تازہ تر ین

براڈ شیٹ انکوائری کمیٹی پر گرما گرمی،عظمت سعید متنازعہ شخصیت قابل قبول نہیں:اپوزیشن،کیا افتخار چوہدری یا ملک قیوم کو لگا دیں:حکومت کا جواب

مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور جمعیت علما اسلام نے جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید کو براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کا سربراہ بنانے کی مخالفت کر دی اور مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کا غیر متنازعہ سربراہ مقرر کیا جائے ۔ ن لیگ نے کہا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر قبول نہیں ہیں ، ان سے درخواست ہے کہ وہ اس کمیٹی کے سربراہ نہ بنیں، شاہد خاقان عباسی نے ترجمان مسلم لیگ (ن) مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیس کی اوپن سماعت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا عوام فیصلہ کریں گے کہ کیا کرپٹ سیاستدان تھے یا وہ لوگ جو اس طرح کے معاہدے کرکے اربوں بناتے رہے ۔ حکومت نے کمیشن بنایا اور اپنے ہی وزرا کو رکھ لیا، حصہ مانگنے والے آج وزرا ہیں ۔ براڈ شیٹ میں بہت سے پردہ نشینوں کے نام سامنے آتے رہیں گے ۔ شہزاد اکبر اور عمران خان سمیت کئی لو گ براڈ شیٹ میں کمیشن کھاتے پکڑے گئے اور جو لوگ براڈ شیٹ سے کمیشن کے پیسے مانگتے تھے آج وہ وزرا بنے ہو ئے ہیں ،ملک میں نام نہاد احتساب کی حقیقت عوام کے سامنے آچکی ہے ، یہ سب سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی داستان ہے جس میں بہت سے لوگوں کے نام ہیں، جون 2000 میں براڈ شیٹ معاہدے پر اس وقت کے چیئرمین نیب نے دستخط کیے ، حکومت پاکستان اب تک 1ہزار کروڑ روپے براڈ شیٹ کو ادا کرچکی۔ 1 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی جواب دینے والا ہے ؟ کیوں پیسے بھیجے ؟ کس مقصد کیلئے بھیجے گئے ؟ براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ عظمت سعید وہ شخص ہیں جو معاہدے کے وقت پنجاب میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے ۔ چیئرمین نیب کے دستخط والے معاہدے میں طارق فواد ملک سمیت 2 گواہ ہیں، براڈ شیٹ ایل ایل سی وہ کمپنی ہے جس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ایسی کمپنیاں جن کا کوئی وجود نہیں کیا ان سے کنٹریکٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی؟انہوں نے کہاکہ چند دن پہلے بننے والی کمپنی سے مکمل یکطرفہ معاہدہ کیا گیا، جنہوں نے انگلینڈ پیسے بھیجنے کا فیصلہ کیا وہ کمیشن میں بیٹھے ہیں، وزرا اور سرکاری افسروں پر براڈ شیٹ سے حصہ مانگنے کا الزام لگا ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید براڈ شیٹ انکوائری کمیٹی کے سربراہ نہ بنیں۔ عظمت سعید شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ آف گورنرزکے ممبر ہیں۔ اس کمیٹی میں غیرجانبدار شخصیت کو ہونا چاہیے ۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت اقتدار میں ہے ۔ پنجاب حکومت میں ہر نوکری بک رہی ہے ، ہر چیز پر سودا ہو رہا ہے ۔ بجلی، گیس، آٹا اور چینی سمیت ہر چیز مہنگی ہے ۔ وزرا پریس کانفرنسز کرتے ہیں لیکن اپنی ناکامی پر بات نہیں کرتے ۔ اس حکومت نے ہر وہ کو شش کی جس سے پارلیمان کی آواز کو دبایا جا سکے ۔ اس موقع پر مریم اورنگزیب نے کہا پہلی بار میڈیا کو پارلیمنٹ لاجز میں نہیں آنے دیا گیا، پارلیمنٹ لاجز حکومتی پراپرٹی نہیں اراکین پارلیمان کے گھر ہیں ، میڈیا کو منع کیا گیا جب پوچھا تو کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے یہ زبانی احکامات دئیے ہیں،حکومت اظہار رائے کے ہر پلیٹ فارم کو مفلوج کرنا چاہتی ہے ،آٹا چینی گیس بجلی چوری اور براڈ شیٹ پر بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین میاں جاوید لطیف نے بھی لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ براڈشیٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شیخ عظمت سعید کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا قائمہ کمیٹی کسی فرد کو طلب نہیں کررہی ہم چیئرمین نیب کو بطور ادارے کے سربراہ اس معاملے پر اپنی سہولت اور معلومات کیلئے بلا رہے ہیں، شہزاد اکبر سمیت جسے بھی بلایا گیا اسے آنا پڑے گا،اگر یہ مسئلہ یہاں حل نہ ہوا تو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر مشاورت کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا، پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کو مسترد کردیا ہے ۔سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومتی کمیٹی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے ، یہ براڈشیٹ معاملے میں تحقیقات کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ،کمیٹی سربراہ کی تعیناتی سے حکومت کی بد دیانتی سامنے آ چکی ہے ۔ شیخ عظمت سعید کو سربراہ بنانے کا مقصد تمام ملبہ اپوزیشن اور سابق حکومتوں پر گرانا ہے ۔ شیخ عظمت سعید نیب کے پراسیکیوٹر رہ چکے ہیں جبکہ شوکت خانم ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے رکن ہیں،پیپلزپارٹی تحقیقاتی کمیٹی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی ہے براڈشیٹ انتہائی اہم معاملہ ہے ، ہم شفاف طریقے سے معاملے کی تحقیقات چاہتے ہیں ، جمعیت علما اسلام (ف) نے کہاہے کہ جسٹس (ر )عظمت سعید شیخ خود شریک جرم ہیں ،ان سے تحقیقات کروانا بلی سے دودھ کی رکھوالی کے مترادف ہے ، جے یو آئی ف کے قائم مقام مرکزی سیکرٹری اطلاعات اسلم غوری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عظمت سعید شوکت خانم ہسپتال میں عمران خان کے ملازم ہیں ، حکومت کی اخلاقی کرپشن کی کہانیوں کے بعد اب مالی کرپشن کی کہانیوں سے تعفن پھیلے گا ، دوسری جانب سینیٹ کے اجلاس میں ن لیگ کے سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ براڈ شیٹ کے بارے میں تجویز دی تھی کہ اس حوالے سے پورے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے اور حکومتی اراکین نے بھی اس تجویز کی حمایت کی تھی مگر اب حکومت نے خود ہی ایک کمیٹی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں بنائی ہے ۔ اس حوالے سے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ براڈ شیٹ کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ اس ایوان میں ہوا تھااور یہ اب پوری قوم کی آواز ہے ، موجودہ حکومت کسی بھی معاملے کو چھپانے کے حق میں نہیں ہے براڈ شیٹ کے معاملے کی بھی تحقیقات ہونگی ۔ بعد ازاں ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا براڈ شیٹ کو سات ارب کی ادائیگی کیوں کی گئی؟، براڈ شیٹ کمپنی کاسربراہ عمران خان کادوست ہے ،وہ جھوٹا کیس بناناچاہتے ہیں،اڑھائی سالہ کارکردگی صفر ہے ،تمام دعوے عمران خان کے جھوٹے ہیں، قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا چاہتے ہیں۔ کراچی(سٹاف رپورٹر،اے پی پی)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ براڈشیٹ پاناما ٹو ہے ، شیخ عظمت سعید کو انکوائری کمیٹی کی سربراہی سے نہیں ہٹائیں گے ، دو تین ماہ میں شریف خاندان کی ایون فیلڈ کے علاوہ اب متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور لند ن میں10 کروڑ ڈالرز کی جائیدادیں آنے والی ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں براڈ شیٹ سے جو کچھ نکلنے جارہا ہے وہ ان کو لپیٹ میں لے گا ، اس لئے میں نے مریم نوا ز کو کہا تھا کہ بولنے سے پہلے پڑھ لیا کریں،اب یہ براڈ شیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ پر اعتراض کریں گی،براڈ شیٹ کمیٹی کا چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت کو نہ لگائیں تو کیا قیوم ملک کو لگائیں، شیخ عظمت سعید نے والیم ٹین پڑھ رکھا ہے ، ان کیلئے یہی بہت ہے ۔ میں مریم نواز کو ہمیشہ کہتاہوں کہ کہنے سے پہلے پڑھ لیا کریں ۔ انہوں نے کہا پی ڈی ایم کے پاس کہنے کے لئے اب کچھ بھی نہیں ہے ایک ریلی انہوں نے کرنی ہے اس کے لئے ہم انتظار کررہے ہیں۔ کورونا کے بعد ملک کی معیشت میں بہتری آئی ہے ، صنعت کا پہیہ چلنے لگا ہے یہ اس میں رکاوٹ چاہتے ہیں ، جو مرضی کرلیں ان کا دور اقتدار نہیں آئے گا ۔ مولانا فضل الرحمان سمجھ رہے ہیں کہ ن لیگ کے ساتھ ملکر شاید ان کا کوئی سیاسی کردار بن جائے گا ، مولانا کے 6 فیصد ووٹ ہیں اور 13 ان کے ممبر ہیں ، کوئی ان کا سیاسی کردار نہیں بننے گا۔ ملک میں ریڈالرٹ ہے اور عالمی طاقتیں پاکستان اور سی پیک کو ڈسٹرب کرنا چاہتی ہیں ، غیرملکی دشمن اس ملک میں امن نہیں دیکھنا چاہتے ، اس لئے ملک کے اہم شہروں میں ریڈالرٹ ہے ،سندھ حکومت کراچی کو محفوظ بنانے کیلئے رینجرز سے تعاون کرے ، انہوں نے کہا جب اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتیں احتجاج کررہی تھیں، بلاول عمر کوٹ میں جشن منارہے تھے ۔ علاوہ ازیں وزیر داخلہ نے ہیڈ کوارٹرزپاکستان کوسٹ گارڈز کا دورہ کیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved