تازہ تر ین

نوجوان نسل کے لئے ہماری پالیسی

سمیرا ملک ایڈووکیٹ
موجودہ دور میں وہ ممالک بہت خوش قسمت ہیں۔ جن کے پاس یوتھ کی طاقت موجود ہے۔ الحمدللہ، پاکستان بھی نوجوان جواہر میں ساٹھ فیصد طاقت کا حامل ملک ہے۔اس کے باوجود ہم ترقی کی راہ پر درست خطوط پرگامزن نہیں ہوسکے ہیں۔پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی میں اب تک تقریباً سترہ کروڑ لوگوں کے پاس موبائل فون کے کنکشن ہیں۔ پچھلے ایک سال میں موبائل فون کا استعمال کرنے والوں میں ستر لاکھ لوگوں کا اصافہ ہوا ہے۔ ہمارے ملک کے بچے آن لائن گیمز کھیلتے ہیں۔ اب جس گھر میں جائیں نوجوان نسل پب جی گیمز میں سر ڈالے ہوئے ہے۔ پھر یہی نوجوان لڑائی جھگڑا کرنے کی منفی سرگرمیوں میں بھی نظر آتے ہیں۔ان ہی گیمز کا شاخسانہ ہے کہ نوجوانوں کے رویوں میں خلط ملط آتا ہے۔ پھر نت نئے ایشوز کھڑے ہوجاتے ہیں۔ذہنی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اگر یہی بچے اپنا ٹائم کھیلوں کے میدان میں گزاریں تو نتیجہ مختلف ہوگا۔موبائل فون سے پہلے کے زمانے کھیل کے میدانوں میں نوجوان تعلیم سے فراغت کے لمحات گذارتے تھے۔کھیلوں کاحصہ بنتے تھے۔ان کے رویوں میں اخلاقی پاسداری تھی۔آگے بڑھنے کی امنگ تھی۔ یہاں پر مجھے قائد اعظم محمد علی جناح کی بات یاد آگئی۔ہمارے عظیم قائد کوکھیلوں سے بہت پیار تھا۔ کیونکہ کھیل قوم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہم میں سے کوئی شخص ایک گھنٹہ پان سگریٹ کی دکان کے باہر کھڑے رہ کر خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ زیادہ تر نوجوان طبقہ ہی ہے۔جو اس دکان کا رخ کرتا ہے۔جن کی عمریں پندرہ سے پچیس سال تک ہوتی ہیں۔وہ سگریٹ لینے آتے ہیں۔ سگریٹ لی۔دکاندار کی ماچس یا لائٹر سے سلگائی۔ان میں کئی نوجوان ایسے ہوتے ہیں۔جو سگریٹ کے ساتھ تمباکو والے پان۔میٹھی سپاری اور گٹکا کھانے کا شوق بھی پورا کرتے ہیں۔ غٹاغٹ بوتل بھی پی رہے ہوتے ہیں۔اس دوران ان کی باتوں کا موضوع لڑکیاں ہوتا ہے۔، بدمعاشی کا شوق، اسلحہ کی شوخیاں، بد تمیزی، ہلڑ بازی، گالیاں پھر لڑائی۔ شو آف، میں ان کو دیکھ کر کوئی بھی ذی شعور یہی سوچ سکتا ہے۔سگریٹ کارنر پر ہمارے سامنے جس قماش کے نوجوان ہیں۔کیا ان کے ہاتھ میں پاکستان کا مستقبل ہے۔
سب جانتے ہیں کہ یہی بچے پہلے شیشے سے شروع ہوتے ہیں، پھر عام سگریٹ، پھر چرس، پھر آئس، پھر ہیروئن تک جاپہنچتے ہیں۔ نشے کے انجکشنز کی علت میں بھی پھنس کے رہ جاتے ہیں۔جب پیسے ختم ہوجاتے ہیں توجرائم کاراستہ اختیار کرلیتے ہیں۔یوں کسی گھر کا چشم وچراغ ایک روز اشتہاری کہلاتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھی نشہ، اسلحہ، سیاست، پہنچ چکی ہے۔ جبکہ ایک طالبعلم کا ان چیزوں سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ نوجوان کو دوران تعلیم اپنی تعلیمی مصروفیات اور کھیلوں کی سرگرمیوں کوہی وقت دینا چاہئے۔
والدین کو خصوصی توجہ بچوں پر مرکوز کرنی چاہئے۔ مہنگے اسکول میں اپنے بچوں کو ایڈمیشن دلوانا اسٹٹس بن چکا ہے۔بڑی فیسیں بھری جاتی ہیں۔تعلیم کے نام پر یہ بے جااخراجات پورے کرنا ہی والدین کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ادب، تمیز، تہذیب سکھانا مذہب کی جانب راغب کرنااخوت و رواداری کا سبق دینا مطلب اچھا انسان اورسچا مسلمان بنانا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔۔۔
کہتے ہیں اگر کمرہ کتاب کے بغیر ہو تو ایسا ہے کہ جسم روح کے بغیر ہے۔میں تمام میچیورڈ، سمجھدار لوگوں کے ساتھ نوجوانوں سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ ہم نے بچوں کو کتاب پڑھنے کا شوق کیوں نہیں دیا ہے۔ان کو مہنگے موبائل تو لے دیتے ہیں مگر کتاب کے مطالعے کا شغف نہیں دیا۔ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 9 فیصد لوگ کتاب پڑھتے ہیں۔ جبکہ 75 فیصد لوگ سلیبس کی کتاب سے باہر نہیں نکلتے ہیں۔وہ صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھتے ہیں۔ستّر اور نوّے کی دہائی میں پبلک لائبریری اور بک شاپ پر لوگ شوق سے جاتے تھے۔ اب ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈیجیٹل کتاب پرھنے کی بجائے گیمز اور ٹک ٹاک پر ٹائم گذارہ جاتا ہے۔ ایسا کیا کیا جائے کہ پاکستانی نوجوانوں کو فضول سرگرمیوں سے ہٹاکر مثبت سرگرمیوں کیطرف لایا جاسکے۔۔ ان کوایسے کس کام پر لگایا جائے۔ ان کا وقت بھی بہترین گزرے۔ یہ منفی دھندوں سے دور رہیں۔
گذشتہ دنوں پندرہ جولائی کو نوجوانوں کاہنر مندی کا عالمی دن منایا گیا تھا۔اور میں نے گورنمنٹ ٹیکنیکل ویمن کالج کے پروگرام میں شرکت کی۔جس میں صوبائی سطح پر پوزیشن لینے والے طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ نوجوانوں کے ہنرمندی کے عالمی دن کے موقع پر طالبات کے ہاتھوں سے بنے مختلف فن پاروں کی خوبصورت نمائش کا ربن کاٹ کر افتتاح کیاگیا۔ اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج برائے خواتین سمیرا صالحہ اور دیگر اساتذہ و منتظمین نے بچوں کا حوصلہ بڑھایا۔
سب سے بنیادی طور پر حکومتی سرپرستی میں بچوں کو برسر روزگار بنانے کے لیے virtual assistant کے آن لائن پروگرام شروع کیے گئے۔جو Amazon کے ساتھ منسلک تھا۔جس سے سینکڑوں بچے فری ٹریننگ کے بعد لاکھوں روپے گھروں میں بیٹھ کر کما رہے ہیں۔ جس سے انکو وقت پر روزگار فراہم ہو رہا ہے۔اس طرح کے بہت پروگرام گورنمنٹ شروع کر رہی ہے تاکہ ہنر کے ذریعے لوگ روزگار کما سگیں۔
موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نوجوانوں کے لئے ترقی کے خصوصی اقدامات اٹھارہی ہے۔پڑھے لکھے اور ہنرمند نوجوانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔نوجوانوں میں منفی سرگرمیوں کی بجائے مثبت رجحانات کو فروغ دینا ہوگا۔والدین،اساتذہ کرام،سیاسی سماجی اسٹک ہولڈرز کسی کمی کوتاہی کے سبب بگڑنے والے بچوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔جس روز سگریٹ کی دکانیں،بک اسٹالز میں تبدیل ہوگئیں۔پاکستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتاکہ نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔اس ملک کے ساٹھ فی صد نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل اورہماری امید ہیں۔
(مختلف موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain