مصنوعی ذہانت ایک جدید اور کامیاب ٹیکنالوجی ہے لیکن اسے بے دریغ استعمال کیا جائے تو یہ گمراہی اور فکری کمزوری کا سبب بن سکتی ہے، تاہم اسے دجالی فتنہ بھی کہا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی پوڈ کاسٹ میں مہمان خصوصی معروف یوٹیوبر محمد علی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے فوائد اور نقصانات پر تفصیلی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک طاقتور اور تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی ہے جس کے فوائد بھی ہیں اور خطرات بھی۔
انہون نے واضح کیا کہ اے آئی کو دجال نہیں کہا جاسکتا لیکن اس میں ایسے عناصر ضرور پائے جاتے ہیں جو دھوکے اور کنفیوژن کو بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کے ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ تنقیدی سوچ کا خاتمہ ہوجائے گا، کیونکہ دجال کو بے شعور اور عقل سے عاری لوگ چایے ہوں گے، اور یہی دجال کے آنے کا وقت ہوگا،
اس کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوگی جو صرف اے آئی سے سوچیں اور ان کے اپنی ذہن مفلوج ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کافی حس تک ہوچکا ہے لیکن محتاط رہیں اور اے آئی کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کریں۔
محمد علی نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دجال سے پہلے فریب کا زمانہ ہوگا، جہاں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سمجھا جائے گا، اس نتاظر میں دیکھا جائے تو اے آئی خاص طور پر ڈیپ فیک ویڈیوز اور آواز کی ہو بہو نقل اس خیال کو تقویت دے رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کچھ مثالوں کے ذریعے بتایا کہ آج کل ایسی ویڈیوز بن رہی ہیں جو بالکل حقیقی لگتی ہیں، جس سے عام انسان کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا ایلون مسک بھی اے آئی کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کرچکے ہیں اور اسے مستقبل میں بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انسان اے آئی پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگے تو اس کی تنقیدی سوچ کمزور ہوسکتی ہے اور وہ ذہنی طور پر سست یا مفلوج ہوسکتا ہے، لہٰذا اے آئی کا استعمال چھوڑنا حل نہیں ہے بلکہ اسے سمجھ کر سیکھ کر اور احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔





































