تازہ تر ین

باتوں سے پھول

انجینئر افتخار چودھری
گزشتہ ہفتے پارٹی کے مرکزی ترجمانوں کی نشست میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ میں وزیراعظم کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے عزت بخشی۔ پاس سے گزرے تو مسکرا کر پوچھا ”کیا حال ہے تمہارا“۔ قائد کا پوچھنا ہی میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ یقین کیجئے ایک دن پریشان تھا کہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں، میں ان سے نہیں مل سکا، پتہ نہیں ہم ان کی یاد میں ہیں بھی نہیں۔ اللہ بھلا کرے عامر کیانی جس نے چار سال پہلے ملوایا تھا۔ ہر شخص کی اپنی ایک خواہش ہوتی ہے۔ میرے جیسے لاکھوں کارکن عمران خان سے پیار کرتے ہیں۔ بہت سوں کو موقع بھی مل جاتا ہے لیکن دوسال سے مجھے مرکز سے صوبے میں بھیج دیا گیا تھا۔ نارتھ پنجاب کی تنظیم میں رہ کر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے سوائے وقت ضائع کرنے کے مجھے کچھ نہیں ملا چونکہ ہم تنظیمی بندے ہیں، اپنی رائے سوچ کا اظہار پارٹی کے اندر رہ کر بخوبی کیا۔ تنظیموں میں جو خرابیاں تھیں اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں لیکن تنظیمیں ٹوٹی کیوں اس کی وجہ بھی کچھ لوگوں کی ذاتی ہوس تھی۔ کچھ لوگ پارٹی عہدہ پاکر اونچی جگہ چڑھ گئے، قانون کی دھجیاں اڑائیں۔ آج پارٹی پر اندر اور باہر سے حملے ہورہے ہیں۔ احمد جواد جیسے لوگ جھپٹ رہے ہیں جن کو کئی سالوں سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں نہیں بلایا گیا تھا، نکلنے پر اچھل کود کررہے ہیں۔ میں قائد سے دور مگر دل سے دور نہ تھا لیکن اس دن کی میٹنگ سے اندازہ ہوا کہ میرے قائد کا حوصلہ ہمالیہ کی چوٹیوں کی طرح بلند ہے۔ ان کی پارٹی پر کمانڈ بھی اسی طرح ہے جس طرح پہلے ہوتی تھی۔
پہلے بھی ہم لوگ آزادانہ طور پر اظہارِ خیال کیا کرتے تھے اور آج بھی وزراء، اراکین اپنی باتوں کا اظہار کھل کر کررہے تھے۔ کوئی چاپلوس نہ تھا۔ کسی نے کہا وزیراعظم آپ مہان ہیں، آپ عظیم ہیں کہ اپنے اعتراضات اپنی تجاویز اس قدر خوبصورتی سے بیان کیے جارہے تھے جیسے ایک کارپوریٹ کلچر میں بیٹھے منظم لوگ بات کرتے ہیں۔ کسی نے چیئرمین کی اجازت کے بغیر بات نہیں کی۔ حماد اظہر، خسرو بختیار، شہباز گل، شیخ رشید اور شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر وسیم شہزاد، فیصل جاوید خان، کنول شوذب، عالیہ حمزہ، علی محمد خان ہوں، ہمایوں اختر یا کوئی اور انہیں مکمل موقع دیا گیا۔ عمران خان کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنا نقظہ نظر ہاتھ پھیلا پھیلا کر ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کھول کر اس طرح گفتگو کرتے ہیں کہ اگلے کے کانوں سے ہوکر باتیں دل میں اتر جاتی ہیں۔ جاڑے کے دنوں میں جب وزیراعظم ہاؤس میں کھابے کھائے جاتے تھے، رؤف حسن بھائی کھڑکی سے باہر برستی بارش اور دُھند سے لطف اندوز ہوئے۔ میں سمجھ رہا تھا کہ آج جو میز سجے گا۔ اس میں کم ازکم دو تین ڈشیں ہوں گی لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ایک روسٹڈ چھوٹا سا رس کا ٹکڑا اور آدھی سے کچھ زیادہ پیالی میں یخنی پیش کی گئی۔ میں نے زندگی میں پہلی بار چائے کی پیالی کا یہ استعمال دیکھا۔ وزیراعظم نے جس بچت کی بات کی تھی، وہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی جگہ میاں نوازشریف ہوتے تو گل چھرے اڑائے جاتے۔
عمران خان ہر شریک مجلس کی گفتگو بڑے غور سے سن رہے تھے۔ لاہور سے جمشید چیمہ لائن پر لیے گئے، ان کی اس بات کو وزیراعظم نے سراہا کہ آج مزدور 600کے بجائے ایک ہزار لے رہا ہے۔ مستری 1500کمارہا ہے۔ قارئین! میں نے سب سے پہلے یہ بات کی تھی کئی ماہ سے کہہ رہا تھا کہ ہر شخص نے اپنی اجرت بڑھالی ہے، ایک رہ گیا ہے وہ تنخواہ دار طبقہ ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ اس شوروغل میں ہمارے گھر کے نوکروں کی تنخواہ 18ہزار سے 20ہزار کی گئی ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ اپنے ساتھ جڑے ہوئے لوگوں کی حیات آسان کریں۔ میرے پاس کئی ملازم آئے، بے چارے پچھلے مالکان سے تنخواہ نہ ملنے کی شکایت کرتے ہیں۔
وزیراعظم فون پر آئے، انہوں نے کس معصومانہ انداز سے کہا کہ لوگ مجھے اسمبلی میں نہیں بولنے دیتے۔ قارئین! کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو فخر ایشیا تھے لیکن بہت سے لوگوں کو علم نہیں کہ اپنے ممبران کو دھمکی دی تھی کہ جو کوئی ڈھاکہ گیا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ ایم این اے ڈاکٹر نذیر احمد شہید ہوگئے۔ انہی کے دور میں سعد رفیق کے والد خواجہ رفیق کو لاہور کی سڑک پر گولی مار دی گئی۔ اس کے بجائے میرے قائد کی سنئے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے بولنے نہیں دیا جاتا۔ یہ ملک خداداد ہے، یہاں کبھی عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا جاتا ہے اور آج عمران خان نے یہ کہہ کر ان کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے کہا کہ اب مجھے کہا جارہا ہے کہ یہ شخص مذہب کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ جی اس لئے کہ وہ ریاست مدینہ کی بات کررہا ہے۔ وہ بل گیٹس کے بجائے نبی پاکؐ کے اُسوہئ حسنہ سے سیکھنے کا مشورہ دیتا ہے۔ مجھے ایک جماعتی لیڈر نے کہا کہ عمران خان نے مدارس کے بچوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ عمران خان نے یکم محرم کی چھٹی دیکر حضرت عمرؓ کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جس کی وجہ سے لیڈر صاحب کو ڈر تھا کہ وہ حمایت کھوتے جارہے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ عمران خان کو بدترین یہودی کہنے والے مولانا فضل الرحمن نے امریکی بڑوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ کبھی داڑھی والوں پر بھی اعتبار کرکے دیکھ لیں۔ جس گھر میں گیا، اس کا نام وزیراعظم ہاؤس ہے اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ شیر اب شیر نہیں ببر شیر بن گیا ہے۔ اسے آج بھی کوئی نہیں ورغلا سکتا۔ کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان کو اپنے اشاروں پر چلا سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ ملک دشمن یہ چاہتے ہیں کہ فوج اور میرے قائد میں دوری پیدا ہوجائے۔ اگر کبھی معمولی سوچ میں فرق آیا بھی تو عمران خان نے اپنے دلیرانہ اور دبنگ فیصلوں سے اپنے آپ کو منوایا۔ لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن نہ دیں لیکن عمران خان کو علم تھا کہ خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ توسیع دی جائے۔ توسیع دینا اگر غیرقانونی ہے تو پھر تو بات کریں۔ اگر ریاست کا قانون وزیراعظم کو اجازت دیتا ہے تو پھر تکلیف کیوں۔ وہ دور چلاگیا کہ وقت کے حکمران صرف آئی بی سے انفارمیشن لیتے تھے۔ عمران خان نے آج یہ بھی واضح کردیا کہ میرا موبائل مجھے اطلاع دیتا ہے، اللہ کا کرم ہے اپنے قائد کو ہم جو بات مناسب ہوتی ہے، بتاتے رہتے ہیں جو بات سمجھتے ہیں، ٹھیک ہے وہ کردیتے ہیں۔
وزیراعظم نے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم وہ حکومت ہیں جسے سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا۔ قارئین! آج اللہ کے فضل سے دودھ کی نہریں نہیں مگر 5.37 فی صد گروتھ پر ہم پہنچے ہیں۔ ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ خطے میں سب سے زیادہ ہوئی ہیں۔ ورکنگ لیبر کا قحط ہے۔ آج وزیراعظم نے ان صحافیوں کا ذکر بھی کیا جو ایمانداری سے اپنا کام کررہے ہیں۔ ان کا اشارہ ان کی طرف بھی تھا جو لفافے اور ٹوکروں سے خریدے گئے ہیں۔ کہتے ہیں خوشخبری پہلے سنا دینی چاہیے۔ وزیراعظم نے یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ بھی بڑھائی جائے گی۔ سچی بات ہے اگر مارا گیا ہے تو تنخواہ دار طبقہ۔ لوگ کہتے ہیں رشوت بڑھ گئی ہے، وزیراعظم نے ان مجبور لوگوں کی بات کرکے دل جیت لیا ہے۔ فراز نے جو کہا وہ سنا:
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
اگر یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
(تحریک انصاف شمالی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭……٭……٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain