تازہ تر ین

ہم دو اور ہمار ے صرف دو

عبدالباسط خان
11جولائی کو آبادی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی پر کوئی سیمینار یا کانفرنس منعقد نہیں کی گئی۔ ایک دو اخباروں میں آبادی کے مسائل پر روائتی مضامین شائع ہوئے اور چند پروگرام ٹیلی ویثرن کی زینت بنے البتہ آج وزیر منصوبہ بندی جناب اسد عمر کا ایک ویڈیو پروگرام دیکھا جن میں انہوں نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مضمرات سے عوام کو آگاہ کیا اور کہا کہ اولاد کی پیدائش میں وقفہ رکھنا بچے اور ماں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے ملک کے مسائل کی ماں ہے۔ ہماری ماضی کی حکومتوں نے جس میں فوجی اور سول حکومتیں شامل ہیں آبادی کے موضوع پر عوام سے ڈائیلاگ کبھی نہیں کیا خواہ بات اسمبلیوں کی کی جائے یا سینٹ کی یا میڈیا کے بڑے بڑے چینلز کی اور اپوزیشن جماعتوں کی جو کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے حکومت کے خلاف بیان بازی میں مگر حیف صد حیف وہ بھی بڑھتی ہوئی آبادی پر لب کشائی سے گریزاں نظر آ تے ہیں۔ ایوب خان کے وقت میں آبادی پر گفتگو ڈائیلاگ اور عوام شعور بیدار کرنے کے لیے کاوشیں کیں گئیں مگر بعد ازاں ضیاء الحق کی حکومت کی بدولت ہماری عوام میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور آج کوئی سیاسی رہنما اکیسویں صدی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بھی مجرمانہ غفلت اور مصلحت پسندی کا لبادہ اوڑھے حکومت سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ جناب ہمیں آبادی کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
ہمارے ٹی وی چینلز بھی نہیں سوچتے کہ وہ کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ اس موضوع پرمذا کرے یاسیمینار کروائیں حالانکہ اس میں ان کے پیسے خرچ نہیں ہوتے۔ ہمارے فیورٹ موضوع جن پر عوام کو بیوقوف یا جذباتی طور پر گمراہ کیا جا تاہے وہ ہیں کشمیر کو آزاد کروائیں گے کشمیر بھارت کو بیج دیا گیا ہے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کے مصالحے کو خوب رگڑ رگڑ کر بیچا جاتا ہے۔
عمران خان کی حکومت کو لانے والے جیسے خطابات دینے کی جرأت تو ہمارے لیڈروں میں ہے مگر آبادی پر بات کرتے ہوئے ان کے لب سِل جاتے ہیں۔ مجھے کوئی یہ سمجھا دے کر ملک میں پانی کی تیزی سے بڑھتی قلت اور خوفناک غذائی بحران اہم ہے یا الیکشن میں دھاندلی کا رولا ڈالنا، گندم، چاول، چینی آٹے کا بحران کس بات کی نشاندہی کرتا ہے کیا آبادی کے بڑھنے سے زرعی زمینیں ختم نہیں ہو رہی ہیں جگہ جگہ کمرشل بلڈنگیں سوسائٹیاں تعمیر ہو رہی ہیں۔ لوگ پیسے کے لیے قابل کاشت رقبہ فروخت کر رہے ہیں ہم زرعی ملک ہوتے ہوئے کپاس گندم اور چینی باہر سے درآمد کر رہے ہیں لیکن مجال ہے کہ ہمارے سیاستدان حکومتیں پالیسی میکرز، پالیسی ڈرائیورز آباد ی کے معاملے پر دونوں ایوانوں کا اجلاس بلائیں بات ہوتی ہے تو صرف اقتدار کے حصول کے لیے لفظی جنگ اور بمباری میڈیا پر نظر آتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ حکمران سیاستدان اپوزیشن ہماری آئندہ نسلوں کی بربادی کے مجرم کہلائیں گے جو صرف اقتدار اور دولت کی جنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔
آئیے ہم اپنے ہمسایہ ملک ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اُتر پردیش بھارت کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے یوگی انند ناتھ اس کے موجودہ وزیراعلیٰ ہیں آبادی کے عالمی دن کے موقع پر انہوں نے یوپی کی نئی آبادی پالیسی کا اعلان کیا بقول ان کے 2000-2016تک کی پالیسی اب فعال نہیں رہی لہٰذا 2021-30کی نئی پالیسی کا میڈیا کے سامنے اعلان کیا اور انہیں جولائی تک عوام سے اس پالیسی پر رائے مانگی گئی ہے۔ اس پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات حسب ذیل ہیں۔
1۔دو بچوں سے زائد لوگوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے نہیں دیا جائے گا۔
2۔یوپی صوبہ میں دوبچوں سے زائد افراد کو سرکاری نوکریاں نہیں دی جائیں گی۔
3۔جو لوگ پہلے سے سرکاری نوکریوں میں ہوں گے ان کو ترقیاں نہیں دی جائیں گی۔
4۔چار افراد سے زائد خاندان کو راشن کارڈ جاری نہیں ہوں گے۔
5۔یوپی کی آبادی کے تناسب کو 3.1فیصد سے کم کرے 2.1فیصد تک 2030تک لانا ہوگا۔
اس کے برعکس جو لوگ صرف
دو بچوں پر قناعت کریں گے
1۔ان کو گھروں کے قرضے کے لیے آسانیاں دی جائیں گی۔
2۔فری ہیلتھ کیئر انشورنس دی جائے گی۔
3۔جس خاندان میں صرف ایک بچہ ہوگا اس کو گورنمنٹ جاب میں ترجیح دی جائے گی۔
4۔پلاٹ خریدنے کے لیے سب سبسڈی دی جائے گی۔
5۔ایک بچے والے جوڑے کو مکمل فری ہیلتھ ٹریٹمنٹ ملے گا۔
6۔خاندان جس میں صرف دو بچے ہوں گے وہاں ایک لڑکی کو ہائر ایجوکیشن اور سٹیڈیز کے لیے سکالر شپ دیا جائے گا۔
7۔چار خاندان پر مشتمل کے لیے اگر کوئی سرکاری نوکری کر رہا ہے تو اس کو اس کی زندگی میں دو ایڈیشنل اضافی ایکریمنٹ دی جائیگی۔ یہ چند اقدامات ان کی 2021-30کی پالیسی میں اٹھائے جائیں گے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اس پالیسی کے تحت جس میں یوپی سرکار کا نعرہ ہے “ہم دو اور ہمارے صرف دو”کو سپریم کور ٹ میں چیلنج کیا جائے گا یا نہیں یہ تو اس وقت ممکن ہوگا جب یہ بل یوپی کی اسمبلی سے پاس ہوگا ویسے تو یوپی انندناتھ کی اپنی اسمبلی میں بھاری اکثریت ہے لیکن دوسرے طرف مسلمان یقینا اس کے خلاف کھڑے ہونگے کیونکہ مسلمان تو چار شادیاں کر سکتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو جو چار شادیاں کریں گے تو بچے ہر صورت میں دو ہی رکھنے ہوں گے۔
موجودہ حکومت کو درج ذیل اقدامات فوری کرنے ہونگے۔
1۔تمام صوبائی حکومتیں ایسے لوگوں کو یا خاندان کو یوٹیلٹی سٹورز اور بلوں کی ادائیگی میں سبسڈی دے۔
2۔ہر خاندان میں ایک لڑکی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مفت سکالر شپ دے۔
3۔کم عمری کی شادیوں پرقانون کے مطابق سخت سزائیں دے اورایسے لوگوں کی میڈیا پر رونمائی کرائی جائے۔
4۔تمام صوبوں میں آبادی کی منسٹریوں پرسپیشلسٹ فیملی پلاننگ کی جائے اور این جی اوز کے تعلیم یافتہ لوگوں کو لگایا جائے۔
5۔ملک کی تمام صوبائی اسمبلیاں اس پر بحث کریں اور اقدامات تجویز کریں۔
6۔اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کا از سر نو جائزہ لیا جائے کیونکہ وہاں سے کوئی بل پاس نہیں ہوتا۔
7۔پرائم منسٹر صاحب کو ہنگامی آبادی کی پالیسی کا اعلان کرنا ہوگا۔
8۔تعلیم پر بجٹ کم از کم چا فیصد سے زیادہ استعمال کیا جائے۔
9۔صحت کے لیے پنجاب کے بڑے بڑے شہر وں میں ہسپتال پبلک پرائیویٹ ہاؤسز شب کے تحت اور دس سال تک ٹیکس فری کے لیے چاہیں۔
10۔پی ٹی وی اور پیمرا کے تحت تمام چینلز کو ہفتے میں ایک پروگرام آبادی پر کرائے جائیں۔
11۔ جنجال پورہ اور اسی طرح کے اور مزاحیہ پروگراموں کے تحت لوگوں میں آگاہی مہم چلائی جائے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم جب تک ہمارے وسائل نہیں بڑھتے یا قرضوں سے نجات نہیں ملتی۔ آبادی کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ ہم اقوام متحدہ کو بھی جوابدے ہیں۔
12۔آبادی کو کنٹرول کر نے کے لیے مانع حمل ادویات کی فروانی کو تمام افراد تک رسائل دلائی جائے۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں
young indian girl ass fucking slow to fast XXX みきぷるん tokyomotion افلام سيكس مترجمة
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved