ہر سمت میں ریت ہوا میں اڑ رہی تھی جب فوٹوگرافر کائیل گوٹیسک پوری رفتار سے صحرائے نمیب میں بھاگ رہے تھے۔
وہ اس وقت کچھ لمحات کے لیے رک گئے جب انہوں نے اپنے پیچھے موجود شاک گروپ کو چیخ کر کچھ کہا اور پھر بھاگنا شروع کر دیا۔
اس لمحے میں جانور انہیں قریب سے دیکھ رہے تھے جبکہ چاند کی زرد روشنی کا سایہ پھیلا ہوا تھا۔
یہ کسی ہارر فلم کا اختتام نہیں تھا حالانکہ کیمرے ہر جگہ موجود تھے بلکہ کائیل ایک فوٹوگرافر ہیں جو اپنی زندگی کی سب سے اہم فوٹو کھینچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ سانسیں روک دینے والی تصویر ایک زرافے کی ہے جو ریت کے ایک ٹیلے کے اوپر کھڑا تھے اور اس کے پیچھے ہلکا گلابی چاند موجود تھا۔
جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر پہلے بھی متعدد بہترین تصاویر کھینچ چکے ہیں مگر یہ تصویر لوگوں کو دنگ کر رہی ہے اور وہ اسے حقیقی ماننے کے لیے ہی تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس تصویر کو لوگوں کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘میرے خیال میں تو یہ تعریف ہے کیونکہ اس سے تصویر کی انفرادیت ظاہر ہوتی ہے، یہ اتنی نایاب اور منفرد ہے کہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اسے کیمرے کی آنکھ نے درست لمحے میں محفوظ کرلیا’۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں اے آئی کا کوئی کمال نہیں البتہ خوش قسمتی ضرور فوٹوگرافر کا ساتھ دے رہی تھی۔
کائیل براعظم افریقا کے جنوبی خطوں میں فوٹوگرافرز کو تربیت فراہم کرتے ہیں اور دنیا کے قدیم ترین صحرا میں وہ پورے چاند کی تصویر لینے کے لیے گئے تھے۔
انہیں یہ تو معلوم تھا کہ یہاں زرافے موجود ہوتے ہیں مگر ان کا ارادہ ٹیلے کے اوپر موجود ایک قدیم درخت سے جھانکتے چاند کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کا تھا۔
مگر یہ زرافہ ممکنہ طور پر انسانی شور کو سن کر ٹیلے کے اوپر کھڑا ہوگیا۔
جب کائیل کو احساس ہوا کہ زرافہ اتفاق سے چاند کے بالکل سامنے کھڑا ہوگیا ہے تو انہوں نے کیمرے کو اٹھایا اور تصویر کھینچ لی۔
ویسے انہوں نے قدیم درخت کی تصویر بھی لی جو آپ اوپر دیکھ چکے ہوں گے۔
اسی طرح انہوں نے اسی جگہ ایک اور تصویر بھی لی جس میں 2 زرافے موجود تھے۔


































