صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں اچانک بدلتے موسم نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا، جہاں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش اور ژالہ باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا۔ کئی علاقوں میں دن کے وقت ہی اندھیرا چھا گیا اور طوفانی ہواؤں کے باعث معمولات شدید متاثر ہوئے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں مال روڈ، ہال روڈ، جیل روڈ، کینال روڈ، فیروزپور روڈ، گڑھی شاہو، باغبانپورہ اور رائیونڈ روڈ سمیت متعدد علاقوں میں بادل خوب برسے۔ شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 170 سے زائد فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں شہر کے بیشتر حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
بارش کے باعث کرکٹ سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں، جہاں پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان میچ متاثر ہوا جبکہ ایل سی سی اے گراؤنڈ میں ٹیموں کی ٹریننگ بھی روک دی گئی۔
دوسری جانب قصور اور اس کے گردونواح میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی۔ ایک نجی شادی ہال کی دیوار گرنے سے دو معصوم بچے جاں بحق جبکہ پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے۔ اسی طرح کوٹ رادھا کشن روڈ پر تیز ہواؤں کے باعث پٹرول پمپ کی چھت بھی گر گئی، جس سے مزید نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
فیروزوالا، شیخوپورہ، پتوکی اور پاکپتن میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ اوکاڑہ اور گردونواح میں ژالہ باری نے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 5 اپریل تک مزید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔





































