دنیا بھر میں بہت سے افراد مختلف بینائی کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں جس کی وجہ سے پڑھنے، گاڑی چلانے یا لوگوں کو پہچاننے جیسی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ڈاکٹر عام طور پر نظر کو بہتر بنانے کے لیے عینک تجویز کرتے ہیں تاکہ انسان کی دیکھنے کی صلاحیت اور زندگی کا معیار بہتر ہو سکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بینائی کی کمزوری جیسے قریب یا دور کی نظر کے مسائل میں درست نمبر کی عینک استعمال کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی ضرورت کے مطابق لینز یا عینک استعمال نہ کرے اور غلط نمبر کا چشمہ پہن لے تو اس کے نتیجے میں کئی طرح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
صحت سے متعلق رپورٹ شائع کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق آنکھوں کی بہتر کارکردگی کے لیے دونوں آنکھوں کا باہم ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی ایک یا دونوں آنکھوں میں غلط نمبر کی عینک استعمال کی جائے تو بینائی متاثر ہونے لگتی ہے اور آنکھوں کے مل کر کام کرنے کا قدرتی عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں افراد یا اشیا کو صحیح انداز میں پہچاننے میں مشکل پیش آ سکتی ہے اور بعض اوقات فاصلے یا موجودگی کا اندازہ بھی غلط لگ سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط نمبر کی عینک مسلسل استعمال کرنے سے آنکھوں پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے جس کے باعث آنکھوں کی تھکن، سر درد اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ توجہ میں کمی، کام میں رکاوٹ اور چڑچڑاپن بھی سامنے آ سکتا ہے۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہے تو بینائی مزید کمزور ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ عینک بذاتِ خود بینائی کو براہِ راست خراب نہیں کرتی، لیکن آنکھوں پر مسلسل دباؤ اس عمل کو تیز کر سکتا ہے۔
غلط نمبر کی عینک پہننے والوں کو عموماً آنکھوں کی تھکن کا سامنا رہتا ہے کیونکہ آنکھیں کسی چیز پر فوکس کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ محنت کرنے لگتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے پٹھوں میں مسلسل تناؤ کے باعث سر درد بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ غلط نمبر کی عینک کی وجہ سے نظر دھندلی ہو سکتی ہے جس کے باعث کسی چیز یا شخص کو واضح طور پر دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض افراد کو اس کے نتیجے میں چکر آنے یا عدم توازن کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط نمبر کی عینک کی چند علامات بھی ہوتی ہیں جن سے اس مسئلے کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، دیکھتے وقت ایک یا دونوں آنکھوں کو جزوی طور پر بند کرنا، بار بار سر درد ہونا اور رات کے وقت واضح طور پر نہ دیکھ پانا ایسی علامات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ استعمال کی جانے والی عینک کا نمبر درست نہیں ہے۔
ایسے میں بہتر یہی ہے کہ فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے معائنہ کروا کر درست نمبر کی عینک استعمال کی جائے۔






































