وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت سستی بجلی فراہم کرنےکے لئے سرگرم ہو گئی ،پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ او ر6 بینکوں کے کنسورشیم کے درمیان 100ارب روپے کی فنانسنگ کا معاہدہ ہوگیا۔وزیراعلیٰ معاہدے کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔معاہدے کے تحت بینکوں کا کنسورشیم 100ارب روپے کی فنانسنگ کرے گااور1263میگا واٹ کے پنجاب تھرمل پاور پلانٹ سے سالانہ10ارب یونٹس پیدا ہوں گے ۔عثمان بزدار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 6بینکوں کے کنسورشیم سے 100ارب روپے کی فنانسنگ کے معاہدے کوملکی تاریخ کی سب سے بڑی ریاستی گارنٹی کہا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں تعطل کے باوجود پی پی اے اور جی ایس اے جیسے موثر معاہدے کئے گئے ہیں۔ پنجاب تھرمل پاور پلانٹ تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے اور اگلے سال کے آخر تک مکمل ہونے والے 1263میگاواٹ کے اس پراجیکٹ سے سالانہ 10ارب سے زائد یونٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی۔پنجاب پاور پلانٹ میں معروف بین الاقوامی کمپنی سیمنز سے مصدقہ جدیدترین ٹیکنالوجی پر مشتمل سسٹم نصب کیا گیا جس کی کارکردگی سے بجلی کی پیداواری لاگت انتہائی کم ہو گی اورگھروں اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ روپے میں ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ضیاع کو بچایا جا سکے گا اور اس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں بھی کمی ہو گی۔گردشی قرضے کے بوجھ میں نمایاں کمی ہو گی اور اس پراجیکٹ کی بدولت ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی میسر ہوں گے ۔ سا بقہ ادوار میں لگائے جانے والے پاور پلانٹس سے 9.29سے 27.12 روپے فی یونٹ تک بجلی پیدا کی جاتی رہی جبکہ پنجاب تھرمل پاور پلانٹ کے ذریعے 8.95 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ بزدار نے کہا ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ہم مہنگائی میں پسنے والے عوام کو سستی بجلی فراہم کر سکیں۔پنجاب نہ صرف انرجی کی پیداوار میں خودکفیل ہو گا بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی بجلی فراہم کر سکے گا۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 39واں اجلاس ہوا، پنجاب کابینہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ خیر سگالی کے جذبے کااظہار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید بن النہیان کو چولستان اوررحیم یار خان میں لیز پر دی گئی سرکاری اراضی میں پرانے نرخوں کے مطابق ہی مزید توسیع دینے کی منظوری دے دی ۔ پنجاب کابینہ کے اس اقدام سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ اجلاس میں راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اراضی کے حصول کیلئے 5ارب روپے کا قرض دینے ،اتھارٹی کو راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے ماسٹر پلان میں آنے والی سرکاری اراضی بھی دینے کی منظوری دی گئی۔ اتھارٹی اپنا بزنس پلان اور فنانشل ماڈل پیش کرے گی ۔پنجاب کابینہ نے صوبے میں پٹرول پمپس لگانے کیلئے این او سی کے اجراء کے طویل عمل کو آسان بنا دیا اورکابینہ نے پٹرول پمپس لگانے کے لئے این او سی کے اجراء کی مدت 90روز سے کم کر کے 30روز کرنے ،نابینا افرادکے لئے 3فیصد خصوصی کوٹے کے تحت ملازمتوں میں بالائی عمر میں خصوصی رعایت دینے کی منظوری دی۔پنجاب کابینہ نے بڑے ہسپتالوں میں چارجز وصول کرنے کی تجویز پھر مستردکر دی۔ عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عام آدمی کو ریلیف دینے آئے ہیں۔یوزرچارجز پر فی الحال نظر ثانی نہیں کرسکتے ،پنجاب کابینہ نے صوبے میں یکساں نصاب کے نفاذ ،عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں رول 17 اے کے تحت مستقل بنیادوں پر ملازمتیں دینے ،پنجاب کی مختلف میڈیکل یونیورسٹیزکے وائس چانسلرز کے لئے پے پیکیج اورٹرمز اینڈ کنڈیشنز، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کی ٹرانسفر پالیسی 2020کی منظوری دی گئی۔پالیسی کے تحت اساتذہ اور دیگر عملے کا گھر کے پا س ادارے میں تبادلہ ہو سکے گا۔نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ،پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے انڈومنٹ فنڈکیلئے پنجاب حکومت کی جانب سے 10کروڑ روپے کی سیڈمنی دینے ،دی پنجاب لوکل گورنمنٹس اراضی استعمال کرنے کے پلان(لینڈ یوزپلان) رولز2020کی منظوری بھی دی گئی جبکہ بہاولپور میں 410بستروں پر مشتمل سول ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے ادائیگیوں کا معاملہ کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے سپردکردیا گیا، کمیٹی تمام امور کا جائزہ لیکر حتمی سفارشات پیش کرے گی۔گوجرانوالہ میں چلڈرن ہسپتال کے قیام کیلئے اراضی دینے کامعاملہ بورڈ آف ریونیو کے سپردکردیا گیا۔کابینہ کے اجلاس میں لاہورڈویلپمنٹ اتھارٹی ٹربیونل میں 2 ممبرز حسن احمد ریاض ایڈووکیٹ اور خالد محمود چودھری کی تقرری ،پنجاب ریونیو اتھارٹی کے اپیلٹ ٹربیونل کے جوڈیشل ممبرکے عہدے کیلئے حاضر سروس جج حبیب اللہ عامر کو تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔





































