تازہ تر ین

ایک موقع۔۔آخری موقع

عارف علوی رخصت ہوئے تو آصف علی زرداری دوسری بار اس ملک کے صدر منتخب ہوکر ایوان صدر کے مکین ہوچکے ہیں۔آج آصف علی زرداری کواس ملک کے مروجہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت عین جمہوری راستے پرچلتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے عہدے پر براجمان ہوتے دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا یہ وہی شخص ہے جس کو اس ملک میں (صحیح غلط کی بحث الگ) دس سال تک جیلوں میں رکھا گیا۔اس کو اپنے بیوی بچوں سے دوررکھا گیا۔میں کبھی بھی آصف زرداری صاحب کا مداح نہیں رہا نہ ہی آج ہوں لیکن ان کو قید کرکے ہم نے حاصل کیا کیا؟اگر وہ گناہگار تھے تو اس ملک کے قانون میں کیا اتنی سکت بھی نہیں کہ کسی گناہگار کو ثابت کرکے اس کے گناہوں کی سزاہی دے سکے؟ اور اگروہ گناہگار نہیں تھے اور ان کو جیل میں ڈالنا صرف سیاسی انتقام تھا تو پھر سوچیں کہ ہم اس ملک کی کیا خدمت کررہے ہیں؟زرداری صاحب آج صدر بنے ہیں تو میراخیال ہے کہ ان پر ابھی بھی مقدمات ہیں لیکن ہمارے سامنے ہے کہ کس شدت سے جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات بنے اور راکٹ کی رفتار سے چلے لیکن اب چند سالوں سے کبھی کسی نے سنا کہ ان پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے؟مقدمات جب بنتے ہیں تو اربوں کھربوں سے بات شروع ہوتی ہے لیکن آخر میں سزا صرف وہی مل پاتی ہے جتنا عرصہ کوئی جیل میں رکھ لیا جائے۔
ہم مخالف سیاستدانوں کے ساتھ مدت سے یہی کچھ کررہے ہیں۔ میں ابھی پچاس کی دہائی کی وطنی تاریخ پڑھ رہا تھا ۔ ان دس بیس سالوں میں اس سے بھی برے حالات تھے۔ ا س وقت مشرقی اور مغربی پاکستان کے سیاستدانوں میں گھمسان کی لڑائی تھی۔ مشرقی پاکستان کے سیاستدان سامنے تھے اور ان کے مقابلے کے لیے مغربی پاکستان سے کوئی سیاسی مقابلہ کرنے والا نہیں تھا تو یہاں سے بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ خم ٹھونک کر سامنے تھی۔گورنرجنرل غلام محمد کا چند سالہ دوربھی سازشوں اورطاقت کے بے جااستعمال سے بھراہواہے۔ہم نے بیس سال تک ملک کو کشمکش میں رکھا اور آخرکار ملک دو ٹکڑے کرکے سکون پایا۔ایک ایک ماہ بعد وزیراعظم برخاست ہوتے رہے ۔اگر آپ تاریخ کی مستند کتابیں پڑھیں تو اس دوران پاکستان کے بارے میں عالمی ذرائع ابلاغ یہ لکھنے پر مجبور تھے کہ یہ ملک چلائے جانے کے قابل ہی نہیں رہا۔
ہم طاقت کے حصول اور پھر اس کے ساتھ چمٹے رہنے کے لالچ میں ایسے ایسے منصوبے بناتے ہیں جو انسانی زندگی میں قابل عمل ہی نہیں ہوتے۔اقتدار پر بیٹھا شخص طوالت اقتدار کے لالچ میں ایسے منصوبے بناکر لانے والوں سے خوش ہوتا ہے۔اور ایسے منصوبے کوئی پرفارمنس کے بل بوتے یا عوام کے دل کام اور ان کی خدمت سے جیتنے کے بدلے اقتدار میں رہنے کے نہیں ہوتے بلکہ یہ منصوبے مخالفین کو ختم کرکے اپنے محبوب کو اقتدار میں دائم رکھنے کے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن کو جعلی مقدمات میں جیلوں میں ڈالنے کے منصوبے ہوتے ہیں۔ایسے کارندوں کی مثالیں ۔سیف الرحمان ،رحمان ملک اور مرزا شہزاد اکبر جیسوں کی ہوتی ہیں۔
میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ اقتدار میں رہنے والوں کا احتساب نہیں ہونا چاہئے ۔بالکل ہونا چاہئے لیکن کچھ اصول تو ہوں۔ کوئی پکا ہاتھ تو ڈالا جائے ۔کوئی سائنسی تفتیش تو بنیاد بنے۔دنیا کا اصول ہے کہ پہلے تفتیش ہوتی ہے۔ثبوت جمع کیے جاتے ہیں کاغذ اکٹھے کیے جاتے ہیں لیکن وطن عزیز میں کہا جاتا ہے کہ ’’بندہ چُک لیاؤ کاغذ اسیں بنالاں گے‘‘جب اپروچ یہ ہو کہ پہلے گرفتارکرلیں اس کو اندررکھ کر تفتیش کرلیں گے تو پھر جتنی دیر عدالتوں سے مل کر بندے کو اندررکھ لیں وہی بونس ہوتا ہے کہ پاکستان میں جب ایک بار ضمانت ہوجائے کیس ویسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔
زرداری صاحب کو جیل میں رکھا سیاسی انتقام تو ضرور لے لیاگیا لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوا۔ بے نظیر کو جلا وطن رکھا گیا لیکن ثابت کچھ نہیں ہوا۔ میاں نوازشریف کو لے لیں ۔ان کو جیل میں ڈالا گیا۔ سزائیں بھی دلوائی گئیں لیکن آج وہ بری ہیں۔ سیاست سے کئی بارمائنس کردیے گئے آج پھر پلس ہوگئے ہیں۔عمران خان صاحب نے ان کو جلسوں میں چور چور ڈاکو ڈاکو کہہ کر بدنام کیا ۔ لوگوں کے اندر ان کے خلاف نفرت بڑھکائی ۔اس طرح کرنے کا ان کو سیاسی فائدہ تو ہوا کہ لوگ نوازشریف سے متنفر ہوئے لیکن ملک کو اس کا کیا فائدہ ہوا۔احتساب کے عمل کو کتنا فائدہ ہوا؟ملک کی سیاست کو کیا فائدہ ہوا؟۔جب عمران خان صاحب اقتدار سے اترے تو شریف خاندان کو موقع مل گیا انہوں نے اپنا حساب برابر کرنے میں بالکل ہی کسر نہیں چھوڑی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں کرپٹ کہتا تھا ہم اس کو کرپٹ بناکر چھوڑیں گے ۔آج ملک کی ساری قیادت ایک پلڑے میں ہے۔کوئی کرپشن کے الزامات سے بچا ہی نہیں ۔کیونکہ سب نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات بنائے اور جیلوں میں ڈال کر جب جس کوموقع ملا داغدارکردیا۔
ہم ستر سال سے اسی دائرے کے مسافر ہیں۔ ہم نے اپنی طبیعتوں سے مل کر ایک جگہ رہنے کی سوچ کو ترک کردیا ہے۔ ہم نے مفاہمت کو ترک کردیا ہے۔ ہم نے تقسیم کو اپنا زیور بنالیا ہے۔ سیاسی اختلاف کو زندگی موت کا مسئلہ بنالیا ہے۔ آج پی ٹی آئی کے دوست بہت غصے میں ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ۔ ان کی جماعت کو جیتنے سے روک دیا گیا ہے۔ ان کے قائد کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔وہ غصے میں یہ سوچ ہی نہیں رہے یا یہ سوچنا ہی نہیں چاہتے کہ جن پر ان کو آج غصہ ہے کہ انہوں نے زیادتی کی ہے ۔ابھی چند سالوں کی تو بات ہے کہ آپ کی قیادت انہی لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کررہی تھی۔ اس وقت ن لیگ کے کارکن بھی اسی طرح کی تکلیف اور غصے میں تھے ۔ ان کی جماعت کی حکومت بھی بنتے بنتے بگاڑ دی گئی تھی ۔ جب تک دوسروں کے بوٹوں میں اپنا پاؤں ڈال کر محسوس نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اسی نفرت کو بڑھاوادیتے رہیں گے۔ایک وقت میں ایک کے پاس طاقت ہوگی اور دوسرافریق اس طاقت کا نشانہ بنے گا ۔اس سائیکل کو توڑنے کی اشد ضرورت ہے ۔
ہم نے آج تک مخالفوں کوہمیشہ ’’تُن ‘‘ کے ہی رکھنے کی پالیسی بنائی ہے ۔اب بھی سنا ہے کہ محسن نقوی کو وزیرداخلہ بنانے کاارادہ ہے اس کی وجہ بھی یہی ’’تُن‘‘ کے رکھنے والی سوچ ہی تو ہے کیونکہ انہوں نے نگران حکومت کے اپنے دور میں کسی سے رعایت نہیں کی ۔اس لیے اب وہی تجربہ مرکز میں دہرائے جانے کو تیار ہے۔ہم نے ستر سال میں کسی کو معافی دینے کی روایت ہی نہیں ڈالی۔ ہم نے انتقام لیا اور کبھی رعایت نہیں کی ۔میں اس انتقامی سیاست کی حمایت بھی کردیتا اگر اس رویے نے اس ملک اور سیاست کو کچھ دیا ہوتاتو۔جب اس طرز سیاست اور طاقت کے اپوزیشن کے خلاف استعمال کرنے کا کسی کو کبھی کوئی فائدہ ہی نہیں ہواتو پھر کیوں نہ ہم حکمت عملی بدل کردیکھ لیں۔
اس ملک کے بہت سے دانشور۔لکھنے والے بولنے والے مفاہمت کے پرچارک ہیں لیکن ایسی آوازوں کو سنا نہیں جارہا۔بلکہ الٹا ان کو عمران خان کا حامی سمجھ لیا جاتا ہے ۔یہی وہ سوچ ہے جوہم کو کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دے رہی ۔یہ وہ سوچ ہے جس کو اب پھر طاقت میںآنے کا موقع مل گیا ہے۔یہ سوچ اس ملک کی دشمن ہے ۔ جمہوریت کی دشمن اور سب سے بڑھ کر سیاست اور سیاستدانوں کی دشمن ہے۔ہمیں سب کو اپنی اپنی پوزیشن سے چند قدم پیچھے ہوکر مفاہمت کی سوچ کو ایک موقع دینا پڑے گا۔ہمیں اپنے اپنے مؤقف سے اوپر اٹھنا پڑے گا۔یہ مسئلہ اب کسی شخص یا حکومت میں شامل سیاستدانوں کا نہیں رہا یہ مسئلہ اب ہم سب کا ہے ۔ ہمارے ملک کا ہے ۔اس ملک کی بقا کا ہے۔یہ مسئلہ ہماری آنے والی نسلوں کا ہے ۔طاقت میںبیٹھے لوگوں کا اگر کچھ پاکستان میں ہے توان کو سوچنا پڑے گا کہ وہ اگلی نسل کے لیے بھی کیا یہی نفرت اور تقسیم شدہ پاکستان ہی چھوڑنا چاہتے ہیں؟پی ٹی آئی کے دوستوں سے بھی گزارش کہ غصہ اور نفرت کوئی حکمت عملی نہیں ہوتی۔آپ بھی مفاہمت کے لیے پیشگی شرائط رکھنے کی بجائے سیاسی لیڈرشپ سے بات کے دروازے کھولیں۔یہ سب کے لیے ہی آخری موقع ہے یہ موقع ضا ئع ہوگیا تو وہ دن دور نہیں جب نئی نسل کا اس ملک کے مستقبل سے مکمل اعتبار اٹھنے میں دیر نہیں لگے گی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain