امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کئے گئے یکطرفہ حملے بعد تہران کی جوابی کارروائی کے سبب ہندوستان میں گیس سلنڈر کے لیے کہرام مچ گیا ہے۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل یا ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہیں دوسری طرف ملک کے کئی صوبوں میں ایل پی جی سلنڈر کے لیے افراتفری مچی ہوئی ہے۔
اترپردیش کے کانپور، فرخ آباد، اٹاوہ اور اناؤ سمیت کئی اضلاع میں ایل پی جی سلنڈرکی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جہاں لوگ کئی کئی گھنٹے ایجنسی کے باہر لمبی لائن میں لگ کر طویل انتظار کے باوجود خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران فرخ آباد میں گیس لینے کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑے لوگوں کی بھیڑ کے درمیان ایک بزرگ کی موت ہو گئی، جبکہ کانپور میں سلنڈر کے لیے لائن میں کھڑا ایک شخص بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ وہیں گیس سپلائی کرنے والی ایجنسیوں پر افراتفری پھیلی ہوئی ہے، لوگ صبح سے ہی لائنوں میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
اس کے علاوہ پنجاب میں گیس کے لیے مچی افراتفری میں ریاست کے شہر برنالہ کے رہائشی کی بھی موت ہوگئی۔ خبروں کے مطابق شہنا قصبے میں گھریلو گیس سلنڈر بھروانے کے لیے لائن میں کھڑے ایک بزرگ شخص کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق شہنا قصبے کے رہائشی دیوراج متل کے 66 سالہ بیٹے بھوشن کمار متل صبح 5 بجے سے گیس سلنڈر لینے کے لیے لائن میں لگے ہوئے تھے۔ اس موقع پر سلینڈر لینے والوں میں ان نمبر 25 واں تھا۔ اپنی باری کا انتظار کر رہے بھوشن کمار متل کو اچانک دل کا دورہ پڑا اور موقع پر ہی ان کی موت ہو گئی۔ متوفی کے بھتیجے رابن متل نے بتایا کہ اس کے چچا بھوشن کمار سلنڈر بھرانے کے لیے صبح 5 بجے سے گیس ایجنسی کے سامنے لائن میں کھڑے تھے۔ زیادہ دیر تک لائن میں لگنے کی وجہ سے انہیں دل کا دورہ پڑا موقع پر ہی موت ہوگئی۔
اسی طرح اترپردیش کے فرخ آباد میں گیس سلنڈر بک کرانے کے لیے گیس ایجنسی کے باہر لائن میں لگا ایک بزرگ شہری غش کھا کر زمین پر گرگیا۔ موقع پر موجود لوگوں نے سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) دے کر اس کی جان بچانے کی کوشش کی لیکن جب اسے ہوش نہیں آیا تو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ لواحقین نے بتایا کہ گیس ایجنسی میں لائن میں انتظار کرتے ہوئے انہیں دل کا دورہ پڑا تاہم ایجنسی کے منیجر نے ایسے کسی واقعے کی تردید کی۔
وہیں گیس سلینڈر ختم ہونے اور نئی بکنگ نہ ہوپانے سے کونسل کے اسکولوں میں دوپہر کا کھانا (ایم ڈی ایم) اسکیم متاثر ہونے لگی ہے۔ کئی اسکولوں میں گیس سلنڈر ختم ہو چکے ہیں جبکہ کچھ اسکولوں میں باقی سلنڈر صرف چند دن ہی چل پائیں گے۔ اس کی وجہ سے اب کچھ اسکولوں نے لکڑی کے چولہے پر بچوں کے لیے کھانا پکانا شروع کر دیا ہے۔ خبروں کے مطابق گیس ایجنسیوں پر ایل پی جی سلنڈر پہنچنے کے کچھ ہی وقت میں ختم ہو جاتے ہیں۔ لمبی لائنوں میں کھڑے صارفین کوخالی ہاتھ لوٹنا پڑرہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قلت نہیں ہے تو جتنے لوگ لائن میں لگے ہیں، سبھی کو سلنڈر کیوں نہیں دستیاب کرائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صارفین کی تعداد کے مطابق سلنڈر منگواکر تقسیم کروائے۔



































