تازہ تر ین

کال ماسکنگ ۔ اسکیمرز کا لوگوں کو لوٹنے کا منظم طریقہ #DontShareOTP

کال ماسکنگ ۔ اسکیمرز کا لوگوں کو لوٹنے کا منظم طریقہ
#DontShareOTP

پاکستان بھر میں حالیہ سالوں میں ڈیجیٹل فنانس سروسزکی جانب رجحان میں تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔بدقسمتی سے اس بڑھتے ہوئے رجحان سے اسکیمرز نے منفی فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے اور وہ سیدھے سادے کسٹمرز کو مختلف طریقوں سے اپنے جال میں پھنساکر دھوکہ دہی کے ذریعے مالی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ سوشل انجینئرنگ ،فشنگ (Phishing) اور کال ماسکنگ دھوکہ دہی کے کچھ ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے اس طرح کے بدنیت افراد ، کسٹمرز(استعمال کنندگان) کو اپنے کوائف بتانے پر دھوکے سے آمادہ کرتے ہیں اور نتیجے میں اپنی معلومات فراہم کرنے والے کسٹمرز ،ڈیجیٹل اکاﺅنٹس میں موجود اپنی رقوم سے محروم ہوجاتے ہیں ۔
دھوکہ دہی کے اس عمل میں سب سے عام طریقہ کار ، کال ماسکنگ ہے۔مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اور بینکس کی اپنی ہیلپ لائنز ہوتی ہیں اور اسکیمرز اپنے نمبروں کو ماسکنگ کے ذریعے ان اداروں کے آفیشل نمبرز ظاہر کرتے ہوئے کسٹمرز سے رابطہ کرتے ہیں ۔ کسٹمرز موصول ہونے والی کال کو اپنے متعلقہ بینک کی کال سمجھتے ہیں جو کہ دراصل کسی اور نمبر سے کی جاتی ہے۔ پھر یہ دھوکے باز افراد خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرکے کسٹمرز کو ان کی تفصیلات بشمول OTP/PIN بتانے پرمجبور کرتے ہیں اور عمومََا کسٹمرکو آمادہ کرنے کے لیے زیادہ تر ان جملوں کا استعمال کرتے ہیں :
(i) اکاﺅنٹ تصدیق شدہ نہیں ہے اور اگر کسٹمر نے موصول شدہ کوڈز نہیں بتائے تو اکاﺅنٹ بلاک کردیا جائے گا۔
(ii) اکاﺅنٹ میں غلطی سے رقم بھیج دی گئی ہے اور آپ کی طرف سے کوڈز بتائے جانے سے بینک کواپنی رقم واپس وصول کرنے میں مدد ملے گی۔

بینکس اور ڈیجیٹل پیمنٹ پلیٹ فارمز کسٹمرز کو مسلسل آگاہی فراہم کررہے ہیں کہ ان کا ادارہ کبھی بھی نہ تو انہیں اپنے ہیلپ لائن نمبر سے کال کرے گا اور نہ ہی ان سے تفصیلاتکوائف کے بارے میں معلومات حاصل کرے گا، کیونکہ زیادہ تر ہیلپ لائن نمبرز صرف کال موصول کرنے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں اور بینکس کسٹمرز کو ان نمبر سے کال نہیں کرتے ہیں ۔کسٹمرز کو ایسے نمبروں سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جوان کے بینک کے آفیشل ہیلپ لائن نمبر جیسے ہوں، نیز کسٹمر کو ان کالز کے ذریعے اپنی تفصیلات بشمول OTP/PINکسی بھی صورت میں کسی سے شیئر نہیں کرنی چاہیئے۔کسٹمرز کو چاہئیے کہ انہیں جب بھی کسی ایسی کال پر شک ہو تو وہ اسے کاٹ کر فوری طور پر اپنے بینک کی آفیشل ہیلپ لائن پرفون کرکے اس کال سے متعلق حقائق معلوم کریں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain