کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے ڈیفنس میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان انتظار حسین کیس میں نامزد ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو بری اور 2 ملزمان کی سزائےموت کو عمرقید میں تبدیل کردیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں انتظار حسین قتل کیس میں نامزد پولیس اہلکاروں کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے نوجوان انتظار کے قتل کیس میں سزا کے خلاف ملزمان کی اپیلیں منظورکرلیں۔
اس سے قبل عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
عدالت نے ملزم طارق محمود، طارق رحیم اور اظہر سمیت دیگر تین ملزمان کو بری کردیا جبکہ دو پولیس اہلکاروں دانیال اور بلال کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔
عدالت نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات بھی ختم کردیں۔
خیال رہے کہ 19سال کےنوجوان انتظار کو درخشان تھانے کی حدود میں واقعہ 13جنوری 2018 اے سی ایل سی کے اہلکاروں اور افسران نے گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔
مقتول کے والد اشتیاق احمد کی مدعیت میں مقدمہ درخشان تھانے میں درج کیاگیا تھا۔




































