تازہ تر ین

نئی دہلی میں مسلمانوں کا شناخت کر کے قتل عام ،بد ترین تشدد،جاں بحق افراد کی تعداد 24ہو گئی ،سینکڑوں زخمی

نئی دہلی(نیٹ نیوز)بھارتی حکومت کے متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کےدوران ہونے والے فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 24ہوگئی،حکومت نے مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کو نئی دہلی کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کا ٹاسک سونپا ہے،نئی دہلی حکام نے صورتحال معمول پر آنے کا دعوی کیا ہے۔نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں اب بھی صورتحال کشیدہ ہے اور بدھ کی صبح گوکل پوری کی ایک مارکیٹ میں دکان کو آگ لگادی گئی،نئی دہلی کے وزیر اعلی اروِند کجریوال نے شہر میں فوج بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی صورتحال پولیس کے قابو سے باہر ہے، فوج بلانے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھیں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی ہائیکورٹ نے شہر میں ہونے والے فسادات پر رات گئے ہنگامی سماعت کی اور پولیس کو شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی جب کہ عدالت نے فسادات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ فسادات میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو شناخت کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔نئی دہلی کی صورتحال پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی بنائی گئی ایک ویڈیو میں مسلمان نوجوان سرفراز علی نے ہندو انتہا پسندوں کے تشدد کے بارے میں بتایا۔زخمی حالت میں نوجوان نے ایمبولینس میں بیان دیا کہ وہ اور اس کے والد ساتھ تھے کہ کچھ لوگوں نے ان سے نام پوچھے، انہیں گھیر لیا اور پھر نعرے لگانے کو کہا۔نوجوان کے مطابق اسے اور اس کے والد کو ہندو انتہا پسندوں نے جے شری رام نعرے لگانے پر مجبور کیا جس کے بعد نوجوان سے شناختی کارڈ مانگا گیا۔نوجوان کے مطابق اس نے اپنا نام کچھ اور بتایا لیکن اسی دوران انتہا پسندوں نے اس پر اور والد پر تشدد شروع کردیا جب کہ ان کی گاڑی جلانے کی بھی کوشش کی گئی۔نوجوان نے بتایا کہ اسے اور اس کے والد کو کافی دیر تک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔نوجوان کا کہنا تھا کہ ہندو انتہا پسند مسلمانوں کو نام پوچھ کر اور ان کی شناخت کرکے ان پر حملہ کررہے ہیں جب کہ ہندوں کو شناخت کے بعد جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔سرفراز علی کے مطابق کئی لوگوں کی ہندو شناخت ہونے کے بعد انہیں جانے دیا گیا جب کہ نام پوچھنے پر میں نے فرضی نام بتایا تو انہیں یقین نہیں ہوا جس پر پتلون اتارنے کا کہا گیا۔دریں اثنا دہلی ہائیکورٹ نے رات گئے ایک ہنگامی اجلاس میں پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ تشدد میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کےلئے محفوظ راستہ یقینی بنائیں۔شہر میں اس وقت بڑے پیمانے پرتشدد واقعات پیش آئے جب مسلح گروپوں نے دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں لوٹ مار جلا گھیرا کرتے ہوئے عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی ۔پولیس نے بدھ کی صبح وزیراعلی اروند کجروال کی رہائش کے باہر جمع ہونے والے لوگوں کو منتشر کردیا جو تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے اس موقع پر جمع ہونے والے افراد میں زیادہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)کے طلبا ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایلومینائی ایسوسی ایشن (اے اے جے ایم آئی ) اور جامعہ کوآرڈینشن کمیٹی کے ارکان شامل تھے۔اطلاعات کے مطابق طلبا کجروال سے ملنے اور نئی دہلی تشدد کے بارے میں اپنے مطالبات کی فہرست جمع کرنا چاہتے تھے جبکہ پولیس نے ان پرواٹر کینین کا استعمال کیا اور ان میں سے چند کو موقع پر حراست میں لے لیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئی دہلی کے مسلمانوں پر قیامت کی گھڑی، بلوائیوں اور سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ، مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ، حملوں میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 20جبکہ 150 زخمی ہیں، انتہاپسندوں نے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔ مساجد اور درگاہوں کی بھی بے حرمتی کی گئی ، بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔جعفر آباد میں مسلم کش قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین کے گرد نوجوانوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔ نئی دہلی پولیس کے مطابق پرتشدد واقعات میں پولیس کے 56 اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔ مظاہرین نے کہا کہ کئی نوجوانوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولی ماری گئی۔شمال مشرقی دلی کے علاقے چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد میں زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔حکام نے کہا کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔ہنگاموں کی کوریج کے دوران این ڈی ٹی وی کے رپورٹرز کو بھی مارا پیٹا گیا اور انہیں روک کر کہا گیا کہ اپنا ہندو ہونا ثابت کرو۔ اس موقع پر پولیس صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کشیدہ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت تصادم کو روکے اور مظاہرین کو پر امن مظاہرے کی اجازت دے، اقوام متحدہ نئی دلی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بدھ کو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوترین کے ترجمان کی جانب سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کشیدہ صورتحال پر اپنے بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل یو این نے نئی دہلی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مظاہرین کو پر امن طریقے سے مظاہرہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ سیکرٹری جنرل کی جانب سے موجودہ حالات پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved