تازہ تر ین

سوشل میڈیا خطرناک،روزانہ لاکھوں افراد تنہائی اور موت کا شکار ہونے لگے

وقت گزاری کے لیے یوں تو بہت سے کام ہیں، کئی شوق ہیں جنہیں لاک ڈاؤن کے دوران پورا کیا جا سکتا ہے۔کچھ شوق جیسے مطالعہ لاک ڈاؤن کی بدولت ملنے والی چھٹیوں کا بہترین استعمال ہے لیکن سمارٹ فون کی بدولت اکثر لوگ لاک ڈاؤن  میں اپنے محبوب یا سوشل میڈیا سے زیادہ جڑ گئے ہیں۔

ویسے بھی آج کے دور میں واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور فیس جیسی ایجادات کے بغیر انسان تقریباً نا مکمل ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا نے انسانوں سے گہرا  رشتہ قائم کر لیا ہے۔ جدید ایجادات کی  مدد سے بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام چند لمحوں میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کا واٹس ایپ ، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور فیس بک  اور دیگر ویب اور موبائل ایپلیکیشنز میں کھو جانا کسی مہذب معاشرے اور ہماری تہذیب و تمدن سے بالکل میل نہیں کھاتا۔

آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آنا ہماری تہزیب اور معاشرت کا اہم حصہ ہے۔ ان معاشرتی اچھائیوں کو نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض عین بھی۔ آج کل لاک ڈاؤن نے ایک دوسرے سے ملنے سے روکا ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کے کام نہیں آسکتے یا کوئی نیکی نہیں کما سکتے۔

یہ سچ ہے کہ لاک ڈاؤن  کے دوران دنیا میں زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ وطن عزیز بھی اس معاملے میں کسی دوسرے ملک سے پیچھے ہرگز نہیں ہے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، جوان، امیر، غریب، سب اپنا اچھا خاصا وقت سوشل میڈیا میں لگا رہے ہیں۔

بالخصوص نوجوان نسل کے دل و دماغ پر تو سوشل میڈیا جنون کی حد تک حاوی ہو چکا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں  دن بھر سوشل میڈیا سے چپکے رہنے کے باوجود رات میں بھی جب تک سوشل میڈیا پر کچھ وقت نہیں گزار لیتے تب تک انہیں نیند ہی نہیں آتی۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ فیس بک پر دوست بڑھتے جا رہے ہیں لیکن حقیقی زندگی میں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain