رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان
اقوامِ متحدہ کا 2030 ایجنڈا دراصل ایک عالمی عہد ہے جس کے تحت دنیا کے تمام ممالک نے اس بات کا وعدہ کیا کہ وہ انسانی زندگی کے بنیادی مسائل، خصوصاً صحت، تعلیم، غربت اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے۔ اس ایجنڈے کا تیسرا ہدف ” پائیدار ترقی کے اہداف “( SDG-3 )،ہر عمر کے افراد کے لیے صحت مند زندگی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان نے بھی بطور رکن ملک اس ایجنڈے کو اپنایا، قومی سطح پر پالیسیاں بنائیں، صوبائی حکومتوں نے اہداف مقرر کیے اور سرکاری رپورٹس میں پیش رفت کے دعوے کیے گئے۔ مگر جب ان دعوؤں کو عام آدمی کے تجربے اور زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا صحت کا نظام اب بھی 2030 ایجنڈا کی روح سے کافی دور ہے۔
سرکاری دستاویزات اور بین الاقوامی فورمز پر پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں حفاظتی ٹیکہ جات کے دائرہ کار میں کچھ وسعت آئی ہے، زچگی کے دوران اموات کی شرح میں جزوی کمی ہوئی ہے اور پولیو جیسے مرض کے خلاف مہمات جاری ہیں۔ بظاہر یہ سب SDG-3 کی جانب پیش رفت کی علامتیں ہیں، لیکن دوسری جانب غیر متعدی امراض کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح ایک بڑے خطرے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ دل کے امراض، ذیابیطس، کینسر، سانس کی بیماریاں اور ذہنی صحت کے مسائل اب پاکستان میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات بن چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان میں قبل از وقت اموات کی ایک بڑی تعداد انہی بیماریوں سے منسلک ہے، مگر قومی صحت پالیسی میں ان کے تدارک کو وہ ترجیح حاصل نہیں جو ہونی چاہیے۔
پاکستان کا صحت کا ڈھانچہ بنیادی طور پر علاج پر مبنی ہے، یعنی بیماری ہو جائے تو ہسپتال جایا جائے، لیکن بیماری سے پہلے بچاؤ کا تصور کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتال مریضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ بڑے شہروں کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریضوں کی آمد معمول بن چکی ہے، جہاں ایک ڈاکٹر کے پاس چند منٹ سے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان صحت پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا محض 1.3 سے 1.5 فیصد خرچ کرتا ہے، جو نہ صرف عالمی معیار بلکہ جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے بھی کم ہے۔ اس محدود بجٹ میں سے بھی بڑا حصہ ہسپتالوں کے اخراجات، تنخواہوں اور علاج پر صرف ہو جاتا ہے، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر اور پریونشن کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔
فنڈنگ کی کمی کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کا بحران بھی پاکستان کے صحت کے نظام کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعداد آبادی کے تناسب سے ناکافی ہے۔ دیہی علاقوں میں تعینات عملہ اکثر سہولیات کی کمی، کم تنخواہوں اور ناقص سیکیورٹی کے باعث شہروں کا رخ کر لیتا ہے۔ نتیجتاً دیہی آبادی، جو پہلے ہی غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہوتی ہے، معیاری صحت کی سہولت سے مزید محروم ہو جاتی ہے۔ یہ صورتحال SDG-3 کے اس بنیادی اصول کے خلاف ہے جس میں مساوی اور قابلِ رسائی صحت کی سہولت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
پالیسی رپورٹس میں پنجاب اور سندھ کے صحت کے اشاریے نسبتاً بہتر دکھائے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت ان نمبروں سے مختلف ہے۔ پنجاب میں اگرچہ صحت کارڈ اور بڑے ہسپتالوں کی تعمیر جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن دیہی علاقوں کے بنیادی مراکز صحت اب بھی غیر مؤثر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے قصبوں اور دیہات سے لوگ لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ سندھ میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں کئی دیہی مراکز صحت یا تو بند پڑے ہیں یا صرف عمارتوں تک محدود ہیں۔ عملے کی عدم حاضری، ادویات کی قلت اور تشخیصی سہولیات کی کمی کے باعث عام مریض کو بروقت علاج میسر نہیں آتا۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ڈیٹا اور گراؤنڈ ریئلٹی کے درمیان ایک گہرا خلا موجود ہے۔
بین الاقوامی ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو ہسپتالوں پر انحصار کم کر کے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر پرائمری ہیلتھ کیئر، کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، آگاہی مہمات اور بیماری سے بچاؤ کے پروگراموں پر سرمایہ کاری نہ کی گئی تو بیماریوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے گا۔ عالمی بینک بھی اپنی رپورٹس میں اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ صحت پر کم سرمایہ کاری براہِ راست غربت میں اضافے، پیداواری صلاحیت میں کمی اور معاشی سست روی کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان میں صحت پالیسی کا سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا غلط تعین بھی ہے۔ صحت کو اب بھی ایک اخراجاتی شعبہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ جدید دنیا میں اسے سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، ماحولیاتی آلودگی کا کنٹرول، محفوظ ٹرانسپورٹ اور صحت مند طرزِ زندگی جیسے عوامل کو صحت پالیسی کا لازمی حصہ نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں اور علاج پر اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، جو ایک نہ ختم ہونے والا دائرہ بن چکا ہے۔
اگر پاکستان واقعی 2030 ایجنڈا اور SDG-3 کے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے صحت کو قومی ترقی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ اس کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ، پرائمری ہیلتھ کیئر کی بحالی، انسانی وسائل کی بہتری اور بیماری سے بچاؤ پر سنجیدہ توجہ ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہوگا تاکہ پالیسیاں صرف کاغذی کارروائی نہ رہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں حقیقی بہتری لائیں۔ بصورتِ دیگر خدشہ یہی ہے کہ 2030 قریب آ جائے گا، عالمی رپورٹس میں اہداف کا ذکر ہوتا رہے گا، مگر پاکستان کا عام شہری اب بھی بنیادی صحت کی سہولت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا رہے گا۔






































