نمونیا” سردیوں کا خاموش قاتل
رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان
سردیوں کا موسم جہاں خوشگوار لگتا ہے تو وہیں ملک بھر کے لاکھوں گھروں میں خوف اور پریشانی کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس موسم میں ایک خاموش مگر خطرناک بیماری تیزی سے پھیلتی ہے جس کو نمونیا کہا جاتا ہے یہ بیماری خصوصاً بچوں اور بوڑھوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی پنجاب کے کئی شہر زہریلی سموگ میں لپٹ جاتے ہیں۔ پنجاب میں نومبر سے فروری تک سموگ ، دھند اور سردی کا امتزاج ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جو سانس کی بیماریوں کے لیے مثالی میدان بن جاتا ہے۔فضائی آلودگی، گاڑیوں کا دھواں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے ذرات پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں اور یہی اثرات آگے چل کر نمونیا کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال 70 ہزار سے زائد بچے نمونیا کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں سب سے زیادہ حصہ نمونیا کا ہے۔پنجاب میں یہ مسئلہ سب سے شدید ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں ہر سال دس لاکھ سے زائد بچے نمونیا کے شبہ میں ہسپتال لائے جاتے ہیں۔گنجان آباد علاقوں میں دھواں، آلودہ پانی اور صفائی کی ناقص صورتحال نمونیا کے جراثیم کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پنجاب میں نمونیا کا پھیلاؤ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران کا نتیجہ ہے۔ اگر سموگ پر قابو پا لیا جائے، ویکسینیشن کی شرح بڑھائی جائے اور غذائی کمی دور کی جائے تو اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔نمونیا ایک ایسا چیلنج ہے جو پنجاب کے لاکھوں خاندانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اس کا مقابلہ صرف دوا سے نہیں، بلکہ آگاہی، ویکسینیشن اور ماحولیاتی اصلاحات سے ممکن ہے۔غذائیت کی کمی، خصوصاً وٹامن اے، سی اور زنک کی کمی، بچوں کو کمزور بنا دیتی ہے۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں متوازن غذا کی کمی نمونیا کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔اگرچہ حکومت نے نمونیا کے خلاف حفاظتی ٹیکہ (PCV ویکسین) متعارف کرا رکھا ہے مگر بہت سے والدین لاعلمی یا لاپرواہی کے باعث بچوں کو ویکسین نہیں لگواتے۔پنجاب حکومت نے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام (EPI) کے تحت نمونیا کی ویکسین مفت فراہم کی ہے۔سردیوں کے موسم میں ہسپتالوں میں خصوصی ریپڈ ریسپانس یونٹس قائم کیے جاتے ہیں تاکہ سانس میں دشواری والے بچوں کو فوری آکسیجن فراہم کی جا سکے۔سابق وزیر صحت پروفیسر جاوید اکرام کا کہنا ہے کہ نمونیا دارصل نظام تنفس کے راستے یا پھیپھڑوں میں انفیکشن کو کہا جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی علامات نزلہ اور زکام ہوتی ہیں تاہم اس کی درست تشخیص کے لیے ایکس رے کیا جانا ضروری ہے۔ نمونیا ہونے کی صورت میں جسم میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے اور نتیجتاً یا تو جسمانی اعضا ناکارہ ہوجاتے ہیں یا انسان موت کا شکار ہوجاتا ہے بچوں اور بوڑھوں کو نمونیہ سے بچاؤ کی ویکسین ضرور لگوانی چاہئے اکثر والدین نمونیا کو معمولی بخار سمجھ کر علاج میں تاخیر کرتے ہیں، جو بعد میں خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ چند سادہ احتیاطی تدابیر سے اس کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔بچوں کو سموگ اور ٹھنڈی ہوا سے بچانے کے ساتھ ساتھ انہیں ویکسین لازمی لگوائیں۔گھر میں تازہ ہوا کا گزر برقرار رکھیں۔بخار یا سانس میں دشواری کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔متوازن غذا، خصوصاً پھل، دودھ یہ بیماری درجنوں نہیں بلکہ ہزاروں معصوم زندگیاں چھینتی رہے گی۔ اور سبزیاں بچوں کو دیں۔اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو ہر سال سردیوں کے موسم میں 





































