اسلام آباد (حبہ عباسی) وفاقی دارالحکومت کے پرسکون تعلیمی اداروں کے گرد کنٹرولڈ ادویات کی غیر قانونی فراہمی اور معصوم بچوں کے حقوق کی بدترین پامالی کا ایک ہولناک اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور سرکردہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور سخت ترین قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے محافظوں نے ریاست کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں سوہان اور بھارہ کہو میں اعصابی درد کی انتہائی نشہ آور دوا ‘پریگابلن’ کسی بھی میڈیکل سٹور سے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر سرِعام فروخت کی جا رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک سچ یہ سامنے آیا ہے کہ سکول جانے والے معصوم بچوں تک اس زہر کو پہنچانے کے لیے پیزا اور برگر کی آن لائن ہوم ڈیلیوری کے روپ میں ایک باقاعدہ نیٹ ورک کام کر رہا ہے جو ڈلیوری بوائز کے بھیس میں بچوں کے ہوم ورک بیگز تک اس نشے کی سپلائی یقینی بنا رہا ہے۔ حقوقِ انسانی کے ماہرین کے مطابق یہ بھیانک صورتحال ریاست کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے عالمی معاہدوں کی پاسداری میں ایک تشویشناک اور مجرمانہ ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر قومی بحرانوں کی طرح بیوروکریسی کی یہ غفلت بھی عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے کیونکہ پاکستان اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کا دستخط کنندہ ہے جس کے تحت حکومت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ آرٹیکل 6 (حقِ زندگی)، آرٹیکل 24 بہترین صحت اور آرٹیکل 33 منشیات سے تحفظ) کے تحت معصوم بچوں کو ان مہلک خطرات سے بچائیں اور ان کی زندگی کا تحفظ یقینی بنائیں۔ ایک حالیہ خفیہ انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق، سوہان اور بھارہ کہو کے سکولوں اور کالجوں کے قریبی فارمیسیوں پر اس دوا کی بلیک مارکیٹ سیل میں گزشتہ چند ماہ کے دوران 150 فیصد سے زائد کا پراسرار اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ڈیجیٹل ایپلی کیشنز اور خفیہ کوڈ ورڈز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے وفاقی وزارتِ صحت، انسدادِ منشیات فورس اور مقامی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی سست روی کو چھوڑ کر پاکستان پینل کوڈ اور ڈرگ ایکٹ کے تحت اس سپلائی چین کے پیچھے چھپے بڑے مافیاز کے خلاف سخت ترین فوجداری مقدمات درج کر کے فوری عدالتی کارروائی کا آغاز کریں، ورنہ وفاق کی ناک کے نیچے کام کرنے والا یہ بلیک مارکیٹ مافیا کروڑوں روپے کمانے کے چکر میں اسلام آباد کی پوری نوجوان نسل کو مستقل ذہنی اور جسمانی معذوری کی دلدل میں دھکیل دے گا۔
