بھارت کو ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان کرکٹر مہندر سنگھ دھونی سے متعلق یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ انھوں نے بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی جوائن کرلی ہے۔
دھونی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں انھیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ کنول کے نشان کے ساتھ زعفرانی اسکارف پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
کرکٹر اور وزیراعظم کی اس وائرل تصویر کے ساتھ صارفین یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کرکٹر بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ مبینہ تصویر کے پس منظر میں بھگوا پارٹی کا بینر بھی نظر آرہا ہے۔
متعدد فیس بک صارفین نے بھی وزیراعظم مودی کے ساتھ کرکٹر کی مبینہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن لکھا ہے کہ ’’ایم ایس دھونی بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔‘‘
کیا یہ حقیقت ہے؟ یا دھونی کی یہ تصویر کسی خاص موقع پر لی گئی ہے۔
فیکٹ چیک کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کسی بھی سرچ انجن میں ’’ایم ایس دھونی‘‘ اور ’’بی جے پی‘‘ کے مطلوبہ الفاظ کی تلاش سے ایسی کوئی معتبر رپورٹ نہیں ملی جس میں کہا گیا ہو کہ کرکٹر نے مذکورہ پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ مزید یہ کہ، ہمیں ایسی کوئی معتبر رپورٹ بھی نہیں ملی جس سے پتہ چلتا ہو کہ پی ایم مودی نے حال ہی میں دھونی سے ملاقات کی ہے۔
گوگل لینس پر وائرل امیج کو چیک کرنے پر بھی علم ہوتا ہے کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ایم ایس دھونی کی مبینہ تصویر والی کوئی بھی خبر شائع نہیں ہوئی۔
وائرل تصویر کا بغور جائزہ لینے پر صارفین دیکھ سکتے ہیں کہ وزیراعظم کا چشمہ پوری طرح سے نہیں بنا ہوا بلکہ ان کے چہرے کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، زعفرانی اسکارف پر کنول کی علامت کا ایک حصہ بھی دیکھا جاسکتا ہے جسے غیر معمولی طور پر وزیراعظم کے کندھے پر رکھا گیا ہے۔
تصویر کے دھندلے پس منظر اور دیگر خصوصیات بھی اس جانب اشارہ کررہی ہیں اس تصویر کو ممکنہ طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔
وائرل امیج کو متعدد AI ڈیٹیکشن پلیٹ فارمز پر چیک کرنے کے بعد اس تصویر کے ڈیپ فیک ہونے کا 83 فیصد امکان پایا گیا۔