اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اسمبلی کوبتایا گیا کہ پاکستان میں فائیوجی سروسز کے فروغ کے لیے کم قیمت موبائل فونز کی دستیابی یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں پی ٹی اے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان دو اجلاس ہو چکے ہیں،ملک بھر میں 5G سروس کی مکمل فراہمی میں مزید دو سال لگیں گے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران مختلف اراکین کے سوالوں کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی مواصلات سبین غوری نے ایوان کوبتایا کہ فائیوجی ٹیکنالوجی سے متعلق موبائل فونز کی کم از کم قیمت تقریبا 36 ہزار روپے ہے جو عام آدمی کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ ان فونز کی قیمت کم کرکے 15 سے 20 ہزار روپے کی سطح پر لائی جائے تاکہ طلبہ سمیت زیادہ سے زیادہ افراد فائیوجی خدمات سے استفادہ کر سکیں۔ضمنی سوال پرانہوں نے ایوان کوبتایا کہ انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں زیرِ سمندر بین الاقوامی کیبلز میں خرابی اور بعض علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیرونی دنیا سے منسلک کرنے والی سمندری کیبلز میں مختلف مواقع پر خرابی پیدا ہوئی جس سے انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی۔جمعہ کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ ،شرمیلافاروقی اوردیگراراکین کے سوالوں کے جواب میں وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی شذرہ منصب علی خان نے ایوان کوبتایا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد موسمیاتی تبدیلی کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے تاہم وفاقی حکومت پالیسی ضرور بناتی ہے اور اسے صوبوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔اس مقصد کے لیے باقاعدگی سے اجلاس اور مشاورتی فورمز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی سے رہنمائی لیتے ہوئے ہر صوبہ اپنے مخصوص حالات، جغرافیائی خصوصیات اور دیگر ضروریات کے مطابق اپنی پالیسی تشکیل دیتا ہے اور اس میں ضروری تبدیلیاں کرتا ہے، اس لیے اب ہر صوبے کی اپنی پالیسی موجود ہے۔وزیرمملکت نے کہاکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے فضائی آلودگی، پانی کے معیار اور آلودگی کے دیگر ذرائع سے متعلق معیارات مقرر کیے گئے ہیں،اسلام آباد میں آلودگی کے اسباب سے متعلق ایک تحقیق میں ٹریفک کو سب سے بڑا سبب قرار دیا گیاجبکہ دیگر ذرائع کا حصہ نسبتاً کم پایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس، ماربل فیکٹریوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی
