تازہ تر ین

امریکہ میں متاثرین کی تعداد 10 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے :زرائع امریکی طیارہ بردار بحری جہاز میں کرونا 771امریکی فوجی وائرس کا شکار

واشنگٹن (نیٹ نیوز)امریکی بحریہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ‘روز ویلٹ’ نامی بحری بیڑے سے ہزاروں اہلکاروں کو نکالنا کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 771 امریکی فوجیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روزویلٹ نامی بحری بیڑہ امریکا کے زیرِ انتظام جزیرے گوام کے قریب موجود ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق بیڑے پر 4800 افراد کا عملہ تعینات تھا۔خبر رساں ادارے کے مطابق اب تک بیڑے سے ایک ہزار اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 771افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔پیٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ روزویلٹ کے عملے کے لیے فوری طور پر ہوٹلوں میں کمروں کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ کچھ صحت مند اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا تاکہ وہ معمول کے کام جاری رکھ سکیں۔امریکی بحریہ میں میریانا ریجن کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جان مینونی نے کہا ہے کہ روزویلٹ پر موجود زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکال رہے ہیں لیکن کچھ اہلکاروں کو بحری بیڑے پر تعینات رکھنا ہو گا تاکہ معمول کے کام انجام دیے جا سکیں۔واشنگٹن میں امریکا کے قائم مقام سیکریٹری برائے بحریہ تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ بحری بیڑے پر تعینات عملے میں سے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جبکہ آئندہ دو روز میں تعداد 2700 ہو جائے گی۔انہوں نے عندیہ دیا کہ تقریبا ایک ہزار اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا اور بحری بیڑے کو کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے جراثیم کش ادویات کا سپرے بھی کیا جائے گا۔رائٹرز کے مطابق تھامس موڈلی سے جب بار بار پوچھا گیا کہ کیا خط لکھنے پر روزویلٹ کے کپتان بریٹ کروزیئر کو سزا دی جائے گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ اس خط کو میڈیا میں کس نے لیک کیا۔ان کے بقول اگر وہ اس کے ذمہ دار ہیں تو یہ عمل نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ کون ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روزویلٹ کے کپتان نے خط اپنے اعلی حکام کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس پر ردعمل دیا جائے۔خیال رہے کہ امریکہ کے بحری بیڑے روزویلٹ کے کپتان نے محکمہ دفاع پینٹاگون کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کورونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر ان کی مدد کی جائے۔کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ کورونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث 4000 اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔امریکی اخبار نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا تھا۔خط کے متن کے مطابق کپتان بریٹ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں بیڑے پر موجود فوجی اپنی جانیں دیں۔انہوں نے کہا تھا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔پینٹاگون کے مطابق اب تک محکمہ دفاع کے 1400 ملازمین اور کانٹریکٹرز وغیرہ کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 771 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ میں روزویلٹ وہ واحد بیڑا ہے جس کے اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 93 مزید بیڑے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں جو اس وبا سے محفوظ ہیں۔ادھر امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج سماجی دوری اور سینیٹائزیشن کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے۔ روزویلٹ پر تعینات کچھ اہلکاروں اور دنیا بھر میں پھیلنے والی یہ وبا امریکی فوج کی جنگی صلاحتیوں کو متاثر نہیں کر سکتی۔

واشنگٹن (نیٹ نیوز) امریکی اراکین کانگریس نے چین پر الزمات کی بارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے کرونا کے پھیلاو کی حد اور ووہان میں اموات کی تعداد کو چھپایا اور امریکی محکمہ خارجہ سے چین کے اعداد و شمار اور معلومات سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ امریکی کانگریس میں ریپبلکن نے وہائٹ ہاوس کو پیش کی گئی خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ کی طرف اشارہ کیا۔ جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ چین نے کرونا سے ہونے والی اموات اور کیسز کی تعداد غلط بتائی ہے، چین نے جان بوجھ کر نامکمل، جھوٹے اور جعلی اعداد و شمار رپورٹ کئے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر ری پبلکن سینیٹر Ben Sasse نے کرونا سے چین میں اموات کی تعداد کو پروپیگنڈا قرار دیدیا۔ اور کہا کہ امریکا میں کرونا وائرس سے ہوئی اموات چین سے زیادہ ہیں، بالکل غلط ہے۔ ریپبلکن رکن مائیکل میک کیول نے کہا کہ چین کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں قابل اعتبار شراکت دار نہیں۔ چین نے انسان سے انسان میں وائرس کی منتقلی کے بارے میں جھوٹ بولا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جن ڈاکٹروں اور صحافیوں نے سچ بتانا چاہا انھیں خاموش کردیا گیا۔ واضح رہے کہ چین نے 82 ہزار کے قریب کیس اور 3 ہزار 300 سے زائد اموات رپورٹ کی ہیں۔ کرونا وائرس سے حفاظت کرنے والے آلات کے قومی ذخائر کے تقریبا ختم ہونے پر امریکا نے چین سے فرانس کے لیے روانہ کیا جانے والا حفاظتی سامان نقد ادائیگی کر کے خرید لیا۔ ماسک اور حفاظتی آلات کی شدید قلت کے باعث امریکی ریاستی حکومتیں پریشان ہیں، چین سے فرانس کے لیے روانہ کیا جانے والا حفاظتی سامان امریکا نے نقد ادائیگی کرکے خرید لیا۔ امریکا میں ایک دن میں کرونا سے ایک ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، دنیا میں اب تک کسی بھی ملک میں 24 گھنٹوں میں ہوئی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ امریکا بھر میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 5 ہزار اور متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 15 ہزار سے اوپر چلی گئی ہے۔ بڑھتی اموات کے پیشِ نظر پینٹاگون میتیں رکھنے کے لیے ایک لاکھ بیگز کا بندوبست شروع کر دیا ہے،جو وفاقی ہنگامی ادارے کو فراہم کیے جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ حفاظتی آلات کے قومی ذخائر تقریبا ختم ہو گئے ہیں، سامان اب براہِ راست اسپتالوں کو بھجوایا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والے طبی سامان کا بڑا حصہ کرونا سے پریشان ریاستوں کے بجائے مارکیٹ کو مہیا کیا جا رہا ہے جس کی خریداری کے لیے مختلف ریاستوں میں رسہ کشی جاری ہے۔ روسی ٹی وی نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے فرانس روانگی سے چند لمحوں قبل چین میں جہاز میں لدا طبی سامان نقد ادائیگی پر خرید لیا۔ کئی امریکی ریاستوں نے چین کو طبی آلات کے لیے آرڈر دے دیے ہیں، مشکل حالات میں امریکا کے سب سے بڑے حریف روس نے طبی سامان نیویارک بھیج دیا۔وائرس کا بدترین شکار نیویارک کے میئر کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں لاکھوں کی تعداد میں ماسک اور 4 ہزار تک وینٹی لیٹرز درکار ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین نے کرونا سے متعلق بہت سے حقائق کو سامنے نہ لا کر دنیا کو گمراہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وائرس کا پھیلاو¿ بڑھ گیا اور یہ ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کر گیا۔امریکی ٹی وی کے مطابق چین نے دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے کرونا کے مریضوں اور اس سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد کو چھپایا۔ یہ بات امریکی انٹیلی جنس کے تین ذمے داران نے بتائی۔وائٹ ہاو¿س کو بھیجی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں مذکورہ ذمے داران نے بتایا کہ چین کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار میں دھوکا دیا گیا۔ اس ریکارڈ کو دانستہ طور پر غیر مکمل رکھا گیا۔رپورٹ میں امریکی انٹیلی جنس کے تین افسران کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاو¿س کو خبردار کر دیا تھا کہ کرونا کے حوالے سے بیجنگ حکومت کے اعداد و شمار فرضی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے تعداد کے اظہار میں کمی کے بقیہ دنیا پر مرتب ہونے والے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کی عہدے دار ڈیبورا بوریکس کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے گمراہ کن معلومات اور نتائج کے اثرات اب اطالیہ اور ہسپانیہ پر منعکس ہو رہے ہیں۔کرونا وائرس کے آغاز کے وقت سے ہی چین نے متعلقہ معلومات پر پردہ ڈالا۔ اس دوران ا±ن ناقدین اور طبیبوں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے خطرے کی گھنٹی بجانے کی کوشش کی۔حالیہ ہفتوں میں چین نے عالمی سطح پر اپنی تصویر بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا۔ چین نے اپنی معیشت کا پھیہ دوبارہ سے چلانے کی کوشش کی۔ اس نے کرونا سے شدید طور پر متاثر ہونے والے ممالک کو متعلقہ لوازمات فروخت کیے۔رپورٹ کے مطابق چین نے کرونا وائرس کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے پروپیگنڈے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے عالمی ادارہ صحت کو کروڑوں ڈالر پیش کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے عوض چین نے اپنے لیے کامیابی کے تمغے حاصل کر لئے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved