تازہ تر ین

قاری 16سالہ لڑکی لیکر بھاگ گیا ،سی سی پی او آرڈر کریں نہ ملے کیا مجال ہے،ضیا شاہد

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کوٹ لکھپت میں قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والی سولہ سالہ لڑکی فاطمہ کو بینک سٹاپ سے اس کے روحانی باپ قاری اعجاز اور اس کی اہلیہ شمائلہ نے اغوا کر لیا۔مغویہ کے بھائی عزیز الرحمان کی مدعیت میں پولیس نے مقدمہ و درج کیا تاہم ملزمان کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں لائی جا سکی قاری اعجاز جو بہاولنگر کا رہائشی ہے جب پولیس نے اسے ٹریس کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا بیس سے زائد سمز اس کے زیر استعمال ہیں اور قاری اعجاز روپوش ہے ۔لڑکی کے ورثاءکا کہنا ہے کئی کئی گھنٹے تھانے میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن کوئی بھی دادرسی نہیں کرتا، گزشتہ دنوں بھی مدرسے کی ایک نورین نامی لڑکی اغوا ہوئی تھی جسے سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے قبضے سے چھڑایا تھا کہیں ہماری بچی بھی تو کسی خطرناک گروہ کے ہتھے نہیں چڑھ گئی۔سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا کہ اگر سی سی پی او لاہور ڈی پی او بہاولنگر کو ایک فون کرے دیں تو قاری کی کیا مجال کہ ملے نہ یا پولیس قاری کو تلاش نہ کرے۔ہمارے بہاولنگر کے نمائندے سے کہا جائے اس شخص قاری اعجاز کا پتہ چلائے بہاولنگر کوئی جنوبی افریقہ میں تو نہیں قاری کو آسانی سے پکڑا جاسکتا ہے ۔ چینل فائیو کے پروگرام ہیومین رائٹس واچ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہتا اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے بالفرض اگر سولہ سالہ لڑکی فاطمہ سے قاری نے نکاح بھی کرلیا ہے تو قانون کے مطابق تو سولہ سالہ بچی نابالغ ہوتی ہے لہذا نابالغ کی شادی نہیں ہوسکتی۔اخبار نویس ہوں یا سوشل ورکر ان کی عام طور پر ہم آہنگی نہیں ہوتی۔لڑکی کے رشتے دار بھی چاہتے ہیں لڑکی کے اغوا کا کسی کو پتہ نہ چلے ۔ظاہر ہے اب لڑکی تو چار بچوں کے باپ قاری اعجاز کے ساتھ چلی گئی اب کوئی کارروائی تو کرنی ہے۔ایک طرف تو کہا جاتا ہے بچوں کو سکولوں میں دینی تعلیم نہیں دی جاتی جبکہ دوسری جانب والدین بچوں بچیوں کو دینی تعلیم دلوانے کے لئے استاد رکھ لیتے ہیں ۔ بچی اغوا کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن والدین زبان نہیں کھولتے معاملہ دبا لیتے ہیں۔جسٹس طارق افتخار نے بتایا کہ بچی اغوا کیس میں پولیس روائتی بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس سے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے۔کیا وجہ ہے پولیس اب تک قاری اعجاز کو گرفتار نہیں کر سکی۔اب بچی ملے تو پتہ چلے گا مرضی سے گئی یا زبردستی لے جایا گیایہ بھی پتہ چل جائے گا لڑکی بالغ ہے یا نابالغ۔اگر قاری صاحب کے کوئی رشتے دار ہیں اور ان میں اخلاقیات ہیں تو قاری کو پکڑوائیں تاکہ بچی کو بازیاب کرایا جا سکے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved