گوجرخان(بیورو رپورٹ)سابق رکن قومی اسمبلی و وفاقی پارلیمانی سیکرٹری راجہ محمد جاوید اخلاص، مسلم لیگ (ن) کے تحصیل صدر راجہ حمیدایڈووکیٹ اور سٹی صدر سید ندیم بخاری نے بلدیہ گوجرخان کے مالی و انتظامی معاملات کی جامع تحقیقات اور گزشتہ پانچ سال کا خصوصی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سالہ آڈٹ میں سامنے آنے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوایا جائے تاکہ سرکاری فنڈز کے استعمال، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس وصولیوں اور مختلف ادائیگیوں کے حوالے سے حقائق سامنے آسکیں۔لیگی رہنماں نے کہا کہ گوجرخان کے شہری پینے کے پانی کی قلت جیسے بنیادی مسئلے سے دوچار ہیں، جبکہ بلدیہ کے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عوامی وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوٹیشن کے ذریعے مکمل کیے گئے مبینہ منصوبوں، مشکوک بلوں اور ادائیگیوں کی جانچ پڑتال کے ساتھ ہر ترقیاتی کام کی موقع پر تصدیق کرائی جائے اور بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر ذمہ داروں سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی کی جائے۔انہوں نے بورڈ ٹیکس کی وصولیوں، پانی کے بلوں کی مبینہ جعلی رسیدوں اور کمرشل پلازوں کے نقشوں کی منظوری کے بغیر تعمیرات سے متعلق الزامات کی تحقیقات پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کمرشل عمارتوں کے مالکان سے وصول کی جانے والی رقوم سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئیں یا نہیں اور متعلقہ محکموں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی غفلت تو نہیں برتی۔راجہ محمد جاوید اخلاص، راجہ حمید ایڈووکیٹ اور سید ندیم بخاری نے پارکس اسکیم میں سرکاری سامان اور فنڈز کے استعمال، ٹیوب ویلز کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی، مرمتی کاموں اور ٹھیکوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے تعمیر شدہ منصوبوں پر دوبارہ ٹینڈر جاری کرکے ادائیگیاں کیے جانے کے الزامات اور پرانے ماسٹر پلان کی تجدید کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اسی طرح یوم آزادی سمیت دیگر سرکاری تقریبات پر ہونے والے اخراجات کا ریکارڈ بھی جانچا جائے تاکہ سرکاری رقوم کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔لیگی رہنماں نے حکومت پنجاب اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلدیہ گوجرخان کے گزشتہ کم از کم پانچ سال کے مالی ریکارڈ، ترقیاتی منصوبوں، ٹینڈرز، ٹیکس وصولیوں، سرکاری ادائیگیوں اور دیگر اخراجات کا جامع آڈٹ کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک سال کے آڈٹ تک محدود رہنے کے بجائے تمام متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے تاکہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نوعیت اور قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا تعین ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔
