رمضان مسلمانوں کے لئے بابرکت اور دعاؤں کا مہینہ ہے، لیکن پاکستانی ٹیلی ویژن کے لئے یہ ایک بڑا کاروباری موقع بن چکا ہے۔
رمضان کے مہینے میں پاکستانی ٹی وی چینلز کی رنگت اور انداز میں تبدیلی آتی ہے، لیکن گزشتہ چند سالوں میں رمضان پروگرامنگ بھی فارمولوں کی شکار ہو چکی ہے۔ اب تقریباً تمام ڈرامے ایک فارمولے پر مبنی ہوتے ہیں اور رمضان ڈرامے بھی اب اس فارمولے کا حصہ بن چکے ہیں۔
رمضان کے ڈرامے جو ایک وقت میں ریٹنگ چارٹس پر چھا جاتے تھے، اب سال بہ سال زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوام ہر سال رمضان ڈراموں کا انتظار کرتی تھی، لیکن اب وہ جوش و خروش کم ہوتا جا رہا ہے۔
پہلے رمضان کے دوران اچھے فیملی ڈرامے دکھانے کا رواج تھا مگر آج کل اس کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔
اب ہر سال رمضان کی خصوصیت کے بغیر بیکار کامیڈی اور غیر ضروری محبت کی کہانیاں دکھائی جاتی ہیں، جو ناظرین کو زیادہ پسند نہیں آ رہی ہیں۔
ان ڈراموں میں سب سے پہلے ‘آزر کی آئیگی برات’ آیا جو رمضان اسپیشل ڈراما کہہ کر خاص طور پر رمضان کے مہینے میں چلایا گیا، جس کے بعد آنے والے رمضان اسپیشل ڈراموں میں ‘روزہ کے روزے’ ، ‘سنو چندا’ ‘تانا بانا’ ، ‘چپکے چپکے’ اور رواں سال ریلیز ہونے والا ڈراما ‘دل والی گلی میں’ اور ‘عشق دی چاشنی’ شامل ہیں۔
ایک پاکستانی میڈیا رپورٹ میں ان وجوہات کا تجزیہ کیا گیا جنکی وجہ سے ڈرامے ہائپ نہیں حاصل کر پا رہے۔
1۔ کمرشل ازم کا عروج:
‘بارات’ سیریز کی کامیابی کے بعد ‘سونو چندا’ رمضان ڈراموں کا جدید آغاز تھا جس نے ایک رجحان کو جنم دیا اور ہر سال رمضان ڈراموں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔
لاکھوں ناظرین کے خاندان کے لئے تفریح کی غرض سے ان ڈراموں کو دیکھنے کی وجہ سے اشتہاری اداروں نے بھی فوراً ان کی طرف توجہ دی۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ ڈرامے کہانیوں سے زیادہ اشتہاری مہموں میں تبدیل ہو گئے۔
چاہے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، اشتہاری اسپانسر شپ نے ان پروڈکشنز کو فائدہ پہنچایا، لیکن کھل کر کمرشل ازم کی موجودگی ناظرین کو بے چین کر دیتی تھی۔ دودھ، پنیر اور موبائل فونز کی غیر ضروری پراڈکٹ پلیسمنٹ ڈراموں میں آنا شروع ہوگئی۔ اس سے ناظرین کا تاثر یہ ہوتا تھا کہ وہ کسی کہانی کے بجائے ایک اشتہار دیکھ رہے ہیں۔
2۔ مناسب جوڑوں کی کمی:
ڈراموں میں مرکزی جوڑی کی کیمسٹری ہی ناظرین کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے۔ ‘سونو چندا’، ‘چپکے چپکے’ اور ‘چوہدری اینڈ سنز’ جیسے ڈرامے کامیاب ہوئے کیونکہ ان میں اداکاروں کی جوڑی کی کیمسٹری نے دل جیت لیا تھا۔
حالیہ برسوں میں ‘فیری ٹیل’ کو بھی اپنی مرکزی جوڑی کی کیمسٹری کی وجہ سے بڑی تعداد میں دیکھنے والے ملے اور رواں سال ڈراما ‘دل والی گلی میں’ بھی سجل علی اور حمزہ سہیل کی کمسٹری کو پسند کیا جارہا ہے۔ لیکن دیگر ڈراموں میں کیمسٹری نظر آنا مشکل ہو گیا ہے۔
‘صلہ اور آزر’ ،’ارسل اور اجیّا’ یا ‘مینو اور فازی’ کے بعد ‘فرجاد اور امید’ یا ‘مجّی اور ڈیجو’ ہی اپنی بہترین کیمسٹری سے فینز کی آنکھوں کے تارے بن سکے ہیں۔
3۔ ایک ہی کہانی بار بار:
کتنی بار ہم ‘کزنز کی شادی’ کی کہانی دیکھ سکتے ہیں؟ ہاں دو کزنز کو ملانا اور ان کی شادی کرانا آسان ترین کہانی ہے اور ہمارے ملک میں اس موضوع پر ڈرامے اکثر بنتے ہیں۔ لیکن اب یہی کہانیاں ہر سال بار بار دکھائی جا رہی ہیں۔
رمضان ڈراموں کی ملکہ و مصنفہ سائمہ اکرم چوہدری نے بھی اس موضوع پر کام کرنا چھوڑ دیا اور ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘ان کے پاس نئے موضوعات نہیں تھے اور کہانیاں ایک جیسی ہی ہو گئی تھیں’۔
4۔ غیر سائنسی فارمولہ:
‘سونو چندا’ میں لڑکی کی آزادی اور اپنے خوابوں کی تکمیل، ‘ہم تم’ میں نرم مزاج مر کا کردار جو عورتوں کو طاقت دیتے ہیں، اور ‘چوہدری اینڈ سنز’ میں نسل در نسل چلنے والی مشکلات کو روک کر آگے نسلوں تک نہ پہنچنے دینے کی کہانی کامیاب ہوئیں۔
لیکن چینلز نے یہ سمجھا کہ دو کزنز کے گھروں کو آپس میں ملا کر، دونوں کو لڑتے ہوئے دکھا کر اور پھر ایک دوسرے سے محبت کرنے تک کہانی چلانے سے ہی ناظرین خوش ہوں گے۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ دیکھنے کو ملا کہ ویورشپ میں کمی اور ہائپ کا زوال ہو گیا کیونکہ ناظرین کو یہ سب خوش نہیں بلکہ پریشان کرنے لگا۔
5۔ اسٹار کڈز کیلئے مشہور ہونے کا ذریعہ:
ہر سال رمضان ڈرامے میں مرکزی اداکار راتوں رات شہرت حاصل کرنے لگے اور یہی وجہ ہے کہ اب رمضان ڈراموں کو سٹار کڈز کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔
اب کاسٹنگ کرداروں کے مطابق نہیں کی جا رہی بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس اداکار کو کس کہانی میں ڈالا جائے تاکہ وہ فوراً شہرت حاصل کرے۔ یہ حکمت عملی اکثر ناکام ہو جاتی ہے۔
6۔ رمضان کی روح کا فقدان:
رمضان ڈرامے اس لئے کامیاب ہوئے تھے کیونکہ ان میں رمضان کی روح شامل تھی اور ان میں رمضان سے جڑی کہانی ہوتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ناظرین خود کو کہانی سے جوڑ پاتے تھے۔
ڈراما ‘سنو چندا’ میں بھی رمضان کا مہینہ دکھاتے ہوئے سحری افطاری دکھائی گئی تھی جو ناظرین دیکھ کر اپنے گھر کی کہانی سمجھتے تھے لیکن اب بیشتر کہانیاں رمضان سے مکمل طور پر الگ ہو چکے ہیں اور اس کا اثر ناظرین کے تجربے پر پڑ رہا ہے۔