کراچی(نیوز ایجنسیاں)ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، اشیائے خورونوش کی مہنگائی اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات نے عام آدمی کے لیے معاشی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے ہی محدود آمدنی پر انحصار کرنے والے تنخواہ دار طبقے، دیہاڑی دار مزدوروں، پنشنرز اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔نئے مالی سال 2026ـ27 کے ابتدائی تقریباً چار ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 26.11 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب پاکستان ادارہ شماریات کے ہفتہ وار حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے مطابق 2 جولائی سے 22 اکتوبر 2026 تک 51 ضروری اشیا کے مجموعی قیمتوں کے اشاریے میں 5.81 فیصد اضافہ ہوا۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2 جولائی کو حساس قیمتوں کا اشاریہ 354.24 پوائنٹس تھا، جو 22 اکتوبر تک بڑھ کر 374.84 پوائنٹس ہوگیا۔ اس طرح زیرِ جائزہ مدت کے دوران اشاریے میں 20.60 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ضروری اشیا کی مجموعی قیمتوں میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں مزید 0.65 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح 11.85 فیصد زیادہ رہی۔اعدادوشمار کے مطابق زیرِ جائزہ 51 ضروری اشیا میں سے 19 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 12 اشیا سستی ہوئیں، جبکہ 20 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہفتہ وار بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 22.44 فیصد، مرغی کی قیمت میں 12.20 فیصد، پیاز کی قیمت میں 4.19 فیصد اور آٹے کی قیمت میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف ذاتی سفری اخراجات تک محدود نہیں رہے بلکہ مسافر ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور زرعی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے اشیا کی ترسیل کی لاگت میں اضافے کا خدشہ رہتا ہے، جس کے اثرات بالآخر صارفین کی قوتِ خرید پر پڑ سکتے ہیں۔تاہم مہنگائی کی مجموعی صورتِ حال میں تمام اشیا کی قیمتوں میں یکساں اضافہ نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بعض سبزیوں، دالوں اور انڈوں سمیت مختلف اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جبکہ متعدد اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔مسلسل بڑھتے اخراجات کے تناظر میں کم آمدنی والے طبقات کے لیے گھریلو بجٹ متوازن رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے نے عوام کی مالی مشکلات میں مزید شدت پیدا کردی ہے، جبکہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں استحکام اور قوتِ خرید کا تحفظ عام شہریوں کے لیے اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔
مہنگائی
