Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • حبیب اللہ عامر چوہدری کا چکوال شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ
    • چکوال کے تاریخی اسٹیڈیم کی اراضی پر جم خانہ کلب کی تعمیر کا معاملہ
    • ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ؟ کراچی کے مکین سب سے مہنگا خریدنے پر مجبور
    • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ردوبدل لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
    • کزن کی فائرنگ سے سی سی ڈی راولپنڈی کے ہیڈ کانسٹیبل تحسین شاہ بھائی سمیت جاں بحق
    • الیکٹرک واٹر کولر سے کرنٹ لگنے سے نوجوان بے ہوش ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی
    • ٹیکسلا کے علاقہ میں شہری کے جاں بحق ہونے کا معاملہ،واقعہ پر قانونی کارروائی کی جا رہی
    • جنرل بس اسٹینڈ پیرودھائی میں منشیات فروشوں ودیگر جرائم پیشہ عناصر کیخلاف گزشتہ دس روز سے جاری گرینڈ آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں منشیات ،مشتبہ اشیاء اور دیگر سامان بر آمد ۔
    • اے این ایف کی مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کارروائیاں
    • راجہ سرفراز اصغر کی سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہباز شریف سے ملاقات
    • پنجاب کے ہسپتالوں میں سیف سٹی پینک بٹنز کی تنصیب شروع
    • بغیر وارنٹ تلاشی غیر قانونی ہے ہائیکورٹ کا کسٹمز کے بغیر وارنٹ چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ
    • تلہ گنگ: نالہ گبھیر میں غیر قانونی طور پر سونا نکالنے کا انکشاف
    • جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور پیشگی وارننگ کے باوجود قدرتی آفات سے انسانی جانوں کاضیاع لمحہ فکریہ ہے: مصدق ملک
    • 28ویں آئینی ترمیم بہتری کے لیے ہوئی تو پیپلز پارٹی حمایت کرے گی، سعید غنی
    • پولیس اہلکاروں کی مبینہ فرعونیت اور قانون شکنی کا خوفناک واقعہ
    • راولپنڈی :چھانگہ گلی میں قتل ہونیوالے سی سی ڈی راولپنڈی کے ہیڈکانسٹیبل تحسین شاہ ،حضر شاہ دونوں بھائیوں کی نما ز جنازہ ریلوے گرائونڈ میں ادا کی جا رہی ہے ۔
    • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج شہروں کا عالمی دن منایا گیا
    • جنرل بس سٹینڈ لاری اڈہ میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی ملکیتی جگہ ہے:راجہ مقصود
    • نیلا گنبد منصوبے پر اعلیٰ حکام کا دورہ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    برطانیہ کیلئے بھی ایک مجرم کو طویل عرصے تک رکھنا مشکل ہو جائیگا: شہزاد اکبر

    By Daily Khabrainستمبر 21, 2020
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر  نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے کہا ہے کہ برطانیہ کے لیے بھی ایک مجرم کو  طویل عرصے تک رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

    ایس ای سی پی کے لاپتہ افسر ساجد گوندل کی بازیابی سے متعلق کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔

    مشیر  برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات عدالت میں پیش ہوئے۔

    بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ ساجد گوندل واپس آگیا ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے، لیکن ابھی تک یہ پتہ نہیں چلایا جا سکا کہ اغوا کرنے والے کون لوگ تھے۔

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ تفتیش کا معاملہ ہے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے مشیر داخلہ شہزاد اکبر سے استفسار کیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو کیوں بلایا ہے؟ آپ نے آئی جی پولیس کی رپورٹ دیکھی ہو گی جو بہت خوفناک ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ ان 5 مشیروں میں شامل ہیں جنہیں وزیراعظم نے اپنا مشیر رکھا، آپ وزیراعظم کے اعتماد والے افراد میں شامل ہیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ 1400 اسکوائر میل پر مشتمل وفاقی دارالحکومت کو ماڈل سٹی ہونا چاہیے، آپ کچہری جا کر دیکھیں کہ عدالتیں کیسے کام کر رہی ہیں، کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی، یہاں اسلام آباد میں پراسیکیوشن برانچ ہی قائم نہیں، عدالت نے فیصلہ دیا مگر عمل نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلوں کے لیے انحصار پولیس تفتیش پر ہوتا ہے، لیکن پولیس تفتیش کا معیار انتہائی ناقص ہے، تفتیشی افسران کی تربیت ہی نہیں ہے، آج عدالت کے سامنے ایک کیس آیا کہ پولیس چیک ڈس آنر کا مقدمہ درج نہیں کر رہی تھی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے شہزاد اکبر سے کہا آپ سے درخواست ہے کہ 2 ہفتوں کا وقت لیں اور ایک رپورٹ بنا کر وزیراعظم سے شیئر کریں کہ کیا ہو رہا ہے، کابینہ میں وزیراعظم کو بتائیں کہ عام شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    شہزاد اکبر نے عدالت کو بتایا کہ ہم مسنگ پرسنز کا معاملہ کابینہ کے نوٹس میں لائے ہیں جس پر ایک سب کمیٹی بنائی گئی ہے، سفارشات کابینہ کو بھجوائی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں آزاد پراسیکیوشن برانچ ہونی چاہیے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ انویسٹی گیشن افسر جس کا تفتیش کا کوئی تجربہ نہیں اس کو ایک تفتیش کے 350 روپے ملتے ہیں، یہ ہی کرپشن کا بڑا ذریعہ بنتا ہے، وہ باقی کے پیسے کہاں سے لیتا ہو گا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ یہاں مفادات کا بھی ٹکراؤ ہے، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سمیت دیگر ادارے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ہیں، تمام ریکارڈ کا جائزہ لے کر 3 ہفتوں میں تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ملزمان کی بریت ناقص تفتیش کے باعث ہوتی ہے اور ذمہ داری عدالتوں پر آتی ہے، کچہری میں عدالتیں دکانوں میں قائم ہیں، آپ خود بھی وکالت کرتے اور پیش ہوتے رہے ہیں، آپ وزیراعظم کو اس بارے میں بھی آگاہ کریں، اللہ نہ کرے کہ کچہری والا واقعہ دوبارہ ہو، اگر ایسا کوئی واقعہ ہو تو کسی کو تو ذمہ داری لینی چاہیے؟

    بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ کمیٹی میں اسلام آباد بار کے ایک ممبر کو بھی آزاد ممبر کے طور پر شامل کرنے کا کہا جائے، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ ایگزیکٹو کا اختیار ہے، ہم مداخلت نہیں کریں گے، وزیراعظم کے مشیر داخلہ خود بار کے ممبر ہیں۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ فیٹف کی کسی بھی قانون سازی میں کوئی شرط موجود نہیں ہے، اپوزیشن کے دوستوں میں تو شاہد خاقان عباسی کو میری شکل ہی پسند نہیں ہے، چیلنج سے کہتا ہوں کہ حالیہ پاس قوانین میں ایسا کچھ نہیں جس میں کسی کو اٹھائے جانے کی بات ہو۔

    شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے پرانے قانون میں حراست میں لیے جانے کا اختیار موجود تھا، لیکن ہماری ترمیم میں حراست میں لیے جانے کی شق ختم کر دی گئی ہے، البتہ دوران تفتیش اگر اداروں کو ضرورت محسوس ہو تو وہ حراست میں لے سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بل کی ترامیم سے متعلق اپوزیشن کی تمام مثبت باتیں مانی گئی ہیں، جو اپوزیشن کے کیسز بند کرنے کا مطالبہ تھا وہ ہم نے تسلیم نہیں کیا۔

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    پیپلز پارٹی کی اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شرکت کی دعوت

    سنگاپور کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی و عالمی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    خیبرپختونخوا؛ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    تازہ ترین

    سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

    پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

    سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

    باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.