تل ابیب (نیوز ایجنسیاں)اسرائیل میں انتخابات سے قبل ہزاروں افراد نیتن یاہو حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں شہری حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور وزیراعظم نیتن یاہو کیخلاف مظاہرے کیے۔ رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں مظاہرین نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے جڑی نیتن یاہو حکومت کی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔اسرائیلی انتخابات سے صرف 3 روز پہلے اتنے بڑے حکومت مخالف احتجاج کو نیتن یاہو کے خلاف ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دریں اثناء اسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب اسرائیل کی قیادت کے لیے موزوں نہیں رہے۔آئزن کوٹ، جو اپوزیشن جماعت یشار کے سربراہ اور اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف اسٹاف ہیں، نے نیتن یاہو کے حالیہ معاشی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اسرائیل کو عالمی مالیاتی نظام سے دور کرنے کی سمت لے جا رہے ہیں۔ان کے مطابق ایسی پالیسی ملک کی معیشت، قومی سلامتی اور عالمی تعلقات کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کے ممکنہ بین الاقوامی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین پر مبنی متبادل ادائیگیوں کی تیاری کے منصوبے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے طنزیہ طور پر اسے بی بی کوائن قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ عالمی بینکاری نظام سے دوری کی صورت میں اسرائیلی کمپنیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نیتن یاہو
