بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں واقع مڈل اسکول میں پراسرار طور پر 35 طلبہ کے ہاتھوں پر گہرے زخم کے نشانات ہیں، جس سے عوام کے انتظامیہ کو حیران کردیا ہے جبکہ طلبہ کی جانب سے اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چھتیس گڑھ کے ضلع دھمتری کے علاقے کرود بلاک میں دھمداہا سے ملنے والی ایک خبر نے نہ صرف لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک سنگین سوال بھی کھڑا کردیا ہے جہا ایک یا دو نہیں بلکہ اسکول کے 35 بچوں نے بلیڈ یا کسی نوکیلی چیز سے اپنے ہاتھ کاٹ کر خود کو زخمی کر لیا ہے۔
مڈل اسکول میں پیش آنے والے اس واقعے کی خبر کے بعد پورے گاؤں کے لوگ صدمے اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں تاہم محکمہ صحت کے ڈاکٹروں اور محکمہہ تعلیم کے حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعہ چند ہفتے قبل اس وقت سامنے آیا جب ایک بچے کے والدین نے اس کے ہاتھوں پر زخم دیکھے، جس پر انہیں سخت پریشانی لاحق ہوئی اور جب والدین نے اس حوالے سے بچے سے پوچھا تو انہوں نے وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔
والدین بچے کو اسکول لے گئے، جہاں انہوں نے دیگر طلبہ سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ کئی اور بچوں کے ہاتھوں پر بھی اسی طرح کے زخم موجود تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب تمام بچوں سے انٹرویو کیا گیا تو مجموعی طور پر 35 بچوں کے ہاتھوں پر نوکیلی چیز سے لگے زخم کے نشانات پائے گئے، یہ معلومات والدین اور اسکول انتظامیہ دونوں تک پہنچیں، جس کے بعد اسکول میں ہلچل مچ گئی۔
اسکول انتظامیہ نے بچوں کے والدین کو اجلاس کے لیے طلب کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کم عمر بچے آئندہ اس طرح کے اقدامات نہ دہرائیں دوسری جانب والدین سخت خوفزدہ اور پریشان ہیں کہ آخر بچوں نے اپنے ہاتھ کیوں کاٹے جبکہ بار بار پوچھنے کے باوجود بچے اس کی اصل وجہ بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔
واقعے کے بعد میڈیکل ٹیم، محکمہ تعلیم اور ماہرین نفسیات کی ٹیم نے اسکول میں بچوں اور ان کے والدین کے لیے خصوصی کاؤنسلنگ کا اہتمام کیا اور حکام نے اساتذہ کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ہر بچے کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں جبکہ اسکول انتظامیہ بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ بچوں نے اپنے ہاتھ کیوں زخمی کیے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ صرف ہاتھ کاٹنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اسکول کے تعلیمی نظام اور بچوں کی حفاظت سے متعلق بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور آخر بچے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، فی الحال اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔



































