تازہ تر ین

ہمارا جسم ہر 2 گھنٹے میں سانس لینے والے نتھنے کے تبدیل کر دیتا ہے

اگر آپ بیمار نہیں اور ناک کھلی ہے تو ایک گہری سانس لیں اور پھر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ ایک نتھنا ہی سانس کو کھینچتا ہے۔

اس سے پہلے آپ پریشان ہو جائیں یا سوچیں کہ یہ کوئی بیماری تو نہیں، تو جان لیں کہ یہ ہمارے جسم کا معمول کا عمل ہے۔

ایسا دن بھر میں متعدد بار ہوتا ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

ہمارے نتھنے قدرتی طور پر ہوا کے بہاؤ کے لیے کسی ایک میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اسے Nasal سائیکل کہا جاتا ہے، جو ناک کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو ہمارا جسم ہر 2 گھنٹے میں سانس لینے والے نتھنے کے تبدیل کر دیتا ہے۔

البتہ نیند کے دوران ایسا کم ہوتا ہے کیونکہ سانس لینے کی رفتار گھٹ جاتی ہے۔

اس عمل کے دوران ایک نتھنے سے ہوا کا بہاؤ گھٹ جاتا ہے جبکہ مخالف نتھنا کھل جاتا ہے اور زیادہ ہوا وہاں سے گزرنے لگتی ہے۔

اس عمل کے دوران چونکہ وقت کے ساتھ ہوا خشک ہونے لگتی ہے اور جراثیم ناک کے خلیات سے رابطے میں آسکتے ہیں تو کچھ وقت کے بعد سانس لینے والا نتھنا بدل جاتا ہے۔

یہ پورا عمل خودکار ہوتا ہے اور ہمارا دماغ اسے کنٹرول کرتا ہے۔

تحقیقی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ جب دایاں نتھنا سانس لے رہا ہوتا ہے تو جسم زیادہ الرٹ یا تناؤ کی حالت میں ہوتا ہے مگر جب بایاں نتھنا اس کی جگہ سنبھالتا ہے تو جسم زیادہ پرسکون ہو جاتا ہے۔

یہ قدرتی عمل کئی وجوہات کے باعث بہت اہم ہے۔

پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس سے ناک اور نظام تنفس کے نظام کو تحفظ ملتا ہے۔

ہمارے جسم سے روزانہ کم از کم 12 ہزار لیٹر ہوا گزرتی ہے اور یہ قدرتی عمل جراثیموں کے خلاف دفاعی کردار ادا کرتا ہے۔

اسی طرح اس عمل سے ناک کو آرام اور مرمت کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ ناک کی شریانوں میں خون کا بہاؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اس سے نتھنوں کی نمی برقرار رہتی ہے اور مرمت کا عمل تیزی سے مکمل ہوتا ہے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain