وزارت پٹرولیم کے جواب طلب کرنے پر ایم ڈی پارکو نے 4رکنی کمیٹی بنا دی، محمود کوٹ پہنچ کر تحقیقات شروع کردیں،چیف انجینئر آئل موومنٹ صبور خان، سنیئر منیجرعقیل خان، انجینئر فاروق بلا، ٹیکنالوجسٹ سپروائزر ملک ضمیر ، دانیال، شکیل منگی، آشان معطل، انکوائر ی کا حصہ
محمود کوٹ(ویب ڈیسک)”خبریں” کا جہاد کامیاب ،پارکو (ٹوٹل) آئل ریفائنری میں کرک سے آنے والے کروڈ آئل میں ڈیڑھ ارب سے زائد پانی کی ملاوٹ کی “خبریں” نے بے نقاب کیا۔ وزارت پٹرولیم نے ایکشن لے کر پارکو انتظامیہ سے جواب طلب کر لیا۔ایم ڈی پارکو نے کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف ازسرنو کاروائی کرنے کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔ انکوائری کمیٹی نے پارکو محمود کوٹ پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ذمہ دار چیف آئل موومنٹ صبور خان سمیت 7افسران کو معطل کرتے ہوئے مزید 6افراد کو بھی انکوائری میں شامل کر لیا۔وعدہ معاف گواہ بننے والے طارق پرویز نامی ٹیکنالوجسٹ کو آئل مافیا کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں جبکہ ڈسکون کمپنی نے کروڑوں کا فراڈ کرنے والے ہیلپرز کو انکوائری کا حصہ ہی نہیں بنایاگیا۔تفصیل کے مطابق گزشتی ڈیڑھ سال سے آئل موومنٹ پارکو کے افسران اور ڈسکون کمپنی کے دس ہیلپرز آئل مافیا سے میل جول کرتے ہوئے کرک سے آنے والے کروڈ آئل کی جگہ ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کا پانی پارکو ٹینکوں میں اپنے ذاتی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ رقم کی غیر منصفانہ تقسیم پر کرپشن میں ملوث ٹیکنالوجسٹ کی اپنی ساتھیوں کے ہمراہ شدید لڑائی ہوئی تو طارق پرویز نے کرپشن بارے پارکو انتظامیہ کو بتاتے ہوئے بھانڈا پھوڑ دیا۔جس پر پارکو انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر کرپشن منظر عام آنے پر اپنے افسران کو بچانے کے لیے انکوئری کو طوالت دیتے ہوئے آئل موومنٹ سے منسلک تمام افسران کو پائپ لائن کے شعبہ میں تبدیل کر کے بھیج دیا اور انکوئری کو سرد خانے میں ڈال دیا۔”خبریں” نے سرد خانے کی نزر کرپشن کو منظر عام پر لاتے ہوئے کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کیا تو وزارت پٹرولیم نے نوٹس لیتے ہوئے پارکو انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا۔ ایم ڈی پارکو نے چار رکنی کمیٹی بناکر پارکو محمود کوٹ بھیج دی ۔انکوائری ٹیم نے تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے کرپشن میں ملوث افسران سے تفتیش شروع کردی





































