اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اورچیئرمین تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان پر ممکنہ طورپر دہشتگرد حملے کاشدید خطرہ ہے۔وزارتِ داخلہ کے ایک سینئیراہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ”ہمیں مختلف انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے رہنما اور ان کے خاندان پرممکنہ طورپر دہشتگرد حملے ہوسکتے ہیں۔“ ایک بڑی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے ملنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیاگیاہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نواز شریف اور شہباز شریف کی فیملی کونشانہ بنا سکتی ہے۔“ جب ہم نے پوچھا کہ کیا نواز شریف اور شہباز شریف کو بھی خطرہ ہے؟ توذرائع کا جواب تھا ”بےشک“۔ وفاقی وزارتِ داخلہ اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے کئی بار دعویٰ کیاہے کہ انھوں نے ٹی ٹی پی کا نیٹ ورک اور انفراسٹرکچرملک سے ختم کردیاہے اور اب دہشتگر ملک سے فرارہورہے ہیں۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں آپریشنز کے بعد یہ کالعدم تنظیم افغانستان میں چھپ گئی ہے۔ رپورٹس سے ظاہر ہوتاہے کہ کالعدم جماعت کا امیر ملافضل اللہ حالیہ برسوں میں ظالم ترین دہشتگرد کے طور پر سامنے آیاہے، اس نے پشاور میں 16دسمبر2014کو آرمی پبلک سکول پرحملے کا حکم دیاتھا، حملے میں 156بے گناہ بچے شہید ہوئے تھے۔
