تازہ تر ین

اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل کی موجودگی میں دھماکہ سوچی سمجھی سازش،ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد ے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ضیا شاہد نے کہا ہے کہ خاص طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دورہ پاکستان کے موقع پر دھماکہ کرنا اہم واقعہ ہے۔ جو ملک یہ چاہتے ہیں کہ ہر وقت یہ احساس دلاتے رہیں کہ کسی بھی وقت یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے یہ انہی عناصر کا کام ہے تا کہ یہ تاثر دیا جائے کہ یہ ایک اس قابل نہیں ہے کہ یہاں جایا جائے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ وہ یہ تاثر دے سکے کہ یہاں بدامنی ہے پاکستان کی کوششوں سے یہ فضا پیدا ہوتی ہے کہ انگلینڈ جیسا ملک بھی کہتا ہے کہ پاکستان میں جا سکتے ہیں۔ اس طرح دھماکے کرانا سوچی سمجھی سازش ہے۔ پے درپے اس طرح کے واقعات ترتیب دیئے جاتے ہیں کہ ابھی پہلے واقعے کا اثر ختم نہیں ہوا ہوتا کہ نیا واقعہ ہو جاتا ہے۔ بلاول بھٹوزرداری تین روزہ دورے پر لاہور آ رہے ہیں اور احتجاجی تحریک شروع کر رہے ہیں، کیا پیپلزپارٹی خود کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو مارچ کرنا ہے اس کی تیاریاں کرنے کی کوشش میں ہیں ان کی یہ ساری تگ و دو اس کو اسی طرح سے لینا چاہئے کہ وہ لانگ مارچ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے پیپلزپارٹی کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دی۔ بھٹو کے پرانے شیدائی بھی ملیں گے وہ ابھی کنارہ کش ہیں اس لئے بلاول بھٹو کو نئے سرے سے کوشش کرنا ہو گی کیونکہ وہ نئی شخصیت ہیں۔ ہر شخص سمجھتا ہے کہ بلاول بھٹو کبھی حکومت میں نہیں رہے اس لئے ان پر ایسا کوئی کرپشن کا کوئی بڑا الزام نہیں ہے۔ جنوبی پنجاب میں تو ان کی ری سیشن اچھی ہوتی ہے۔ شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب میں تھوڑی کمی ہے۔ دیکھنا ہے کہ تین چار دن میں اس کمی کو پوری کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوتا ہے جو نجات دہندہ کے روپ میں سامنے آ رہا ہے اس کا ماضی کیا ہے جب وہ پہلے حکومت میں تھا۔ پیپلزپارٹی کی خاص طور پر جو آخری حکومت گزری ہے یوسف رضا گیلانی کے بعد راجہ پرویز اشرف کی حکومت تھی کیا وہ آئیڈیل پوزیشن تھی۔ اگر تو اس وقت حالات بہتر تھے اور ڈے ٹو ڈے نظم و نسق اچھا تھا تو پھر ان کے پاس جواز موجود ہے کہ جب ہماری حکومت تھی تو ہمارے دور میں یہ یہ واقعات نہیں ہوتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان صاحب کی حکومت میں بہت سارے معاملات ایسے ہوئے ہیں جو پچھلی حکومتوں کے دور میں نہیں تھے۔ ان کے لئے ااسانی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان کی اپنی تنظیم وہ اس قابل ہے یا نہیں کہ وہ اس ایشو کو آگے حل کر سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے تو عمران خان صاحب کی حکومت کو اپنی گورننس کو بہتر کرنا چاہئے جو انہوں نے کچھ کیا ہوا ہے۔ مہنگائی کنٹرول کرنے کے سلسلے میں انہوں نے خود اجلاسوں کی صدارت ہے لگتا ہے جو وہ کوشش کر رہے ہیں اس کے نتیجے میں اگر حالات کچھ بہتر ہو جاتے ہیں تواس سے بڑا فرق پڑے گا۔ لیکن اگر حالات بہتر سے بگر رہے یا پہلے جیسے رہے تو پھر ان کی ساری کوششیں بیکار جائیں گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پاکستان آ کر یہ بات کہنا بھی بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو آگے بڑھانے کے لئے ایک مثبت کوشش ہے۔ عمران خان کی بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی وجہ سے کشمیر کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔میرا خیال ہے کہ حالات کافی بہتر ہے، چین سعودی عرب، ترکی اور روس کا بھی ووٹ ہے اور چین پاکستان کو مکمل سپورٹ بھی کر رہا ہے لگتا ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے گا۔ ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سندھ کی حکومت میں پہلے ہی کافی مسائل چل رہے ہیں زیادہ اچھی کارکردگی نہیں رہی زہریلی گیس پھیلنے سے ہلاکتوں کا واقعہ بھی اس طور پر لیا جائے گا لگتا یہی ہے گورننس کی حالت جو ہے وہ باقی سارے صوبوں سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گندگی، کچرے یا پینے کے پانی کا مسئلہ ہونا کوئی حادثہ ہو جائے ضرورت اس امر کی ہے حکومت سندھ کی اوورہالنگ کی جائے۔ بروقت اور موثر اقدامات کبھی دکھائی نہیں دیئے۔ کہا جاتا ہے گڈ گورننس نام کی تو کوئی چیز پاکستان ہی ہے ہی نہیں۔ نہ وفاقی سطح پر نہ صوبوں کی سطح پر معاملے ان کی دسترس میں رہے نہیں، بڑا مشکل ہو جائے خود ان کے لئے بھی اس مہم کو لے کر چلنا۔ چونکہ سندھ کے معاملات اور حکومت سندھ کی کارکردگی بہتر نہیں رہی اس لئے اس کی مثال دے کر باقی ملک کو یہ کہنا کہ حالات سندھ جیسے کر دیں گے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved