تازہ تر ین

عزت والے ہی عزت دیتے ہیں

ڈاکٹرعبدالقادر مشتاق
میری یہ عادت بن چکی ہے اور میں کوشش کرتا ہوں کہ صبح کے وقت کسی عالم دین کے خیالات سے استفادہ کیا جائے۔ دین کی سوجھ بوجھ پیدا کی جائے۔ کیونکہ اگلے جہان سوال کوشش کا ہونا ہے نتیجے کا نہیں۔ سوال ہو گا کہ دنیا میں خدا کے دین کو سمجھنے کے لئے تو نے کیا کوشش کی۔ اس لئے انسان کو کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جب بھی بات ہوتی ہے تو اس کے نقصانات پر بھرپور تقاریر کی جاتی ہیں۔ اس کا نوجوانوں کو تباہ کرنے میں کیا کردار ہے اس پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ لیکن ہم اس کو دوسرے زاویے سے دیکھنے کے عادی نہیں ہیں۔ زاویہ بدلنے سے چیز کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔ نوجوانوں کو اگر منزل ہی نہ دی جائے تو پھر گمراہی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اب منزل کس نے دینی ہے۔ والدین نے اور اساتذہ نے۔ کہتے ہیں کہ آج کے نوجوان والدین کا احترام نہیں کرتے، طلبہ و طالبات اساتذہ کی عزت نہیں کرتے۔ میں نے ایک دوست سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے۔ اس نے کہا سوشل میڈیا نے اس قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ جب تک اس پر پابندی نہیں لگے گی یہ قوم نہیں سدھر سکتی۔ میں نے سوال کیا کہ کیا پابندی میں ہی عزت ہے؟ اس نے کہا کہ جی بالکل جب تک میڈیا پر پاکستان میں پابندی تھی اس وقت تک سب ٹھیک تھا۔ یہ بیڑا غرق ہو مشرف کا جس نے اس ملک کو تباہ کر دیا۔ بے حیائی اور فحاشی لے کر آیا۔ وہ بولتا چلا گیا اور بہت سے مسائل پر روشنی بھی ڈالتا جا رہا تھا۔ اس دوران ہمارا ایک اور دوست آگیا وہ بھی شریک گفتگو ہوا۔ جب پہلے والے دوست نے کہا کہ میڈیا کی یلغار نے ہمارے کلچر کو تباہ کر دیا ہے تو دوسرے دوست نے اچانک سوال کر دیا کہ آپ کا کلچر اتنا کمزور ہے کہ وہ دشمن کے وار کا مقابلہ ہی نہیں کر سکا اور ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
یہ تو حقیقت ہے کہ طاقتور کلچر کمزور کلچر کو کھا جاتا ہے۔ میں نے جسارت کی اور درخواست کی کہ تباہی، مرنا، مارنا، کھانا کی باتیں بہت ہوگئی ہیں۔ ہم اس کو اس طرح سے کیوں نہیں دیکھتے کہ جب دو کلچر ملتے ہیں تو ان کے ملنے سے ایک نیا کلچر وجود میں آتا ہے۔ جو دونوں کلچرز کی خصوصیات اپنے اندر سمو ہوتا ہے۔ مغل حکمران اکبر نے ہندوؤں کو اپنے اقتدار اور اپنی پالیسیوں میں شامل کیا تو ہندووں اور مسلمانوں کے ملاپ سے بر صغیر پاک و ہند میں ایک نئے کلچر نے جنم لیا۔ اسی طرح جن لوگوں کے آباواجداد ہندو تھے اور بعد میں وہ بزرگان دین کی کاوشوں کی بدولت مسلمان ہو گئے ان کے رہن سہن میں آج بھی ہندو مذہب کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی شادی اور فوتیدگی کی رسومات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بہت سی غیر اسلامی چیزیں نظر آئیں گی۔ میرے دوستوں میں سے ایک بولا کہ کیا کلچر مذہب سے زیادہ مضبوط ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے بھی لگتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں صبح جلدی بیدار ہونا معمول ہے۔ سب مذاہب میں صبح جلدی بیدار ہونے کو اچھا شگون بھی قرار دیا گیا ہے۔ صبح جلدی بیدار ہوکر خدا کی عبادت سب کا مشترکہ معمول ہے۔ کوئی قرآن پڑھتا ہے، کوئی مسجد کا رخ کرتا ہے تو کوئی مندر اور گوردوارے کا۔ پھر میرے دوست نے گفتگو کو ایک نیا موضوع دینے کی کوشش کی اور کہا کہ عزت دینا اور لینا بھی ہمارا مشترکہ کلچر ہے؟ پہلے تو میں تھوڑا خاموش ہوا پھر مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو یوٹوب پر ایک مولوی صاحب بیان کر رہے تھے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق بیٹھے تھے اس دوران حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی جگہ حضرت علیؓ کو دے دی اور آپ تھوڑا سا پیچھے ہو گئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ دیکھا تو فرمایا کہ عزت والے ہی دوسروں کو عزت دیتے ہیں۔ بہت خوبصورت بات تھی میرے نبی کی کہ عزت والے ہی دوسروں کو عزت دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ عزت کا تصور انسانیت سے جڑا ہے۔
دنیا میں جتنے بھی مذاہب آئے وہ انسانوں کی فلاح اور عزت واحترام کے لئے آئے۔ اس لئے اخلاقیات کا درس ہر مذہب میں موجود ہے۔ لیکن ہمارے نبی نے غلاموں، یتیموں، نادار اور غریب لوگوں کو عزت دی۔ برصغیر پاک و ہند میں بزرگان دین نے شودر لوگوں کو آنکھوں پر بٹھایا۔ ان کو معاشرے میں عزت دی۔ جس سے مذہب اسلام کا پرچار ہوا۔ اس لئے عزت لینے کے لئے عزت دینی پڑتی ہے۔ قربانی دینی پڑتی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے خدا کے مذہب کے لئے قربانی دی تو خدا نے لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے محبت پیدا کر دی۔ دوست بولا کہ اس کا مطلب ہے کہ عزت لینے کے لئے خدا سے دوستی ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ بہت ضروری ہے۔ کیونکہ وہ عزت رکھنے والا ہے چاہے یہ فانی دنیا ہو یا اگلا جہان۔ میرے والد گرامی روز تہجد پڑھتے تھے اور بعد میں اپنی دعا میں اکثر یہ الفاظ بولتے تھے کہ اے خدا کر کرم کروا کرم۔۔۔دونوں جہاں میں رکھ شرم۔ خدا ہی شرم رکھنے والا ہے۔ وہ آپ کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور گناہوں کو صیغہ راز میں رکھتا ہے وہ اس لئے کہ وہ آپ کو رسوا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ آپ کے گناہ دیکھتا ہے پھر بھی خاموش رہتا ہے غصہ میں نہیں آتا۔ بار بار انسان کو موقع دیتا ہے کہ لوٹ آ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ سارے مسائل اور مصیبتیں خدا کی طرف سے ہیں اور خدا کی طرف ہی لوٹ کر جانے والی ہیں۔ گفتگو کے دوران ہی دوست نے کہا آپ کے لئے چائے لاؤں۔ میں نے اسے تو کہا کہ ضرور، لیکن خدا کا دل میں شکر ادا بھی کیا کہ تو نے بات کرنے کی توفیق دی، دوستوں میں عزت دی، بہن بھائیوں کا پیار دیا، روزگار دیا، میرے بچوں کے لئے نان ونفقہ کا بندوبست کیا۔ تو بہت رحیم ہے، کریم ہے، غفور ہے۔ ہم جیسے گناہ سے لبریز انسانوں پر اگر تیرا اتنا کرم ہے تو تیرے نیک بندوں پر تیرے کرم کی تو کوئی حد ہی نہیں ہوگی۔ اس لئے خدا کے نیک بندے کبھی مرتے نہیں بلکہ ان کی خانقاہوں اور درگاہوں پر ہمیشہ حق کے چراغ جلتے ہیں، چاہے وہ خواجہ معین الدین چشتی کا مزار ہو یا پیر مہر علی شاہ کا۔
خدا سے محبت کرنے والوں کے لئے خدا اپنی مخلوق کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے۔ جب مخلوق کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے تو انسان کو خود بخود معاشرے میں عزت ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن ہماری کم عقلی ہے کہ ہم ہمیشہ انسانوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں عزت دیں۔ ان انسانوں سے میرا سوال ہے کہ اگر خدا انسانوں کو توفیق ہی نہ دے تو وہ آپ کو کیسے عزت دے سکتے ہیں؟ کیونکہ عزت تو خدا دینے والا ہے۔ وہ انسانوں کے دلوں میں آپ سے محبت پیدا کرنے کے لئے آپ سے ایسے کام کروا جاتا ہے جس سے آپ کی معاشرے میں عزت سے اضافہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کہیں بے عزتی کا بھی سامنا کرنا پڑھے تو اس میں بھی خدا کی کوئی حکمت ہوتی ہے ورنہ خدا کبھی اپنے بندوں کو بے عزت نہیں ہونے دیتا۔ خدا ہم سب کو عزت دے اور ہماری عزتوں کو قائم رکھے۔
(کالم نگار جی سی یونیورسٹی فیصل آبادکے
شعبہ ہسٹری کے چیئرمین ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain