بنگلا دیش جماعت اسلامی نے 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج قبول کرتے ہوئے ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم مجموعی نتائج قبول کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں، جماعت اسلامی ہمیشہ مستحکم اور مؤثر جمہوری نظام کے لیے پرعزم رہی ہے اور وہ اس موقف پر قائم ہے۔
انہوں نے پارٹی کے رضاکاروں اور حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بعض افراد مایوس ہو سکتے ہیں مگر ان کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں، کیونکہ 77 نشستوں پر کامیابی نے پارٹی کی پارلیمنٹ میں موجودگی کو تقریباً چار گنا بڑھا دیا ہے اور اسے مضبوط اپوزیشن کی قوت بنایا ہے، یہ شکست نہیں بلکہ بنیاد ہے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمن نے یہ بھی کہا کہ سیاسی تقدیر بدل سکتی ہے، جیسا کہ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی 2008 میں صرف 30 نشستوں تک محدود رہی لیکن بعد میں 18 سال بعد حکومت بنائی۔ جمہوری سیاست ایک طویل سفر ہے جس کا مقصد عوام کا اعتماد حاصل کرنا، جواب دہی کو یقینی بنانا اور مستقبل کے لیے ذمہ داری سے تیاری کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیادت کا اصل امتحان صرف انتخابات میں حصہ لینے میں نہیں بلکہ عوام کے فیصلے کو قبول کرنے میں بھی ہوتا ہے۔ جماعت کی تحریک صرف ایک انتخابات کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کو مضبوط بنانے، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے اور ایک جواب دہ ریاست بنانے کے لیے ہے، اور جماعت اصولی اور پرامن اپوزیشن کے طور پر قومی ترقی کے لیے کام کرے گی۔



































