کیا آپ کو معلوم ہے کہ زیادہ تر ذہین افراد عجیب عادات کے مالک ہوتے ہیں؟
جی ہاں واقعی دنیا تو ان عادات کو عجیب قرار دیتی ہے مگر متعدد تحقیقی رپورٹس میں انہیں زیادہ ذہانت سے منسلک کیا گیا ہے۔
ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں مگر اتنا فرق بھی ہوتا ہے کیا؟
ایسی ہی ایک عجیب عادت جسے سائنس نے ذہانت سے منسلک کیا ہے وہ خود سے باتیں کرنا ہے۔
اگر آپ خود کلامی کے عادی ہیں تو یہ پاگل پن نہیں بلکہ دیگر افراد سے زیادہ ذہین ہونے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
ویسے تو اس رویے کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے مگر ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ اس عادت سے دماغ کو فائدہ ہوتا ہے جیسے یادداشت بہتر ہوہتی ہے، اعتماد بڑھتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔
2012 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خود کلامی کرنے والے افراد تصاویر میں موجود اشیا کو زیادہ تیزی سے شناخت کرلیتے ہیں۔
تو اگر آپ خود کلامی کرنے کے عادی ہیں تو اس پر شرمندہ مت ہوں، یہ عجیب عادت تفصیلات کو تجزیہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کو تیز بنا سکتی ہے۔
2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خود سے باتیں کرنا، چاہے اونچی آواز میں یا ذہن کے اندر، دماغ کی توجہ مرکوز کرنے اور مقاصد کے حصول جیسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے والی عادت ہے۔
محققین نے بتایا کہ خود کلامی سے سے لوگوں کو خود پر کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ وہ اپنے خیالات کو منظم کر پاتے ہیں جس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے جبکہ اقدامات کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
اگر آپ اونچی آواز میں خود سے باتیں کرتے ہیں تو اس سے مقاصد کے حصول میں مزید مدد ملتی ہے۔






































