لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے میڈیکل طلبا سے مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے کے خلاف درخواستوں پر حکم امتناعی میں توسیع کر دی، عدالت نے درخواست گزار طلبا کے پورٹل بند کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دے دیا،درخواست گزار طالبات کے وکیل عبداللہ نے موقف اپنایا کہ طلبا کی جانب سے زائد فیسوں کے خلاف درخواستیں دائر کرنے پر ان کے پورٹل بند کر دئیے گئے ہیں، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یونیورسٹی کے پرنسپل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیتے ہیں، یونیورسٹی کے وکیل نے استدعا کی کہ نوٹس جاری نہ کیا جائے، آئندہ ایسا نہیں ہوگا، عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی طالب علم کا پورٹل بند کرنے کی شکایت موصول ہوئی تو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے گا،درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی نے میڈیکل طلبا کی سالانہ فیس 20 لاکھ روپے مقرر کر رکھی ہے، تاہم مدینہ میڈیکل یونیورسٹی فیصل آباد مقررہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہیں کر رہی اور طلبا سے 26 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کی جا رہی ہے، درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ یونیورسٹی کو مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے سے روکا جائے اور طلبا سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔
