تازہ تر ین

ملک کے مختلف حصوں میں ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے دوسرے روز بھی جاری ہیں جبکہ گزشتہ روز احتجاج کے دوران 2 افراد ہلاک جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے بیان کے مطابق ایم-1، ایم-2، ایم-3، ایم-4، ایم-5، ایم-9، آئی ایم ڈی سی ڈبلیو اور ای-35 سمیت تمام موٹرویز ہر قسم کی ٹریفک کے لیےکھلی ہیں۔

تاہم ٹیکسلا بائی پاس، گجر خان سٹی، روات سٹی، دینا سٹی، کینال برج، لالہ موسیٰ، چاند دا قلعہ، مریدکے، پی این ای روڈ، مولن وال، مولن وال بائی پاسم رینالہ خرد، لاہور موڑ، روشن آباد اور لاڑکانہ بائی پاس کے مقامات پر سڑکیں احتجاج کے باعث بند ہیں۔

کراچی

کراچی ٹریفک پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہر میں بیشتر مقامات پر دھرنے ختم کیے جاچکے ہیں اور سڑکیں معمول کے ٹریفک کے لیے کھلی ہیں۔

البتہ بلدیہ نمبر4 (حب ریور روڈ/نادرن بائی پاس)، کورنگی نمبر ڈھائی (کورنگی روڈ)، اورنگی ٹاؤن (شارع اورنگی)، پر احتجاجی مظاہرین موجود ہیں۔

جس کے پیش نظر ٹریفک پولیس حکام نے مسافروں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی۔

اسلام آباد

اسلام آباد پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق شہر میں فیض آباد کے مقام پر تمام اطراف سے سڑکیں بند ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں 5 مقامات بشمول ڈھوکری چوک، راول ڈیم چوک، باراکہو روڈ، روات ٹی کراس اور ترنول کے مقامات پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

لاہور

دوسری جانب سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج جاری جس کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

لاہور پولیس کے مطابق شہر میں امامیہ کالونی پھاٹک کالا کھٹائی روڈ، نیو شاد باغ چوک، شاہدرہ موڑ براستہ بیگم کوٹ چوک، کرول گھاٹی رنگ روڈ، شاہ کم چوک، یتیم خانہ چوک اور اسکیم موڑ، خیابان چوک رائیونڈ روڈ، مند پلی رائیونڈ کے مقام پر سڑکیں احتجاج کے باعث بند ہیں۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور وہاں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے احتجاج کررہی تھی۔

مطابق حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔

جس پر ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

بعدازاں اتوار کے روز سعد رضوی نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں گزشتہ روز گرفتار کرلیا تھا۔

ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورتحال اختیار کرلی جس کے بعد ٹی ایل پی نے فیصل آباد اور کراچی میں ایک ایک کارکن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved