اسلام آباد ( انٹر ویو : ملک منظور احمد )نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے کہا ہے کہ ریاست اور عوام یہ شدید خواہش رکھتے ہیں کہ ملک میں امن ،استحکام اور خوشحالی آئے ،سیاسی مسائل ہوتے ہیں ان کا حل بھی کر لیا جاتا ہے ریاست کی سلامتی کے معاملے پر سب ایک ہو جاتے ہیں ۔ترقی اور خوشحالی پاکستان کا مقدر ہے ۔بطور وزیر صحت چیلنجز کا مقابلہ کیا پی ایم ڈی سی میں اصلاحات کی گئیں ،ڈریپ کے معاملات میں بہتری لائی گئی ،رجسٹریشن اور لا ئسنسگ کے عمل کو آن لائن کر دیا گیا اور اب سالوں کی بجائے 6ہفتوں میں لائنس حاصل کیا جاسکتا ہے ،جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈائون اور گلوبل ہیلتھ سمٹ کا انعقاد ہماری نمایاں کامیابیاں ہیں ۔ہم نے ہیپا ٹائٹس اور ذیا بطیس سے بچائو اور خاتمے کے پروگرام بھی شروع کیے ۔اسی طرح سے نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے جو کہ ہمارے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کر دے گا ۔پو لیو کے خا تمے کی بھرپور کو ششیں کی گئیں ۔نیشنل ہیلتھ سمٹ پر حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا سارا پیسہ ڈونرز سے ہی اکھٹا ہو ا جو کہ ہماری بڑی کامیابی ہے ۔ پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں کے معاملات میں بہتری آئی ہے ۔ نو منتخب حکومت نے پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا تو پاکستان صحت کے شعبے میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے خبریں کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہو ئے کیا ۔
ایک سوال کے جواب میں ندیم جان نے کہا کہ مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ پاکستان کے صحت کے نظام میں کیا چیلنجز موجود ہیں اور میں نے اس حوالے سے ہوم ورک بھی کررکھا تھا ،میں نے پہلے دن سے ہی کام شروع کر دیا تھا ،ایک حکمت عملی بھی دے دی تھی ،کہ سسٹم کو کس طرح سے استعمال کرنا ہے ،پروگرامز میں شفافیت کے حوالے سے بھی کام کیا گیا ،اس کے علاوہ جو میرے نئے منصوبے تھے ان کے حوالے سے کام کیا گیا ،پی ایم ڈی سی میں اصلاحات کی گئیں ،اٹینڈرڈ بنائے گئے اور اس وقت پی ایم ڈی سی اس وقت ایک نہایت ہی شفاف اور ذمہ دار ادارہ بن چکا ہے ۔اس کے بعد ہم نے ڈریپ کو لیا اور ڈریپ کے بارے میں آپ کو معلوم ہے کہ بہت ساری شکایات تھیں ہم نے اس حوالے سے بڑے بڑے اقدامات کیے ،اب ڈریپ کے سسٹم کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے ،اس کے علاوہ رجسٹریشن اور لائسننگ کے عمل کو آن لائن کر دیا گیا ہے اور جو عمل پہلے سالوں لیتا تھا وہ اب 6ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے ۔تیسرا بڑا کام یہ کیا کہ ادویات کی شارٹیج کے حوالے سے ایک نئی ایپ بنائی گئی ،جو کہ اینڈرائڈ پر دستیاب ہے اور ہر پاکستانی اپنا شناختی کا رڈ نمبر ڈال کر اس پر شکایت درج کر سکتا ہے ۔چوتھا بڑا کام یہ کیا گیا کہ ہم نے ڈرگ انسپیکٹرز کو یہ واضح کیا کہ جعلی ادویات کے دھندے کے خلاف کا روائی کی جائے اور اس کام میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے ،جو کہ کی بھی گئیں ،انسولین کے حوالے سے مسائل تھے ان کو حل کیا جس بھی دوائی کی شارٹیج تھی ہم نے متبادل فراہم کیے ،ایک بڑا کام یہ ہو ا کہ سیلاب سے متاثرہ سینٹرز کی بحالی کے لیے کام کیا گیا ،اس حوالے سے whoکو کہا گیا کہ پیسہ جمع کرکے آپ کو دیتے ہیں ،آپ ہی بحالی کے لیے کام کریں اور ایسا ہی ہوا کہ اس طرح سے ملک بھر میں 470سینٹرز بحال کر دیے گئے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے پاس اس حوالے سے پیسے بھی نہیں تھے ہم نے ڈونرز سے سارا پیسہ جمع کیا ۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ گلوبل ہیلتھ سمٹ ایک بہت بڑی کامیابی تھی اور اس سمت مین دنیا بھر سے 70 زائد ممالک کے مندو بین نے شرکت کی اس کے علاوہ غیر ملکی سفرا بھی اس سمٹ میں شامل ہو ئے ۔ یہ تاریخ کا برا سمٹ تھا اور پاکستان کے لیے بڑی فخر کی بات تھی کہ ہم نے عالمی سطح پر یہ بڑا کام کیا ۔اس کے علاوہ ہم نے کارڈ سائن کیا جس میں کہ 4,5بڑی بڑی باتیں تھیں جس میں اول بات یہ تھی کہ صحت کے شعبے کو اے پولیٹیکل کیا جائے اور غزہ کے تنازع کے تناظر میں ہم نے یہ مطالبہ کیا پاکستان نے یہ علم بلند کیا کہ صحت کے حوالے سے خدمات کو سیاست سے بالا تر رکھا جائے ۔دوسرا مطالبہ یہ کیا گیا کہ جب بھی عالمی سطح پر کوئی وبا آئے تو غریب اور درمیانی درجے کی آمدن والے ممالک کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین فراہم کی جائے ۔تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ وبا کے دوران کوئی بھی دوائی یا ویکسین بنانے کا پیٹینٹ محدود نہ رکھا جائے ،سب کے لیے اوپن کر دیا جائے ،ہم صرف اپنا نہیں بلکہ دنیا بھر کے غریب ممالک کا سوچ رہے تھے ،اور اب دنیا ہمارے پیچھے ہے کہ آپ لوگوں نے ایک بڑا کام کیاہے اس کو آگے لے کر چلیں اب یہ سمٹ کسی او ر ملک میں ہو سکتا ہے ،لیکن اس کی صدارت پاکستان کے پاس ہی ہو گی ۔یہ بھی پاکستان کے لیے بڑا اعزاز ہے اور اس سے بڑی بات ہے کہ اس سمٹ پر بھی ایک پیسہ حکومت کا نہیں لگا بلکہ ڈونرز کے ذریعے ہی کام ہو ا ۔اس کے علاوہ پاکستان سے ہیپاٹیٹس سی کے خاتمے کا پلان بنایا ہے جس کی لاگت 35ارب روپے سے زائد ہے اور اگر یہ پروگرام رورل بھی ہو جاتا ہے تو انشا اللہ 2030ء تک پاکستان ہیپیٹائٹس سی سے پاک ہو جا ئے گا ۔اس کے علاوہ ہم نے ملک بھر میں ذیابطیس کی روک تھام اور علاج کے لیے پروگرام ترتیب دیا ہے جو کہ 6ارب روپے سے زائد کی مالیت کا ہے اور ہمیں اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ،نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے ،جس کی مالیت 438ملین ڈالر ہے اور یہ پروگرام بھی ڈونرز کی سپورٹ کے ساتھ آگے بڑھے گا اور اس سے ہمار پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم ری ویمپ ہو جائے گا ۔ہمارے دور میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے عالمی اداروں سے 1ارب ڈالر سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں جن میں سے کئی وعدے پورے بھی ہونے شروع ہو گئے ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے کہ پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا جائے ورنہ ہمیں پھر سے تمام معاملات زیرو سے شروع کرنا پڑیں گے ۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پولیو کا پروگرام حکومت کے تحت نہیں چل رہا ہے ،نہ تو حکومت کا اس پروگرام کے حوالے سے مالی معاملا ت میں کو ئی عمل دخل ہے اور نہ ہی کسی اور حوالے سے زیادہ کردار ہے ،میں نے یہ علم بلند کیا ہے کہ یہ پروگرام حکومت کے زیر نگرانی چلنا چاہیے ۔اس وقت یہ پروگرام GPIکے تھت چلایا جا رہا ہے ۔اگر حکومت چلائے گی تو ذمہ داری بھی ہم پر ہو گی ۔پاکستان صحت کے شعبے میں کئی اشاریوں میں دنیا میں کافی بہتر پوزیشن میں ہے لیکن پولیو کے حوالے سے پیچھے ہے ،میں نے اس حوالے سے بھی مربوط حکمت عملی بنائی ہے ،اگر پولیو ٹیموں بار بار گھروں میں جائیں گی تو اس سے مزاحمت ہو تی ہے اگر پولیو کو بھی ایک مربوط پیکج سے منسلک کر دیا جائے جس میں کہ ماں اور بچے کی صحت خواراک اور دیگر عوامل بھی شامل ہو ں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے ،اس کے لیے ہم نے کام شروع کیا ہے لیکن بجٹ کے مسائل ہیں ۔پاکستان میں ابھی پولیو کا خاتمہ ممکن نہیں ہے کیونکہ ابھی مو حالیات سے پولیو کے سیمپل آرہے ہیں اور اسی طرح سے افغانستان سے بھی وائرس ٹرانسمٹ ہو رہا ہے لیکن پولیو کا خاتمہ ناممکن نہیں ہے ہمیں اس کے لیے کام کرنا ہو گا ۔
ایک سوال کے جواب میں نگران وزیر صحت نے کہا کہ پمز اور پولی کلینگ ہسپتالوں کے معاملات میں بہتری آئی ہے لیکن دوسری جانب مسائل بھی ہیں ان ہسپتالوں پر لوڈ بہت زیادہ ہے ،روزانہ کی بنیاد پر 12ہزار مریض پمز اور 6ہزار پولی کلینک میں آتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بجٹ کے مسائل بھی ہیں ،کچھ بجٹ کا شارٹ فال بھی ہے میں نے اس کو پورا کرنے کی بہت کوشش کی لیکن یہ نہیں ہو سکا ۔جتنی کوشش میں نے کی اور کسی نے نہیں کی دوسرے پراجیکٹ سے فنڈ نکال کر پیسے دئے گئے ۔اس کے ساتھ ساتھ افرادی قوت اور مینجمنٹ کے بھی مسائل ہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم کہتے تھے کہ الیکشن ہو جائیں گے لیکن ہماری بات نہیں مانی جاتی تھی الیکشن ہو گئے اور ہماری پاک افواج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی کا وشوں سے پر امن ہو گئے ہیں ان پر ان کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے ،لیکن گورننس کے مسائل بہت زیادہ ہیں ،آنے والی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کیا پالیسی بناتی ہے لیکن میں پر امید ہوں کہ کچھ اچھے فیصلے ہو جائیں گے اور بہتری اور استحکام آئے گا ۔یہ ہماری قوم اور ریاست کی شدید خواہش ہے کہ ملک میں استحکام آئے سیاسی تفریق میں کمی ہو ہم سب ملک کو امن ترقی اور خوشحالی کا گہوارا دیکھنا چاہتے ہیں ۔دنیا بھر میں سیاسی مسائل ہو تے ہیں لیکن جب ریاست کی بات آتی ہے تو وہ مسائل حل کر لیے جاتے ہیں ۔ہم بطور قوم ایک سخت جان قوم ہیں مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں اور کامیابی سے کر لیتے ہیں ۔ترقی اور خوشحالی اس قوم کا مقدر ہے اور انشا اللہ ہم دنیا میں اپنا مقام حاصل کریں گے ۔




































