تازہ تر ین

ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھارتی سازش ناکام ،پاکستان کو مزید 4ماہ گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ،ایران بلیک لسٹ ہو گیا

پیرس(زاہد مصطفی اعوان سے)فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)پیرس اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اجلاس میں پاکستان کی مختلف شعبوں میں پیش رفت کوسراہتے ہوئے پاکستان کے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں 9 اضافی امور کا احاطہ کیا گیا ،ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو چند امور میں مزید کام کی ضرورت پر زور دیا ، پاکستان سے متعلق فیصلہ اب جون میں ہونے والے اجلاس میں ہوگا۔ جمعہ کوجاری اعلامیہ کے مطابق پیرس پلینری اجلاس 16 سے 21 فروری تک جاری رہا۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے اس میں شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان کی مختلف شعبوں میں پیش رفت کو سراہتے ہوئے پاکستان کے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں 9 اضافی امور کا احاطہ کیا گیا۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو چند امور میں مزید کام کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان سے متعلق فیصلہ اب جون میں ہونے والے اجلاس میں ہوگا۔ادھرچینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ پاکستان نے دہشتگردوں کی فنڈنگ کو روکنے کیلئے اپنے نظام میں خاطر خواہ بہتری کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے پاکستان کو اپنے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے مزید وقت دیا جائے گا۔جمعے کو پریس بریفنگ میں جب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان سے ایف اے ٹی ایف اجلاس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنے کیلئے اپنے نظام میں خاطر خواہ بہتری کی ہے جس کا اعتراف 20 فروری کو اختتام پذیر ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے کیا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو اپنے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے مزید وقت دیا جائے گا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں چین کا مقف تبدیل نہیں ہوا، واضح طور پر پاکستان نے ٹیرر فنانسنگ کے خاتمے کیلئے بہت کوششیں کی ہیں اور اس کا اعتراف ایف اے ٹی ایف کی حالیہ میٹنگ میں بھی کیا گیا۔ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا مقصد ہی منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے میں ملکوں کی معاونت کرنا اور ان کے ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے میں مدد دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستان کو مزید معاونت فراہم کرنے کیلئے ہم متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور اسے بلیک لسٹ میں جانے سے بچنے کیلئے پلان آف ایکشن دیا گیا تھا جس پر اسے اکتوبر 2019 تک مکمل عمل کرنا تھا۔شمالی کوریا اور ایران پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔خیال رہے کہ پیرس میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 5 روز جاری رہا جس میں 200 سے زائد مندوبین شریک ہوئے۔ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان ایکشن پلان پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خلیج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ میں شامل تھا۔پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)میں مدد پر چین اور دوسرے ممالک نے حمایت پر شکریہ ادا کیا، دوست ممالک نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عملدرآمد کےلئے صحیح رہنمائی کی ہے۔جمعہ کو ترجمان کے مطابق وزارت خزانہ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)میں مدد پر چین اور دوسرے ممالک کا پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا، دوست ممالک نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عملدرآمد کےلئے صحیح رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عملدرآمد کے اپنے وعدے پر کاربند ہے۔ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایران کو انسداد عالمی دہشت گردی کی مالی معاونت کے طے شدہ اصولوں کی پاسداری میں ‘ناکامی’ پر بلیک لسٹ کردیا۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں قائم ایف اے ٹی ایف نے مذکورہ فیصلہ لینے سے قبل تہران کو خبردار کیا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردوں کی فنانسنگ کے قوائد کی پاسداری کرے۔ایف اے ٹی ایف نے ایران کے تھوڑی گنجائش رکھتے ہوئے کہا کہ ‘ممالک کو چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر انسداد کے اقدامات اٹھائے’۔اس ضمن میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ لین دین کی مزید جانچ پڑتال ہوگی، ایران میں فنانسنگ تنظیموں کا سخت بیرونی آڈٹ ہوگا اور ایران کے ساتھ کام کرنے والے بینکوں اور کاروباری اداروں پر بھی دبا ﺅڈالا جائےگا۔غیر ملکی کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے مطابق ایران کی تعمیل اہم ہے اگر تہران سرمایہ کاروں کو راغب کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ 2015 منسوخ کر کے تہران پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved