تازہ تر ین

با اثر افراد کا گھر پر قبضہ خواتین پر تشدد ،کپڑے پھاڑ دئیے،خبریں انسپکشن ٹیم داد رسی کے لیے موضع سہارن پہنچ گئی

بھائی پھیرو( حاجی محمد رمضان ) با اثر قبضہ گروپ نے غریب خاندان کے مکان پر قبضہ کرنے کے لئےگھر میں گھس کر عورتوں اور اہل خانہ پر وحشیانہ تشدد کیا ۔ خواتین کے کپڑے پھاڑ کربالوں سے گھسیٹتے ہوئے گلی میں لا کر کپڑے پھاڑ کر نیم برہنہ مجبور عورتوں کی بے حرمتی کرتے رہے ۔ ۔با اثر قبضہ گروپ کے خلاف مظلوم خاندان نے پندرہ نمبر پار کال کی پولیس ایک ملزم کو گرفتار کرکے تھانہ لے گئی مگر چند گھنٹوں بعد ہی اسے چھوڑ دیا اور الٹا جمبر چوکی پولیس مظلوم خاندان کے سولہ سالہ لڑکے کو پکڑ کر لے گئے ۔ملزم پارٹی نے تھانہ سے آتے ہی مظلوموں کو دوبارہ دھمکیاں دیں اور ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ پولیس والے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ داد رسی کے لئے درخواست لے کر تھانہ صدر بھائی پھیرو گیا توپولیس نے مظلوم خاندان کا تحفظ کرنے کی بجائے قبضہ گروپ کا تحفظ کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔مظلوم خاندان داد رسی کے لئے گزشتہ دس دن سے تھانے کچہری اور سول ہسپتال بھائی پھیرو کے ڈاکٹروں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے مگر اُس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ہسپتال کے ڈاکٹر نے ڈاکٹری نتیجہ دینے سے لیت و لعل سے کام کیا اور بالآخر ٹوٹے ناک کے نتیضہ کو خود ساختہ لکھ کر اپنے مقدس پیشے کی توہین کنے کی انتہا کر دی ۔مظلوم خاندان بالاخر انصاف کے حصول کے لئے ” جہاں ظلم وہاں خبریں “ کا نعرہ لگاتے ہوئے روزنامہ خبریں بھائی پھیرو کے دفتر لاہور پہنچ گیا ۔ چیف ایڈیٹر خبریں جناب ضیا شاہد نے تمام حقائق جاننے کے لئے نمائندہ خبریں بھائی پھیرو حاجی محمد رمضان اور نامہ نگار خبریں بھائی پھیرو طارق شاہین مشتمل انسپکشن ٹیم بنا کر انہیںموضع سہارنکے بھیجا ۔ انسپکشن ٹیم جب تھانہ صدر کے موضع سہارن کے پہنچی تو مظلوم خاندان بے گھر ہو کرایک سماجی رہنما کے گھر میں پناہ لیے ہوئے تھااور تمام خاندان کے لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر غم کی تصویر بنے بےٹھے تھے ۔ مظلوم خاندان کا سربراہ فاروق اُس کی بیوی زیتون بی بی اوربیٹی نگینہ بی بی نے رو روکر بتایا کہ ہمارے ہمارے مکان کا رقبہ تقریباً اڑھائی مرلے ہے جس پر ہم گزشتہ ستر سال سے قابض ہیں اور اس کے ثبوت ان کے پاس ہےں۔ با اثر قبضہ گروپ کے رانا خلیل۔رانا بلال،رانا اذان ،اور رانا جاوید وغیرہ نے اپنے دس نا معلوم مسلح ساتھیوں کے ہمراہ 9-02-2020 کو ہمارے گھر قبضہ کرنے کی خاظرآ دھمکے اور ہمیں زد و کوب کیا ، سامان اُٹھا کر باہر پھینکنا شروع کر دیا ۔جب مدعی فاروق کے داماد شہباز نے انہیں روکا تو انہوں نے ڈنڈا مار کر کر اسکا ناک ٹوڑ دیا سر پھوڑ دیا۔اسے بچانے کیلیے فاروق کی بیوی زیتون اور بیٹی آگے بڑھیں تو ملزمان انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر گلی میں لے آئے اور کپڑے پھاڑ کر نیم برہنہ کر دیا اور دھمکیاں اور فحش گالیاں دیتے زدو کوب کرتے رہے ۔ مظلوم خاندان نے پندرہ نمبر پر کال کرکے تھانہ صدر پولیس کو مدد کرنے اور قبضہ گروپ سے تحفظ دینے کیلیے بلایا ۔پولیس کافی دیر کے بعد آئی ایک ملزم کو پکڑ کر پولیس چوکی جمبر لے گئی مگر تھوڑی دیر بعد ملزم کو چھوڑ دیا تو ملزم نے آتے ہی دوبارہ مظلوم خاندان کے گھر میں گھس کر دھمکیاں اور گالیاں دینا شروع کر دیں۔پھر فاروق نے نے تحریری درخواست تھانہ صدر بھائی پھیرو کو دی مگر مقدمہدرج کرنے کی بجائے پولیس نے ڈاکٹ دیکر مضروب خاندان کو ڈاکٹری نتیجہ لانے کیلیے ہسپتال بھیج دیا۔ ہسپتل کے ڈاکٹر عدنان نے ممظروب شہباز کو قصور بھیج دیا جہاں کے ڈاکڑوں نے اس کی ناک کو ٹوٹا ہوا ثابت کیا ۔جب وہ دوبارہ سول ہسپتال بھائی پھیرو آیا تو ڈاکٹر عدنان نے طرح طرح کی بہانہ سازی کرکے کئی دن تک ڈاکٹری نتیجہ نہ دیا۔آکر کر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نسرین کی مداخلت پر مزکورہ ڈاکٹر نے نتیجہ تو دے دیا مگر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نتیجہ کو خود ساختہ لکھ دیا۔نتیجہ لیکر جب مظلوم خاندان دوبارہ تھانہ صدر گیا تو تھانہ والوں نے پھر اس کی درخخواست جمع نہ کی جس پر اعلی پولیس افسران کی مداخلت پر درخواست تو جمع کر لی مگر تاحال قبضہ گروپ کے خلاف موقدمہ درج نہیں کیا گیا۔غریب خاندان اور اسکے دیگر افراد نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم پورے خاندان کے تمام افراد لے کروزیر اعظم عمران خاں کے گھر کے باہر جا کر اپنے اوپر تیل چھڑک کر خود سوزی کر لیں گے ۔ مظلوم خاندان کے محلے کے ایک سماجی رہنماءرانا انعام الحق سہارا نے کہا کہ قبضہ گروپ کے افراد بہت با اثر ہیں انہوں نے محلے کے غریب لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے اور یہ اکثر غریب لوگوں کو ہراسا ںکرتے رہتے ہیں ۔ مگر پولیس انہیں گرفتار نہیں کرتی ۔ انعام الحق نے کہا کہ فاروق کے خاندان پر بڑا ظلم ہو اہے ۔ ہم خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری داد رسی کے لئے انسپکشن ٹیم کو بھیجا ۔ مظلوم خاندان نے انسپکشن ٹیم کو دیکھ کر ضیا شاہد زندہ باد ۔جہاں ظلم وہاں خبریں کے نعرے لگائے اور ہاتھ اُٹھا کر ظالم قبضہ گروپ کے خلاف نعرہ بازی کی اس موقع پرفاروق کی بیوی زیتون بی بی نے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کرظالم قبضہ گروپ کو بد دعائیں جبکہ ضیا شاہد اور اسکی ٹیم کو دعائیں دیں ۔ اس دوران فاروق کی بیٹی نگینہ بی بی اُونچی اُونچی رونے لگی اور روتے روتے اُسکی ہچکی بندھ گئی اور روتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں صدر پولیس قبضہ گروپ کی سرپرست بن گئی ہے انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور قبضہ گروپ کے مظالم سے بچایا جائے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved