تازہ تر ین

رپورٹر کی ڈائری : مہران اجمل خان

رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان

اس سال ملک بھر میں جاری غیر معمولی خشک سردی نے ماہرینِ موسمیات اور پالیسی سازوں کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ درجہ حرارت معمول سے کم ضرور ہے مگر بارش اور بالخصوص پہاڑی علاقوں میں برف باری واضح طور پر کم دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق دسمبر کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں بارشیں معمول سے 30 سے 40 فیصد کم ریکارڈ کی گئیں جبکہ شمالی علاقوں میں برف باری کے دورانیے اور شدت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں موسمِ سرما کی بارش اور برف باری کا تقریباً 70 فیصد انحصار مغربی ہواؤں (Western Disturbances) پر ہوتا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) اور اقوامِ متحدہ کے UN Climate Change ادارے کے مطابق حالیہ برسوں میں ان ہواؤں کی سمت، شدت اور دورانیے میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے جو عالمی حدت کے اثرات سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سردی تو پڑ رہی ہے مگر نمی کم ہونے کے باعث برف باری کا قدرتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
برف باری میں کمی کا سب سے گہرا اثر پاکستان کے آبی ذخائر پر پڑتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان کے دریاؤں میں شامل ہونے والے پانی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ گلیشیئرز اور برف کے پگھلاؤ سے آتا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس خبردار کرتی ہیں کہ اگر سردیوں میں برف کم جمع ہو تو گرمیوں میں دریاؤں کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1950 میں 5260 مکعب میٹر سے کم ہو کر اب 860 مکعب میٹر رہ گئی ہے جبکہ 2030 تک یہ مقدار 500 مکعب میٹر سے بھی نیچے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جو شدید آبی بحران کی علامت ہے۔
گلیشیئرز کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ اقوامِ متحدہ اور آئی پی سی سی کے مطابق پاکستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں جو دنیا میں قطبین کے بعد سب سے بڑا ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں 3 ہزار سے زائد مقامات کو گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز کے خطرے سے دوچار قرار دیا جا چکا ہے اور خشک سردی اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
خشک سردیوں کا ایک اور نتیجہ موسم کی شدت پسندی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہیٹ ویوز کے واقعات میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سردیوں میں برف کم پڑتی ہے تو زمین قدرتی ٹھنڈک محفوظ نہیں کر پاتی جس کے باعث گرمیوں میں درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں شدید گرمی اور سیلاب کے نتیجے میں 30 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ریکارڈ کیا گیا جسے اقوامِ متحدہ موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ قرار دیتی ہے۔
زراعت پر اس صورتحال کے اثرات بھی واضح ہو رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد سے زائد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے جبکہ بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں بے ترتیبی فصلوں کی پیداوار کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں گندم، کپاس اور چاول کی پیداوار میں موسمی عوامل کے باعث 5 سے 15 فیصد تک اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جس سے غذائی تحفظ کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
اس تمام پس منظر میں حکومتِ پاکستان کی ترجیحات فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں۔ حکومت نے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان، گلیشیئر پروٹیکشن پالیسی اور موسمیاتی فنانس فریم ورک جیسے اقدامات کا اعلان تو کیا ہے مگر اقوامِ متحدہ کے مطابق پاکستان کو 2030 تک موسمیاتی موافقت اور بحالی کے لیے تقریباً 348 ارب ڈالر درکار ہوں گے جو ملکی وسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ UN Climate Change، عالمی بینک اور دیگر ادارے پاکستان کے لیے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ، ابتدائی وارننگ سسٹمز، آبی ذخائر کے بہتر انتظام اور موسمیاتی موافق زراعت کو فوری ترجیح دینے کی سفارش کرتے ہیں۔
عالمی ادارے اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے اس کے باوجود یہ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ لہٰذا ترقی یافتہ ممالک پر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کریں۔ تاہم اقوامِ متحدہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اندرونی سطح پر شفافیت، ادارہ جاتی مضبوطی اور مؤثر عملدرآمد کے بغیر کوئی بھی امداد دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ خشک سردی محض ایک موسمی کیفیت نہیں بلکہ آنے والے خطرات کی پیشگی اطلاع ہے۔ اگر برف باری میں کمی، بارشوں کی بے ترتیبی اور درجۂ حرارت کی شدت مستقل رجحان بن گئی تو پاکستان کو پانی، خوراک، صحت اور معیشت کے بیک وقت بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی اداروں کی وارننگ، دستیاب اعدادوشمار اور زمینی حقائق سب ایک ہی سمت اشارہ کر رہے ہیں اب فیصلہ ترجیحات کا ہے غفلت کا نہیں۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain