شروع ہو جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جو سکیم تھی جب کامیاب نہ ہوئی تو پھر آپ دیکھیں کہ صوبوں میں تبدیلی کی افواہیں چلنے لگیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوسری اور تیسری باتیں کرنے لگیں کہ فلاں صوبہ گیا اور ولاں صوبہ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جو ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کے استعفے کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ ایم کیو ایم بھی جا رہی ہے اور وفاقی حکومت بھی ڈانواں ڈول ہے۔ یہ ہمارے ہاں عام طور پر روزانہ چینلز جو ہیں وہ بالعموم سنسنی خیزی کو بہت اہمیت دیتے ہیں کہ فلاں کام ہونے والا ہے پھر اس کے متعلق محتلف کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ مجھے یہ پہلے سے اندازہ تھا دیکھیں حکومت کے پاس دینے کے لئے بہت کچھ ہوتا اور لینے والے ہوتے ہیں انہوں نے بھی بالعموم حکومتم سے ہی لینا ہوتا ہے اپوزیشن سے کچھ نہیں ملا کرتا جب یہ خبریں آئیں کہ وہ لاہور آ رہے ہیں اور وہ باقی جگہوں پر بھی داخل اندازی کر رہے ہیں اور یہ جو صوبوں میں جو حکومتوں کی تبدیلی کی افواہیں اس کا جو ستیا ناس ہو رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ واضح ہو گیا کہ کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ آپ کے پاس تینوں چیزیں ختم ہو گئیں ایک ہی وار سے خیبرپختون خوا، بلوچستان اوراس سے پہلے ایم کیو ایم کی کراچی کی اپوزیشن اور اب سے آخر میں بزدار صاحب کے بارے عمران خان نے کہا کہ وہ یہیں رہیں گے کہیں نہیں جائیں گے یہ صورت حال وقتی طور پر تو ختم ہو گئی ہے۔اس میں شک نہیں کہ کے پی کے 3 وزراءجو فارغ ہوئے ہیں وہ کوئی نہ کوئی ناراضگی کا اظہار کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ جو فوری صورتحال تھی وہ کم از کم تھم گئی اور وقتی طور پر تبدیلی اس کی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔سیاست میں ایسی باتیں آتی رہتی ہیں اوراس قسم کے واقعات اور خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ بالآخر حکومتیں عام طور پر حالات کو سنبھال لیتی ہیں۔ اس منفی خبروں کی وجہ سے، عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ چینلز ہوں یا اخبارات اس قسم کی سنسنی خیزی کو اہمیت دی جاتی ہے اور جو صحیح خبر ہوتی ہے مثال کے طور پر پچھلے دو ہفتے کی سب سے بڑی خبر وہ یہ ہے کہ چودھری سرور صاحب کی کوششوں سے انہوں نے پہلے بھی یورپی پارلیمنٹ میں پہلے بھی کوشش کی تھی اور پاکستان کے لئے تجارتی سہولتیں حاصل کی تھیں اب ایک بار پھر دوبارہ انہوں نے بہت بڑی نقب لگائی ہے۔ ہمارے ہاں مثبت خبروں کی بجائے منفی خبروں کی بات کی جاتی ہے اس لئے آپ یہ دیکھیں کہ یہ چھوٹی بات نہیں ہے کہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں کشمیر اور انڈیا کے شہریت بل کو ڈسکس کیا جا رہا ہے اور ان کے بارے میں ایک یا دو دن میں فیصلہ ہونے والا ہے۔ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں بڑا بولڈ فیصلہ کیا ہے۔ ایک بندے کو ہٹانا مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ 3 وزراءکو ہٹانا۔ ان کے ساتھ ضرور کچھ لوگ ہوں گے یہ خیبرپختونخوا حکومت کے لئے بڑا سیٹ بیک ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمن پہلے بھی پوری کوشش کر چکے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ دوبارہ اسلام آباد میں آنے کا راستہ اختیار کیا تو ایک بار پھر بہت بڑا کرائسس پیش آیا ہو گا۔پی ٹی آئی کے ناراض لوگ ایک دم مولانا کے پاس چلے جائیں گے۔ فارورڈ بلاک کا خطرہ ہمیشہ ہوتا ہے اور یہ ہر دور میں رہا ہے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ فارورڈ بلاک بن جائے۔ مثال کے طور پر ق لیگ والے بار بار کہتے ہیں کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ، کچھ شکایات ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم حکومت چھوڑیں گے اس کے باوجود ہر وقت چودھری پرویز الٰہی اگلا وزیراعلیٰ یہ کوئی چھ ماہ سے بات سن رہا ہوں۔ چودھری پرویز الٰہی سے میری اپنی بات بھی ہوئی ہے اور چودھری شجاعت سے بھی میری بات ہوئی ہے۔ اس قسم کی فوری بات نہیں ہے وہ بڑے صاحب کردار لوگ ہیں وہ کسی بھی طریقے سے مسلم لیگ ن کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے۔ عمران خان کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہر آٹھویں دسویں دن یہاں سے لندن چلے جاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ جنہوں نے ووٹ دینے ہیں وہ لندن میں بیٹھے ہیں چنانچہ یہ تینوں حضرات جو ہیں شہباز شریف سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ ہر دوسرے دن سنائی دیتا ہے فارورڈ بلاک بننے والا ہے حکومت ختم ہونے والی ہے۔ فارورڈ بلاک بھی نہیں بننا اور حکومت بھی ختم نہیں ہوتی۔ سیاست میں جوڑ توڑ ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حکومت آج گئی کہ کل گئی۔ جب چودھری سرور کو پہلی بار گورنر پنجاب بنایا گیا شہبازشریف صاحب کے دور میں یہ کہا تھا اور اس پروگرام میں کہا تھا کہ یہ بہت غلط انتخاب ہے چودھری سرور ایک مدت تک برٹش پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور ان کے تعلقات بھی یورپی پارلیمنٹ میں بہت ذاتی طور پر اچھے تعلقات ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ چودھری سرور کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جاتا تو اب تک وہ کافی کام کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ یورپ کے جتنے چھوٹے ممالک کی پارلیمنٹس میں بھی ان کا کوئی نہ کوئی اثرورسوخ موجود ہے۔ میںیہ سمجھتا ہوں کہ گورنر کے طور پر ضائع کرنا ایک لحاظ سے ان کا وقت ضائع کرنا ہے۔ اب بھی دیکھیں کہ انہوں نے اپنے دور میں پانی کا مسئلہ حل کیا اورجی ایس ٹی پلس کا درجہ دلوایا۔ اور پاکستان کے لئے سہولتیں حاصل کیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved