دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا مرض وبا کی طرح پھیل رہا ہے اور اب اس کی اہم وجہ دریافت ہوئی ہے۔
برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ گوشت کی زیادہ مقدار کے استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 34 ہزار زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جو 2003 سے 2016 کے درمیان اکٹھا کیا گیا تھا۔
اس ڈیٹا میں دیکھا گیا تھا کہ غذاؤں کے استعمال اور ذیابیطس کے خطرے میں کیا تعلق موجود ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد زیادہ مقدار میں پراسیس یا بغیر پراسیس کیا گیا سرخ گوشت استعمال کرتے ہیں، ان میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق زیادہ مقدار میں اس گوشت (گائے یا بکرے) کے استعمال سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 49 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ سرخ گوشت کی جگہ دالوں، پھلیوں، گریوں، مرغی کے گوشت، دودھ یا اس سے بنی مصنوعات، چلی اور انڈوں کو دینے سے ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 سے 14 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ اس کے لیے لوگوں کے بینا کردہ ڈیٹا پر انحصار کیا گیا۔
اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سرخ گوشت کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے۔
مگر محققین کے خیال میں سرخ گوشت میں موجود چکنائی سے انسولین کی مزاحمت وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔
اسی طرح سرخ گوشت میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس سے تکسیدی تناؤ بڑھتا ہے اور انسولین بنانے والے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرخ گوشت سے بنے پکوانوں میں اکثر نمک اور نائٹریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ دونوں ہی انسولین کی حساسیت میں کمی کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ 30 برسوں کے دوران ذیابیطس کے شکار افراد کی تعداد دوگنا اضافے سے 80 کروڑ سے زائد ہوگئی ہے اور پاکستان اس مرض سے متاثر چوتھا بڑا ملک ہے۔
کچھ عرصے قبل جرنل لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ 1990 سے 2022 کے دوران دنیا بھر میں بالغ افراد میں ذیایبطس کی شرح 7 سے بڑھ کر 14 فیصد ہوگئی، غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔






































