عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دی گئی۔ پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے آئینی پٹیشن دائر کی۔
پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ محمود خان اچکزئی کی تعیناتی آئین، قانون اور جمہوری تقاضوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کی تعیناتی رول 39 (تین) کی قانونی شرائط پوری نہیں کرتی۔
درخواست میں کہا گیا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے ارکان قومی اسمبلی کی آزادانہ رائے اور دستخطوں کی غیر جانبدارانہ تصدیق کا قانونی تقاضا پورا نہیں ہوا۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل شخص کو بالواسطہ یا بلاواسطہ سیاسی عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی کہ سپیکر کو رول 39 (تین) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا نیا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی جائے۔
عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ حتمی فیصلے تک محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن کے طور پر آئینی عمل میں شرکت سے روکا جائے۔






































