ایچ آئی وی قابلِ علاج ہے
درست معلومات اور بروقت تشخیص — ایچ آئی وی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار
رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان
عالمی یومِ ایڈز ہر سال اس یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے کہ ایچ آئی وی/ ایڈز سے جڑا خوف اور غلط فہمیاں ابھی بھی بہت سے لوگوں کو اپنی صحت کے بارے میں صحیح فیصلہ کرنے سے روک دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں یہ دن لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ اگر معلومات درست ہوں، ٹیسٹ وقت پر کیا جائے اور علاج تسلسل سے لیا جائے تو ایچ آئی وی سے متاثرہ شخص صحتمند زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ دن ہر شخص کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنی صحت کو اہمیت دے اور ضرورت پڑنے پر فوری مدد حاصل کرے۔ اکثر لوگ یہ سوچ کر ایچ آئی وی کا ٹیسٹ نہیں کرواتے کہ شاید انہیں شرمندگی یا بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لئے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی تمام سہولیات ہر شخص کو بلا تفریق مکمل رازداری اور عزت کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں۔ ٹیسٹنگ مکمل طور پر مفت ہے، اور تمام ٹیسٹ WHO کی تجویز کردہ اور DRAP سے منظور شدہ کٹس سے کیے جاتے ہیں تاکہ ہر نتیجہ قابلِ اعتماد ہو۔ جو بھی فرد ٹیسٹ کروانا چاہے، اسے مکمل رازداری اور عزت کے ساتھ خدمات فراہم کی جاتی ہیں، چاہے وہ کسی بھی عمر، پیشے یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے بارے میں معاشرے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ وائرس کن طریقوں سے منتقل ہوتا ہے۔ اسکا سب سے زیادہ خطرہ خون کے ذریعے منتقلی کا ہے، جیسے مریض کو غیر سکرین شدہ خون لگوانا، خون آلود طبی یا جراحی آلات سے علاج کروانا، استعمال شدہ سرنج سے انجیکشن لگوانا، عطائی معالج سے علاج کروانا جہاں آلودہ اور استعمال شدہ آلات دوبارہ استعمال کئے جا رہے ہوں، اسی طرح نشہ کرنے والے افراد میں ایک ہی سرنج کا آپس میں استعمال ایڈز پھیلانے کی بڑی وجہ ہے اور ذرا سی احتیاط کرنے سے ایڈز کی منتقلی سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایچ آئی وی غیر محفوظ جنسی تعلق سے اور پیدائش کے دوران ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں یا دودھ پلانے والی متاثرہ ماں سے بچے میں وائرس منتقل ہونے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر شخص ان خطرات سے باخبر رہے اور اپنی صحت کے بارے میں ذمہ داری اور احتیاط سے فیصلہ کرے۔ اگر کبھی خون کی منتقلی کی ضرورت پیش آئے تو لازمی ہے کہ خون دینے والے فرد کا ایچ آئی وی ٹیسٹ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام سے بالکل مفت کرایا جائے۔اس کے برعکس، ہاتھ ملانے، ساتھ کھانا کھانے، برتنوں کے استعمال، گلے ملنے، ایک ہی بیت الخلا استعمال کرنے، ایک ہی جگہ بیٹھنے، مچھروں کے کاٹنے، یا روزمرہ کے معمول کے رابطوں سے ایچ آئی وی ہرگز نہیں پھیلتا۔ یہاں تک کہ پسینہ سے بھی یہ وائرس منتقل نہیں ہوتا، لیکن افسوس کہ معاشرے میں خوف زیادہ پھیلا ہوا ہے اور لوگ انہی بے بنیاد باتوں کی وجہ سے متاثرہ افراد سے دوری اختیار کر لیتے ہیں جو کہ متاثرہ افراد کے لیے سماجی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ درست اور سادہ معلومات ہی وہ ذریعہ ہیں جن کے ذریعے ہم اس خوف کو ختم کر کے لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کر سکتے ہیں۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے صحت وژن ، صوبائی وزیر صحت پنجاب ہیلتھ اینڈ پاپولیشن خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پنجاب نادیہ ثاقب کی قیادت میں پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام اس وقت صوبے کے 36 اضلاع میں اپنے 46 مراکز کے ذریعے ایچ آئی وی کی مفت اسکریننگ، مشاورت اور علاج فراہم کررہا ہے۔ اس کے علاوہ PrEP اور PEP بھی مہیا کی جاتی ہیں جو کہ ایچ آئی وی سے حفاظت کے لئے بہت مؤثر ہیں۔ خاص طور پر ان ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لیے جو روزانہ علاج اور جراحی کے عمل میں ایچ آئی کی حادثاتی منتقلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگر دورانِ ڈیوٹی کسی ڈاکٹر، سرجن یا نرس کو حادثاتی سوئی چبھ جائے یا کٹ لگ جائے تو 72 گھنٹوں کے اندر PEP شروع کرنے سے ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکا جا سکتا ہے اور یہ PACP کے تمام سنٹرز پر مفت دستیاب ہے۔ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد اگر باقاعدگی سے دوائی لیں تو وائرس ان کے جسم میں اتنا کم ہو جاتا ہے کہ وہ نہ صرف صحت مند زندگی گزارتے ہیں بلکہ دوسروں کو وائرس منتقل ہونے کا خطرہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی بڑی کامیابیوں میں سے ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کی روک تھام ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی خدمات فراہم کی گئی ہیں، جن کی بدولت اب تک 1200 سے زائد HIV نیگیٹو بچے ایسی ماؤں سے پیدا ہو چکے ہیں جو ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بروقت ٹیسٹنگ، مناسب علاج اور درست دیکھ بھال کس قدر مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
بیماری سے آگاہی ایک بڑی حفاظتی دیوار ہے جس کی ذریعے ہر شخص اپنے آپ کو بیماری سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ میں نے ایسی متعدد آگاہی مہم دیکھیں ہیں۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام صوبہ بھر میں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مختلف اداروں میں سیمینارز اور آگاہی سرگرمیاں منعقد کرتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی فعال موجودگی کے ذریعے درست معلومات اور دستیاب سہولیات کے بارے میں عوام الناس کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
پنجاب میں یہ ساری کوششیں ایک ہی مقصد کے گرد گھومتی ہیں “ہر فرد تک درست معلومات، مفت ٹیسٹنگ، مفت علاج اور بااعتماد ماحول پہنچے” جب خوف کم ہوتا ہے اور حقائق واضح ہوتے ہیں تو لوگ خود بھی اپنی صحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وہ قدم ہے جو نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کو محفوظ بنا دیتا ہے۔ایڈز کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایچ آئی وی کوئی سزا نہیں، نہ شرمندگی کا باعث یہ باقی بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہے جو قابل علاج ہے اور اسکا علاج بالکل مفت ہے ۔ اگر کسی شخص کو ایچ آئی وی/ ایڈز کی منتقلی کا معمولی سا بھی شک ہو تو اسے انتظار نہیں کرنا چاہیے لکہ فوری طور پر پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے سنٹر پر جائیں۔ ٹیسٹ آسان اور بالکل مفت ہے اور پنجاب کے ہر ضلع میں دستیاب ہیں۔ صحت کی طرف پہلا قدم صرف ایک فیصلہ ہوتا ہے، اور وہ فیصلہ ہر انسان اپنے لیے آج ہی کر سکتا ہے۔






































